بلیو ٹک
باپ کی میت گھر کے صحن میں رکھی تھی۔بیٹا ایک کونے میں کھڑا موبائل پر مسلسل مصروف تھا۔”جی… نمازِ جنازہ چار بجے ہے۔””جی، لوکیشن واٹس ایپ کر دی ہے۔”
“ہاں پوسٹ بھی لگا دی ہے… سب کو خبر ہو جائے گی۔
“غسل دینے والے نے آہستہ سے کہا”بیٹا اپنے والد کا فون لے لو یہ ان کی جیب میں تھا ۔”
اس نے فون آن کیا۔اسکرین روشن ہوئی وٹس ایپ کھلا ہوا تھا۔سب سے اوپر اسی کا نام تھا۔آخری بھیجا گیا پیغام تین ماہ پرانا تھا۔”ابومصروف ہوں… بعد میں بات کرتا ہوں۔”اس کے نیچے باپ کے کئی پیغامات تھے۔”بیٹا طبیعت کچھ ٹھیک نہیں…””وقت ملے تو ایک کال کر لینا…””آج تمہاری بہت یاد آئی…”اور آخری پیغام…”خیریت ہے نا؟”اس کے ساتھ صرف ایک سرمئی ✔ نشان تھا۔وہ کبھی دو نشان نہ بن سکا۔بیٹے نے لرزتے ہاتھوں سے اس چیٹ کو اوپر تک کھولا۔پھر پہلی بار اس نے فون بند نہیں کیا…اپنا سر جھکا لیا۔کیونکہ بعض پیغامات کا جواب انسان نہیں دیتا…وقت دے دیتا ہے۔
-
رشنا اختر ایک بہترین لکھاری ہیں ۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی سوشل میڈیا انچارج اور مظفر گڑھ سے صدر ہیں ۔ گاہے بگاہے لکھتی رہتی ہیں اور انٹرویوز بھی کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
