سفید اور سرمئی

سفید اور سرمئی


” ہر جگہ یہیں مشہور ہے سر !جنوری 1970 کی رات تھی جب پہاڑوں کے اس علاقے پر اندھیرا موت کی طرح اتر آیا تھا یہ عام لوگ نہیں کہتے بلکہ وہاں اردگرد کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ یہاں برفانی ہوا یوں گونجتی ہے جسے کسی جن کی چیخ آسمان کو چیرتی ہے یہ چھوٹا سا علاقہ ان پہاڑوں کے درمیان آج بھی خاموش چھپا بیٹھا ہے اس کی خاموشی میں بھی سرگوشیاں ہیں جناب! اور جو وہاں جاتا ہے کبھی واپس نہیں آتا وہ برفانی ہوا کبھی بھی انسانی آواز میں کہتی ہے “ہم یہی ہیں، تم مت آنا ورنہ تم یہی رہ جاؤ گے “،مہمان خانے کا ملازم بہت ہی خوفزدہ لہجے میں یہ بات آئے ہوئے سیاح مہمانوں کو بتا رہا تھا۔ یہ “ڈارہ پاس” تھا ایک ایسا مقام جِسے مقامی لوگ نحوست زدہ کہتے تھے اور یہاں پر رات کو تو کیا دن میں بھی آنے سے ڈرتے تھے۔
“اور کیا کیا مشہور ہے ؟ “، مَلک نور جو انتہائی مضبوط جسم کا مالک تھا ، ملازم کے قدرے قریب جا کر پوچھنے لگا اس کی اس بات سے باقی آئے ساتھی بھی ہنسنے لگے۔
“اچھا چلو جو بھی کہا ہو،چھوڑو ” مَلک نور ملازم کی بات کو ہوا میں اڑاتا مہمان خانے سے باہر نکل آیااور اپنے دوستوں کے ساتھ برف پر چلنے لگا، برف پر چلتے قدموں کے ساتھ اس کے ساتھیوں کے قہقہے گونجنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں ،” مَلک نور ہے تو پھر کس کا ڈر ہے” ان میں سب سے زیادہ نمایاں ہنسی عالیہ کی تھی وہ گروپ کی سب سے چھوٹی اور دلیر ساتھی تھی لیکن ان میں ایک ساتھی اور تھا انتہائی خاموش ، عالیہ اسے کہنے لگی:” دانش پہاڑوں سے ڈرتے ہو تو آئے کیوں ہو ؟پہاڑ ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتے”، عالیہ نے قہقہہ لگایا۔
” نہیں میں پہاڑوں سے نہیں ڈرتا مگرکیا یہ رات خوفناک نہیں “، دانش نے کہا۔
پنجاب کے بڑے شہر جریالہ سے سات نوجوان نکلے تھے اور مَلک نور اِن کا سَربراہ تھا۔ شام ڈھلے وہ “ڈارہ پاس” کی ڈھلوان پر پہنچے، برف بہت گہری تھی اور ہوا کی سرگوشیاں اطراف کو اور خوبصورت بنا رہی تھیں ۔خیمہ لگایا آگ جلائی سب ایک دائرے میں بیٹھ کر کھانا کھانے لگے، زین نے کیمرہ اٹھایا اور تصویریں کھینچینے لگا، سب کے چہرے انتہائی خوبصورت اور دہکتے ہوئے دکھائی دیے اور ساتھ میں دکھائی دیا ہے ایک ہوا کا بگولہ۔ ایک دم رات بدل گئی اور ایسے لگا برفانی طوفان آگیا یا جیسے کسی نے آسمان سے سُرمئی جال پھینک دیا ہو، خیمہ اکھڑنے لگا ، آگ بجھ گئی اور ہوا میں اک سرگوشی سنائی دی جو کسی بھی انسان کی نہ تھی ایک دم سناٹا چھا گیا، عالیہ اور مَلک انور کے علاوہ سب لوگ چیخنے چلانے لگے، صبح جب ریسکیو ٹیم پہنچی تو خیمہ اپنی جگہ کھڑا تھا اندر جوتے کھانا کپڑے سب موجود تھے مگر لوگ کہاں تھے، تھوڑی دیر میں ریسکیو نے دانش کو ڈھونڈ نکالا اس کی آنکھوں میں دہشت تھی ایسی آنکھیں جن میں کسی لمحے کا خوف جما ہوا تھا، ریسکیو کے ایک آفیسر نے کہا کہ آپ لوگ یہاں پہ کیا کرنے آئے ہیں جبکہ یہاں پہ آنا سخت منع ہے”، باقی لوگ کہاں ہو سکتے ہیں؟۔دانش کے ہونٹ جیسے سِل گئے تھے۔

“ہم یہی ہیں، تم مت آنا ورنہ تم یہی رہ جاؤ گے “،مہمان خانے کے ملازم کا خوفزدہ لہجہ دانش کے کانوں میں گونجا ، یہ “ڈارہ پاس” تھا ایک ایسا مقام جِسے مقامی لوگ نحوست زدہ کہتے تھے اور یہاں پر رات کو تو کیا دن میں بھی آنے سے ڈرتے تھے۔

  • مریم ڈار سکرپٹ رائٹر ، ناول نگار، کالم و تجزیہ کار، رائٹر ، و شاعرہ ہیں

    کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہیں

    مریم ڈار کا تعلق لاہور سے ہے اور یہ ایک تخلیقی کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *