پسینہ پہیہ اور پرچم

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

پسینہ پہیہ اور پرچم

یکم مئی کا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو وہ صرف ایک نئی صبح کا پیغام نہیں لاتا، بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں محنت کشوں کے اس عزم کی یاد دلاتا ہے جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا تھا۔ یومِ مزدور محض ایک رسمی تعطیل یا جلسے جلوسوں کا نام نہیں، بلکہ یہ اس “خالقِ تخلیق” کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جس کے ہاتھ کی جنبش سے مشینوں کے پہیے گھومتے ہیں اور جس کے ماتھے کے پسینے سے تہذیبوں کی بنیادیں سیراب ہوتی ہیں۔

تاریخی پس منظر اور شکاگو کے شہداء

اس دن کی جڑیں 1886 کے شکاگو کے اس احتجاج میں پیوست ہیں جہاں مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار اور بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کیا۔ وہ احتجاج اگرچہ لہو میں نہلا دیا گیا، مگر اس نے دنیا بھر کے محنت کشوں کو ایک نئی زبان دی۔ آج ہم جس آٹھ گھنٹے کی شفٹ اور ہفتہ وار تعطیل کا فائدہ اٹھاتے ہیں، یہ ان گمنام مزدوروں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔

مزدور کائنات کا حسن

کائنات کا سارا حسن ان ہاتھوں کے مرہونِ منت ہے جن پر مشقت کے نشانات ثبت ہیں۔ علامہ اقبال نے مزدور کی اسی عظمت کو پہچانتے ہوئے فرمایا تھا

کاسہِ دستِ گداگر ہے یہ پیمانہِ جم
اے جوانِ باہمت! ہے تیری محنت میں کیمیا
مزدور وہ ہے جو بنجر زمینوں کو گلستان بناتا ہے، جو پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے راستے نکالتا ہے اور جو تپتی دوپہروں میں دوسروں کے لیے ٹھنڈی چھتیں تعمیر کرتا ہے۔

عہدِ حاضر کے چیلنجز

آج جب ہم اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں، مزدور کی حالت اب بھی سوالیہ نشان ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک عام محنت کش کے لیے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کا خواب دیکھنا بھی کسی کٹھن امتحان سے کم نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی چکی میں پستا ہوا یہ طبقہ آج بھی اپنے جائز حقوق، طبی سہولیات اور بڑھاپے کے سہارے کے لیے کوشاں ہے۔
مزدور کی حالتِ زار پر کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا

سو جاتا ہے فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتا

یومِ مزدور ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم “محنت کی عظمت” کو صرف لفظوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے معاشرتی رویوں میں شامل کریں۔ اسلام نے مزدور کی مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دے کر اس کی اہمیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔
آئیے اس دن کی مناسبت سے یہ عہد کریں کہ ہم اپنے اردگرد موجود ہر اس ہاتھ کو عزت دیں گے جو محنت کی کمائی سے اپنا پیٹ پالتا ہے۔ جس دن معاشرے میں ایک “مزدور” اور ایک “مالک” کے انسانی حقوق برابر ہو جائیں گے، وہی اصل معنوں میں یومِ مزدور کی فتح کا دن ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *