بے نام آہٹیں

بے نام آہٹیں


شہر کی مصروف شاہراہ پر شام کا دھندلکا پھیل رہا تھا۔ اسٹریٹ لائٹس ابھی روشن نہیں ہوئی تھیں لیکن گاڑیوں کی ہیڈلائٹس نے سڑک پر ایک عجیب سا شور مچا رکھا تھا۔ فٹ پاتھ کے کونے پر ایک بوڑھا آدمی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک خالی پیالہ تھا جو شاید کئی گھنٹوں سے کسی سکے کی کھنک کا منتظر تھا۔
لوگ گزر رہے تھے۔ کوئی اپنے موبائل فون میں مگن تھا کوئی گھڑی دیکھ کر تیز قدم بڑھا رہا تھا اور کچھ لوگ آپس میں ہنستے مسکراتے ہوئے اس بوڑھے کے قریب سے یوں نکل جاتے جیسے وہاں کوئی انسان نہیں بلکہ محض فٹ پاتھ کا ایک پتھر رکھا ہو۔
اچانک ایک نوجوان جوڑے نے قریب ہی کھڑی مہنگی گاڑی سے قدم نکالا۔ لڑکی نے بوڑھے کو دیکھا اور اپنے پرس سے ایک چمکتا ہوا سکہ نکال کر پیالے میں ڈال دیا۔ سکے کی آواز نے خاموشی تو نہیں توڑی لیکن بوڑھے کی آنکھوں میں ایک لمحاتی چمک ضرور پیدا کی۔
“کتنی بے حسی ہے نا”
لڑکی نے اپنے ساتھی سے کہا۔ لوگ دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے۔
نوجوان نے سر ہلایا اور جواب دیا واقعی ہم لوگ کتنے سنگ دل ہو گئے ہیں۔
پھر وہ دونوں ایک پرتعیش ریستوران میں داخل ہو گئے جہاں ایک پلیٹ کھانے کی قیمت شاید اس بوڑھے کے پورے مہینے کے راشن سے زیادہ تھی۔
کچھ دیر بعد سڑک پر ایک شور مچا۔ ایک موٹر سائیکل سوار توازن کھو کر گر پڑا تھا۔ لوگ رک گئے۔ ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ درجنوں موبائل فون جیبوں سے باہر نکل آئے۔ کوئی ویڈیو بنا رہا تھا کوئی تصویر کھینچ رہا تھا اور کوئی کمنٹس کر رہا تھا کہ تیز رفتاری کا یہی انجام ہوتا ہے۔
زخمی نوجوان کراہ رہا تھا اس کا ہاتھ خون سے لت پت تھا۔ کوئی مجھے اسپتال پہنچا دو… اس نے نحیف آواز میں کہا۔
مگر ہجوم میں سے کسی نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ ہر کوئی ڈر رہا تھا کہ پولیس کے چکروں میں کون پڑے گا یا شاید ان کی ویڈیو کی لائیو اسٹریمنگ خراب ہو جائے گی۔ پانچ منٹ بعد جب ایمبولینس آئی تب تک وہ نوجوان بے ہوش ہو چکا تھا۔ ہجوم چھٹ گیا جیسے تماشہ ختم ہو گیا ہو۔
رات گہری ہو چلی تھی۔ وہ بوڑھا اب بھی اسی جگہ بیٹھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ فٹ پاتھ پر ایک چھوٹا سا بچہ جو شاید کچرا چننے والا تھا ایک سوکھی روٹی کا ٹکڑا اس کتے کے سامنے رکھ رہا تھا جو سردی سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔
بوڑھے کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا۔ اس نے سوچا کہ پورے شہر میں صرف وہ بچہ تھا جس کے پاس نہ قیمتی موبائل تھا نہ بڑی گاڑی اور نہ ہی انسانیت پر تقریر کرنے کے لیے الفاظ لیکن اس کے پاس ایک دل تھا جو ابھی پتھر نہیں ہوا تھا۔شہر کی بتیاں روشن ہو گئیں مگر دلوں کا اندھیرا پہلے سے زیادہ گہرا محسوس ہو رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *