⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
نعروں سے آگے، عمل کی پکار
ہر سال یکم مئی آتا ہے، تقاریر ہوتی ہیں، بینر لگتے ہیں، اور پھر سب کچھ ویسا ہی رہ جاتا ہے جیسا پہلے تھا۔یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ساری دنیا میں افیشل چھٹی منائی جاتی ہے مگر وہ مزدور جس کا یہ دن ہوتا ہے وہ اس دن بھی اپنی مزدوری پر نکلا ہوتا ہے اور اپنے بچوں کے لیے روزی کما رہا ہوتا ہے! سوال یہ ہے کہ آخر کب تک محنت کش صرف نعروں، وعدوں اور تقاریر کا ایندھن بنتا رہے گا؟ کب اس کے ہاتھ میں صرف جھنڈا نہیں بلکہ اس کا حق بھی آئے گا؟
1886 کی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقوق مانگنے سے نہیں، چھیننے سے ملتے ہیں۔ شکاگو کی سڑکوں پر بہنے والا خون ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے اپنی زندگی کے لیے — یہ کوئی تحفہ نہیں تھا، یہ ایک جنگ کا نتیجہ تھا۔ مگر افسوس، آج کا مزدور پھر اسی چکر میں پسا ہوا ہے، جہاں نہ اس کے اوقات مقرر ہیں، نہ اجرت انصاف کے مطابق۔
پاکستان میں مزدور آج بھی سب سے سستا اور سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا طبقہ ہے۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والا مزدور ہو، اینٹوں کے بھٹوں پر جھک کر کام کرنے والا ہو یا گھروں میں دن رات خدمت کرنے والی خواتین ملازمین — سب ایک ایسے نظام کے اسیر ہیں جہاں محنت کی قیمت نہیں، صرف استحصال کا راج ہے۔گھروں میں کام کرنے والی ملازم بچیوں پر تشدد کے واقعات کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے،
مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، مگر مزدور کی اجرت زمین سے نہیں اٹھ رہی۔ حکومتی اعلانات کاغذوں تک محدود ہیں اور لیبر قوانین فائلوں میں دفن۔ سوال یہ ہے کہ اگر قانون پر عمل ہی نہیں ہونا تو پھر ان قوانین کا وجود کس کے لیے ہے؟
یہ صرف حکومت کی ناکامی نہیں، یہ ہمارے معاشرے کا بھی امتحان ہے۔ ہم سب اپنے اردگرد موجود محنت کشوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی ان کے حقوق، ان کی عزت اور ان کی ضروریات کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا؟ یا ہم بھی اسی استحصالی نظام کا حصہ بن چکے ہیں؟مزدور صرف اینٹ اٹھانے والے کا نام نہیں شاپنگ مالز،کپڑوں کی آوٹ لیٹس ،دوکانوں پر سٹوریز میں کام کرنے والے بھی اسی طبقے سے تعلق رکھنے ہیں جنہیں آٹھ گھنٹے کی نوکری کی تنخواہ پر رکھا جاتا ہے مگر بغیر کسی اضافی اجرت کے دس سے بارہ گھنٹے کا لیا جاتا ہے،یہ ایک لمحہ فکریہ ہے،
یکم مئی ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے آتا ہے، ہمیں آئینہ دکھانے کے لیے آتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ صرف تقاریر نہیں، عملی اقدامات کیے جائیں۔
حکومت کو چاہیے کہ کم از کم اجرت کو حقیقی معنوں میں نافذ کرے، مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی فراہم کرے، اور ان کے لیے محفوظ کام کا ماحول یقینی بنائے۔ مگر اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی سوچ بدلیں — کیونکہ تبدیلی قانون سے نہیں، رویوں سے آتی ہے۔
آج اگر ہم نے مزدور کو اس کا حق نہ دیا، تو یاد رکھیں، کل یہی محرومی ایک بڑے طوفان کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب استحصال حد سے بڑھ جاتا ہے تو انقلاب جنم لیتا ہے۔
یہ یکم مئی فیصلہ مانگ رہا ہے —
کیا ہم صرف نعرے لگائیں گے، یا حق کے ساتھ کھڑے بھی ہوں گے؟
سوچئے گا ضرور
کیں کہ اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی تو پھر یہ آواز ہمیشہ کے لیے دب کر رہ جائے گی،ائے اور اپنے خون پسینے کے بدلے صحیح اجرت کے لیے آواز اٹھائیں
