خصوصی ادبی انٹرویو
ادب محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ زندگی کے مشاہدات، انسانی جذبات، معاشرتی رویوں اور عہد کی حقیقتوں کو محسوس کرنے اور انہیں تخلیقی انداز میں بیان کرنے کا نام ہے۔ ایک سچا قلم کار اپنے گردوپیش سے آنکھیں نہیں چراتا بلکہ اپنے قلم کے ذریعے ان احساسات اور مسائل کو آواز دیتا ہے جو معاشرے میں اکثر خاموش رہ جاتے ہیں۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ کے اس خصوصی سلسلے میں آج ہماری ملاقات ایک ایسے تخلیق کار سے ہے جو بیک وقت شاعر، افسانہ نگار، بچوں کے ادیب اور صحافی کی حیثیت سے طویل عرصے سے ادبی و صحافتی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ ان کی شخصیت میں لاہور کی زندہ دلی، صحافت کا مشاہدہ اور ادب کی حساسیت ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔
آج کی اس خصوصی نشست میں ہم شہباز اکبر اُلفت سے ان کے ادبی سفر، شاعری، افسانہ نگاری، بچوں کے ادب، محبت، سچائی، معاشرتی ذمہ داری اور اردو ادب کے موجودہ منظرنامے سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کریں گے۔
رشنا اختر:
شہباز اکبر اُلفت صاحب! سب سے پہلے اپنے قارئین سے اپنا تعارف کروائیے اور اپنے ادبی سفر کے ابتدائی دنوں کے بارے میں بتائیے۔
شہباز اکبر اُلفت:
میرا نام شہباز علی ہے اور ادبی دنیا میں شہباز اکبر اُلفت کے نام سے لکھتا ہوں۔ بنیادی طور پر میں شاعر، افسانہ نگار اور بچوں کا ادیب ہوں۔ صحافت سے بھی ایک طویل عرصے سے وابستہ ہوں اور تقریباً تین دہائیوں سے اخبارات اور عوامی مسائل سے متعلق صحافتی سرگرمیوں کا حصہ رہا ہوں۔
میں ایک پکا لاہوری ہوں؛ لاہور میرے لیے صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ میری طبیعت، زبان، مزاج اور تخلیقی رویے کا بھی حصہ ہے۔ شاید اسی لیے میرے اندر زندگی کو قدرے بے تکلف، زندہ دل اور کبھی کبھی جملے بازی کے انداز میں دیکھنے کی عادت پیدا ہوئی۔
میرا ادبی سفر بہت کم عمری میں شروع ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ سات آٹھ برس کی عمر میں شعر کہنے کی کوشش کرتا تھا۔ میرے بڑے بھائی مخدوم اشفاق اکبر اسد نے میری ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں 1989ء میں میری پہلی کہانی روزنامہ جنگ لاہور کے جمعہ میگزین میں شائع ہوئی۔ بچوں کے لیے باقاعدہ لکھنے کا سلسلہ 1993ء میں شروع ہوا اور میری پہلی بچوں کی کہانی “اف یہ شاعری” 7 اپریل 1993ء کو شائع ہوئی۔
یوں میرے لیے ادب کوئی اچانک اختیار کیا ہوا پیشہ نہیں، بلکہ بچپن سے زندگی کے ساتھ چلنے والا ایک سفر ہے۔
رشنا اختر:
ادب سے آپ کا تعلق کب اور کیسے قائم ہوا؟ کیا لکھنے کی طرف آنے کے پیچھے کوئی خاص شخصیت، واقعہ یا تجربہ تھا؟
شہباز اکبر اُلفت:
ادب سے میرا تعلق دراصل شعور سے بھی پہلے کا محسوس ہوتا ہے۔ بچپن میں ہی لفظوں، کہانیوں اور شاعری سے ایک غیر معمولی کشش پیدا ہوگئی تھی۔ ابتدا میں شعر محض ایک کھیل یا اظہار کا ذریعہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہی شوق سنجیدہ ادبی وابستگی میں تبدیل ہوگیا۔
میرے بڑے بھائی مخدوم اشفاق اکبر اسد میرے لیے اہم ادبی رہنما رہے۔ ان کی صحبت نے لفظ کی قدر، شعر کی نزاکت اور اظہار کی ذمہ داری سمجھنے میں مدد دی۔
اس کے ساتھ ساتھ زندگی خود میری سب سے بڑی استاد رہی ہے۔ صحافت نے مجھے معاشرے کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔ عام آدمی کے مسائل، رشتوں کی پیچیدگیاں، محرومیاں، محبتیں، ناانصافیاں اور انسانی رویے—یہ سب میرے لیے مسلسل مشاہدے کا مواد بنتے رہے ہیں۔
رشنا اختر:
آپ شاعر، افسانہ نگار اور بچوں کے ادیب ہیں۔ ان تینوں حوالوں میں سے آپ کے دل کے سب سے قریب کون سا حوالہ ہے اور کیوں؟
شہباز اکبر اُلفت:
یہ سوال میرے لیے کچھ مشکل ہے، کیونکہ تینوں اصناف میرے اندر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم اگر مجھے ایک حوالہ منتخب کرنا پڑے تو شاید شاعری میرے دل کے قدرے قریب ہے۔
شاعری میرے لیے جذبات کے فوری اور بے ساختہ اظہار کا نام ہے۔ ایک کیفیت کبھی ایک شعر میں پوری کہانی کہہ دیتی ہے۔ دوسری طرف افسانہ مجھے کرداروں اور واقعات کے ذریعے زندگی کی گہرائیوں میں اترنے کا موقع دیتا ہے، جبکہ بچوں کا ادب مجھے اپنی معصومیت سے دوبارہ ملاتا ہے۔
شاید اسی لیے میں ان تینوں میں سے کسی ایک کو چھوڑنے کا تصور نہیں کر سکتا۔
رشنا اختر:
آپ کی پروفائل پر “محبت سچ بیانی ہے” جیسا خوبصورت جملہ درج ہے۔ آپ کے نزدیک محبت اور سچائی کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
شہباز اکبر اُلفت:
میرے نزدیک محبت محض ایک خوبصورت جذبے کا نام نہیں، بلکہ انسان کو سچا بنانے والی کیفیت ہے۔ جہاں محبت حقیقی ہو وہاں دکھاوا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔
“محبت سچ بیانی ہے” میرے لیے ایک ادبی جملہ ہی نہیں بلکہ ایک فکری تصور بھی ہے۔ محبت انسان کو دوسرے انسان کے دکھ، کمزوری اور حقیقت کو قبول کرنا سکھاتی ہے۔ اگر محبت میں سچ نہیں تو وہ صرف تعلق کا نام رہ جاتی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ محبت انسان کو اپنے بارے میں بھی سچ بولنے پر مجبور کرتی ہے۔
رشنا اختر:
افسانہ لکھتے ہوئے آپ موضوع کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟ کیا آپ کے کردار حقیقی زندگی سے متاثر ہوتے ہیں؟
شہباز اکبر اُلفت:
میرے لیے افسانے کا موضوع عموماً کہیں باہر سے تلاش کرکے لایا ہوا موضوع نہیں ہوتا۔ زندگی خود بہت سے موضوعات ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے۔ کوئی واقعہ، کوئی شخص، کوئی جملہ، کوئی رویہ یا کبھی محض ایک منظر ذہن میں کہانی کا بیج ڈال دیتا ہے۔
میرے کردار یقیناً حقیقی زندگی سے متاثر ہوتے ہیں، لیکن میں کسی حقیقی شخص کو جوں کا توں افسانوی کردار نہیں بناتا۔ مشاہدے کو تخیل، تجربے اور فنی ضرورت کے ساتھ ملا کر ایک نیا کردار تشکیل پاتا ہے۔
میرے نزدیک افسانہ حقیقت کی نقل نہیں بلکہ حقیقت کی تخلیقی تعبیر ہے۔
رشنا اختر:
آپ کے نزدیک ایک کامیاب افسانے کے لیے کہانی، کردار، مکالمہ اور اختتام میں سب سے زیادہ اہم کیا ہے؟
شہباز اکبر اُلفت:
میرے خیال میں ان میں سے کسی ایک کو الگ کرکے سب سے اہم قرار دینا مناسب نہیں۔ اچھا افسانہ ایک مکمل اکائی ہوتا ہے۔
کہانی میں کشش ہو، کردار زندہ محسوس ہوں، مکالمے فطری ہوں اور اختتام قاری کو سوچنے پر مجبور کرے تو افسانہ اپنا اثر چھوڑتا ہے۔
میں افسانے میں غیر ضروری پیچیدگی کے بجائے منطق، انسانی نفسیات اور تاثر کو اہم سمجھتا ہوں۔
البتہ میرے لیے کردار کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ اگر کردار مصنوعی ہوں تو بہترین پلاٹ بھی بے جان محسوس ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اختتام صرف چونکا دینے کے لیے نہیں ہونا چاہیے؛ اسے پوری کہانی کے منطقی سفر کا نتیجہ ہونا چاہیے۔
رشنا اختر:
شاعری میں آپ کن موضوعات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں؟ کیا آپ کے نزدیک شاعر کو اپنے عہد کے مسائل پر بھی بات کرنی چاہیے؟
شہباز اکبر اُلفت:
محبت، انسانی رشتے، تنہائی، معاشرتی رویے، زندگی کی تلخیاں، امید، محرومی اور انسان کی داخلی کیفیات میرے پسندیدہ موضوعات میں شامل ہیں۔
میرے نزدیک شاعر اپنے عہد سے الگ نہیں رہ سکتا۔ اگر وہ اپنے اردگرد کی دنیا کو محسوس کرتا ہے تو اس کے عہد کے مسائل کسی نہ کسی صورت میں اس کی شاعری میں ضرور آتے ہیں۔
لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ شاعری کو محض نعرہ نہیں بننا چاہیے۔ شاعر اگر سماجی مسئلے پر بات کرے تو اسے فن، احساس اور جمالیات کے ساتھ شعر میں ڈھالنا چاہیے۔
رشنا اختر:
آپ بچوں کے لیے بھی لکھتے ہیں۔ بچوں کے ادب کو آپ موجودہ دور میں کس نظر سے دیکھتے ہیں، اور اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے کیا ضروری ہے؟
شہباز اکبر اُلفت:
بچوں کا ادب میرے نزدیک ادب کی انتہائی اہم صنف ہے، کیونکہ ہم صرف موجودہ قاری کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے انسان کے لیے لکھ رہے ہوتے ہیں۔
آج بچوں کی دنیا بہت تبدیل ہوچکی ہے۔ ان کے سوالات، دلچسپیاں اور معلومات کا دائرہ پہلے سے کہیں وسیع ہے۔ اس لیے بچوں کو محض نصیحتیں سنانے والا ادب شاید ان کی توجہ زیادہ دیر قائم نہ رکھ سکے۔
ہمیں ایسا ادب چاہیے جس میں کہانی، تخیل، مزاح، تجسس، جذبات اور زندگی کی حقیقتیں موجود ہوں۔ بچے کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ اسے لیکچر دیا جا رہا ہے۔
رشنا اختر:
آج کے بچے موبائل اور سوشل میڈیا کی دنیا میں زیادہ مصروف ہیں۔ انہیں کتاب اور مطالعے کی طرف واپس لانے کے لیے والدین، اساتذہ اور ادیب کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
شہباز اکبر اُلفت:
بچوں کو موبائل سے مکمل طور پر دور کرنا شاید آج کے زمانے میں عملی حل نہیں۔ ہمیں ٹیکنالوجی سے جنگ کرنے کے بجائے اسے سمجھنا ہوگا۔
والدین خود مطالعے کی عادت اپنائیں، گھر میں کتاب کو معمول کا حصہ بنائیں اور بچوں پر صرف یہ حکم نہ لگائیں کہ “کتاب پڑھو” بلکہ خود بھی کتاب پڑھیں۔
اساتذہ کتاب کو امتحان کی چیز بنانے کے بجائے لطف اور دریافت کا ذریعہ بنائیں۔ اور ادیبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ادب تخلیق کریں جس کے مقابلے میں موبائل کی کشش بھی کم محسوس ہو۔
شاید آج ہمیں کتاب کو موبائل کا مخالف نہیں بلکہ موبائل کے ساتھ ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
رشنا اختر:
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اپنی تحریر قارئین تک پہنچانے کا موقع دیا ہے۔ آپ کے خیال میں اس سے اردو ادب کو فائدہ ہوا ہے یا ادبی معیار متاثر ہوا ہے؟
شہباز اکبر اُلفت:
سوشل میڈیا نے اردو ادب کو ایک بہت بڑا نیا میدان دیا ہے۔ پہلے کسی لکھنے والے کو اپنی تحریر شائع کروانے کے لیے اداروں، رسائل یا اخبارات کے دروازوں پر جانا پڑتا تھا۔ آج ایک اچھا شعر یا اچھی تحریر چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ایک مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے کہ ہر مقبول تحریر لازماً معیاری تحریر نہیں ہوتی۔
سوشل میڈیا نے رسائی آسان کردی ہے، معیار کی ضمانت نہیں دی۔ اب یہ لکھنے والے اور قاری دونوں کی ذمہ داری ہے کہ مقبولیت اور ادب کے معیار میں فرق کو سمجھیں۔
رشنا اختر:
موجودہ اردو ادب کے منظرنامے میں آپ کو کون سی مثبت تبدیلیاں نظر آتی ہیں اور کن پہلوؤں پر تشویش محسوس ہوتی ہے؟
شہباز اکبر اُلفت:
مثبت تبدیلی یہ ہے کہ اظہار کے مواقع بہت بڑھ گئے ہیں۔ نوجوان لکھ رہے ہیں، نئے موضوعات سامنے آرہے ہیں، خواتین کی ادبی آواز زیادہ نمایاں ہے اور سوشل میڈیا نے جغرافیائی فاصلے کم کردیئے ہیں۔
تشویش مجھے وہاں محسوس ہوتی ہے جہاں مطالعے کی جگہ فوری مقبولیت، تحقیق کی جگہ نقل اور ادبی تربیت کی جگہ محض فالوورز لے لیتے ہیں۔
ہمیں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے اور انہیں تنقید، مطالعے اور فنی تربیت کی طرف بھی لے جانا چاہیے۔
رشنا اختر:
وہ کون سے شاعر یا ادیب ہیں جنہوں نے آپ کی فکری اور تخلیقی شخصیت کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟ اور ان کی کون سی خوبی آپ کو پسند ہے؟
شہباز اکبر اُلفت:
ادبی اثرات کے حوالے سے میں کسی ایک شاعر یا ادیب تک محدود نہیں ہوں۔ مختلف ادوار کے شاعروں اور افسانہ نگاروں نے مختلف انداز سے متاثر کیا ہے۔
میرے لیے بڑے ادیبوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی کو سطحی انداز میں نہیں دیکھتے۔ میں ایسی تحریر پسند کرتا ہوں جس میں سادگی کے اندر گہرائی، زبان میں روانی اور خیال میں تازگی ہو۔
البتہ میرے ادبی سفر میں میرے بڑے بھائی مخدوم اشفاق اکبر اسد کا مقام الگ ہے، کیونکہ ان کا تعلق صرف مطالعے سے نہیں بلکہ میری ابتدائی ادبی تربیت سے بھی ہے۔
رشنا اختر:
ایک ادیب کی معاشرے کے حوالے سے کیا ذمہ داری ہونی چاہیے؟ کیا قلم کو معاشرتی ناانصافیوں اور تلخ حقیقتوں کے خلاف آواز بننا چاہیے؟
شہباز اکبر اُلفت:
میرے خیال میں ادیب معاشرے سے الگ کوئی مخلوق نہیں۔ وہ اسی معاشرے میں رہتا، دیکھتا، محسوس کرتا اور لکھتا ہے۔ اس لیے معاشرتی ناانصافیوں سے آنکھیں بند کرکے لکھنا میرے نزدیک مکمل ادبی رویہ نہیں۔
قلم کو آواز ضرور بننا چاہیے، مگر اس آواز میں فن بھی ہونا چاہیے۔ ادیب کا کام صرف احتجاج کرنا نہیں بلکہ انسان کو سوچنے، سوال کرنے اور محسوس کرنے پر مجبور کرنا بھی ہے۔
ایک اچھا ادیب شاید وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب دے، بلکہ وہ بھی ہے جو معاشرے کے سامنے صحیح سوال رکھ دے۔
رشنا اختر:
International Union of Writers جیسے عالمی ادبی پلیٹ فارم کو پاکستانی اور اردو ادب کے فروغ کے لیے کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
شہباز اکبر اُلفت:
ایسے عالمی پلیٹ فارم اردو اور پاکستانی ادب کے لیے بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلے مختلف زبانوں اور ملکوں کے ادیبوں کے درمیان رابطہ مضبوط ہونا چاہیے۔
اردو ادب کی عالمی سطح پر نمائندگی صرف اردو میں نہیں بلکہ ترجمے کے ذریعے بھی ہونی چاہیے۔ ہمارے شاعروں، افسانہ نگاروں اور بچوں کے ادیبوں کے کام کو دوسری زبانوں میں اور دوسری زبانوں کے ادب کو اردو میں لانے کے لیے باقاعدہ منصوبے ہونے چاہئیں۔
اس کے ساتھ نوجوان لکھنے والوں کے لیے عالمی سطح کی ادبی نشستیں، تربیتی پروگرام، مشترکہ منصوبے اور ادبی مکالمے بھی ضروری ہیں۔
میری خواہش ہے کہ پاکستان کا ادب صرف پاکستان میں پڑھا جانے والا ادب نہ رہے بلکہ دنیا کے ادبی منظرنامے میں بھی اپنی شناخت کے ساتھ موجود ہو۔
رشنا اختر:
آخر میں نئے لکھنے والوں اور نوجوان نسل کے نام آپ کا کیا پیغام ہے، اور اپنے آنے والے ادبی منصوبوں کے بارے میں قارئین کو کیا بتانا چاہیں گے؟
شہباز اکبر اُلفت:
نئے لکھنے والوں سے میری پہلی گزارش ہے کہ جلدی میں بڑا ادیب بننے کی کوشش نہ کریں، پہلے اچھا قاری بنیں۔
مطالعہ کریں، اپنے اردگرد کی زندگی کو دیکھیں، لوگوں کو سنیں، سوال کریں اور اپنی ذات کے تجربات سے خوف زدہ نہ ہوں۔ سوشل میڈیا پر لائکس اور ویوز کو ادب کا معیار نہ سمجھیں۔ مقبولیت اچھی چیز ہے، مگر تخلیقی معیار اس سے کہیں بڑی چیز ہے۔
میں خود بھی شاعری اور افسانے کے ساتھ بچوں کے ادب میں کام جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ میری شائع شدہ کتابوں میں شعری مجموعہ “محبت سچ بیانی ہے” اور افسانوی مجموعہ “کہانی کار” شامل ہیں، جبکہ بچوں کے لیے بھی میری کہانیوں کا پاکٹ سائز مجموعہ “سرخ قلعے کا خونخوار” موجود ہے۔ مستقبل میں مزید افسانے، شاعری اور بچوں کے لیے نئے کام قارئین تک پہنچانے کا ارادہ ہے۔
میری کوشش یہی ہے کہ جو کچھ لکھوں، اس میں میری اپنی آواز سنائی دے۔
رشنا اختر:
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے لیے کچھ کہنا چاہیں گے؟
شہباز اکبر اُلفت:
میں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کا شکر گزار ہوں کہ اس نے ادب اور ادیبوں کے درمیان مکالمے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ میرا یقین ہے کہ دنیا میں اختلافات بہت ہیں، مگر ادب انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میری خواہش ہے کہ یہ پلیٹ فارم صرف ادیبوں کو ایک جگہ جمع کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ ادبی رابطے، ترجمے، تحقیق، نوجوان لکھنے والوں کی تربیت اور مختلف زبانوں کے ادب کے باہمی تعارف کا مستقل ذریعہ بنے۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا:
“لفظ اگر سچا ہو تو وہ سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ اور اگر اس لفظ میں محبت شامل ہو تو وہ انسان سے انسان تک ضرور پہنچتا ہے۔”
رشنا اختر:
شہباز اکبر اُلفت صاحب! انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ کے لیے اس خصوصی نشست میں اپنے ادبی سفر، تخلیقی تجربات، فکری نظریات اور ادب کے حوالے سے اپنے خوبصورت خیالات ہمارے قارئین کے ساتھ شیئر کرنے پر ہم آپ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
آپ کی گفتگو میں ایک ایسے قلم کار کی آواز سنائی دیتی ہے جو ادب کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کو سمجھنے، محسوس کرنے اور معاشرے سے مکالمہ کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ شاعری، افسانہ، بچوں کا ادب اور صحافت—ان تمام شعبوں میں آپ کی طویل وابستگی آپ کے تخلیقی سفر کو ایک منفرد وسعت عطا کرتی ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی جانب سے شہباز اکبر اُلفت صاحب کے لیے نیک تمنائیں۔
دعا ہے کہ آپ کا قلم اسی طرح محبت، سچائی، انسانی احساس اور معاشرتی شعور کو الفاظ عطا کرتا رہے اور آپ کی تخلیقات اردو ادب کے قارئین کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے لیے بھی ایک خوبصورت ادبی سرمایہ بنتی رہیں۔
میزبان: رشنا اختر
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز
