پختونخوا میں سینٹ الیکشنز اور سیاسی دوغلا پن

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

پختونخواہ میں سینیٹ الیکشنز اور سیاسی دوغلا پن

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اگر غیر جانبدار آنکھ سے مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بڑی وضاحت سے سامنے آتی ہے جمہوریت یہاں صرف نعرہ ہے، عمل نہیں۔ ہر جماعت جب اقتدار میں ہوتی ہے تو آئین اصول اور قانون اس کی جیب میں ہوتے ہیں، اور جب اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو عوام، ووٹ اور مینڈیٹ کی دہائی دیتی ہے۔یہی منظرنامہ ایک بار پھر خیبرپختونخواہ میں ہونے والے حالیہ سینیٹ انتخابات میں ہمارے سامنے آیا، جہاں تمام نشستیں بلا مقابلہ منتخب ہو گئیں کوئی مقابلہ نہیں، کوئی ووٹنگ نہیں . سب کچھ “ایڈجسٹمنٹ” کے ذریعے طے پا گیا۔ حکومتی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے چھ نشستیں حاصل کیں جبکہ اپوزیشن کو پانچ نشستیں ملیں، جس میں دو نشستیں جے یو آئی (ف)، دو پاکستان پیپلز پارٹی، اور ایک پاکستان مسلم لیگ ن کو ملی۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں تضاد کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔پی ٹی آئی، جو وفاق میں خود کو مظلوم، “فارم 47 کا شکار” اور حقیقی عوامی نمائندہ سمجھتی ہے، وہی جماعت خیبرپختونخواہ میں انہی “چوروں” سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے انہیں سینیٹ میں لاتی ہے۔ ایک طرف بیانیہ کہ “الیکشن چوری ہوا”، دوسری طرف انہی “چوروں” کے ساتھ بیٹھ کر سینیٹ کی سیٹیں بانٹی جا رہی ہیں۔ کیا یہی سیاسی اخلاقیات ہیں؟ کیا یہی “نیا پاکستان” ہے؟ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ ہارس ٹریڈنگ یعنی اراکینِ اسمبلی کی وفاداریاں خریدنا , پاکستان کی سینیٹ تاریخ کا بدنما داغ ہے۔ذرا تاریخ کی ورق گردانی کریں،1985 کے بعد ہر سینیٹ الیکشن میں خفیہ ملاقاتیں، پیسے کی لین دین، اور وفاداریوں کی نیلامی کی خبریں آتی رہی ہیں۔2018 کے سینیٹ انتخابات میں تحریکِ انصاف خود چیختی رہی کہ ان کے اراکین کو خریدا گیا۔ یہاں تک کہ عمران خان نے کچھ اراکین کو پارٹی سے نکال بھی دیا۔2021 کے سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو لے کر پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ “خرید و فروخت” ہوئی، مگر بعد میں وہی افراد ایوان میں قانون سازی کرتے نظر آئے۔تو پھر یہ دہرا معیار کیوں؟ جب ہارس ٹریڈنگ مخالف ہو، تو آواز بلند؛ جب فائدہ ہو، تو خاموشی یا “سیاسی مفاہمت” کا نام دے دیا جاتا ہے۔خیبرپختونخواہ میں حالیہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ اس بیانیے کی مکمل نفی کرتی ہے جو تحریک انصاف 8 فروری 2024 کے بعد لے کر عدالتوں، سڑکوں، اور میڈیا پر چل رہی ہے۔ اگر واقعی “عوامی مینڈیٹ” پر ڈاکہ ہوا تھا، تو پھر انہی جماعتوں کو سینیٹ میں لانے کی منطق کیا ہے؟اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سینیٹ میں بیٹھ کر قانون سازی بھی “سیٹلمنٹ” کے ذریعے ہی ہونی ہے، تو عوام کے لیے کیا پیغام جا رہا ہے؟ یہی کہ ہر چیز طے شدہ ہے، اور جمہوریت صرف ایک ڈھونگ ہے؟
دوسری جانب پیپلز پارٹی جو برسوں سے “جمہوریت بہترین انتقام ہے” کا نعرہ لگاتی آ رہی ہے، اس بار شاید انتقام کی بجائے مفاہمت کو بہترین حکمتِ عملی سمجھ بیٹھی۔ جس پارٹی پر ہمیشہ ہارس ٹریڈنگ کا الزام رہا، اب وہ ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے ایڈجسٹمنٹ کی گود میں جا بیٹھی۔ فیصل کریم کنڈی صاحب – جو اب گورنر خیبرپختونخواہ ہیں پر الزام ہے کہ انہوں نے یہ ڈیل کروائی تاکہ PTI کے اراکین کو اپوزیشن میں جانے سے روکا جا سکےاور اگر بات کرے (ن لیگ ) جس کا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اب صرف سیاسی جلسوں کی حد تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن، جو اپنے قائد نواز شریف کے بیانیے کو “عوامی طاقت” کا استعارہ بنا کر پیش کرتی ہے، وہی جماعت اب سینیٹ میں بلا مقابلہ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے داخل ہو رہی ہے۔ اگر واقعی ووٹ کو عزت دینا ہے، تو پھر پسِ پردہ مفاہمتوں، سیٹ شیئرنگ، اور خاموش سیاسی معاہدوں سے گریز کیوں نہیں؟کیا سینیٹ میں آنے کا یہی طریقہ باقی رہ گیا ہے؟
اور آخر میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی جماعت ہمیشہ سیاست میں “اسلامی اصول” کی نمائندہ بن کر سامنے آتی ہے، مگر ان کی سیاسی حکمتِ عملی ہمیشہ سیٹوں کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ اب کے سینیٹ انتخابات میں دو نشستیں حاصل کر کے خاموشی سے حصہ بھی بن گئے اور احتجاجی بیانیے سے بھی دور رہے۔ماضی میں جب سلیکٹڈ حکومت کا بیانیہ بلند کیا جاتا تھا، اب سینیٹ کے دروازے انہی کے ساتھ بیٹھ کر کھلوائے جا رہے ہیں۔سیاسی مفاہمت بری بات نہیں، مگر جب ہر بار سیٹ کے بدلے اصول قربان ہوں، تو عوام سوال اٹھانے لگتے ہیں۔مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ بانی PTI عمران خان نے اب نئی احتجاجی کال دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔ معاشی بحران اپنی انتہاؤں پر ہے، مہنگائی، بجلی، پیٹرول سب کچھ عوام کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ ایسے وقت میں اگر سیاست دان سینیٹ میں مفاہمت کر سکتے ہیں، تو کیا عوام کے لیے بھی بیٹھ کر کوئی “چارٹر آف ریلیف” بنایا جا سکتا ہے؟یا پھر یہ ایڈجسٹمنٹ صرف اقتدار کی کرسیوں کے گرد ہوں گی؟
کیا پارلیمان کا استعمال صرف قانون سازی نہیں بلکہ عوامی ریلیف کے لیے بھی ممکن ہوگا؟
یا سیاست دان صرف “سیاسی فائدے” کے لیے ایک دوسرے کو کبھی دشمن، کبھی اتحادی بناتے رہیں گے؟سیاست میں مفاہمت کوئی جرم نہیں، لیکن بیانیے کے ساتھ بے وفائی جرم ضرور ہے۔ عوام کو ہر وقت جذباتی بیانیوں سے گرم کیا جاتا ہے، لیکن پس پردہ وہی “سیاسی کھیل” جاری رہتا ہے جس میں اصول، نظریہ اور شفافیت کہیں نظر نہیں آتی۔خیبرپختونخواہ میں سینیٹ کے بلا مقابلہ انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان کی سیاست میں نظریے نہیں، ضرورتیں اہم ہوتی ہیں۔ نتیجتاً، سیاست میں کوئی حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ یہاں دوستی مستقل ہوتی ہے نہ دشمنی، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ جو آج مخالف ہے، کل حلیف ہو سکتا ہے اور یہی ہماری سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے اور حقیقت بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *