سفر گُل زمیں کے
قسط نمبر 11
قصّہ یہ دل تم بِن کہیں لگتا نہیں ہم کیا کریں۰۰۰۰
کہنے لگی : بڑی بی بی! میں ایک سال سے بہنوں سے نہیں ملی نہ پشاور والی سے نہ کراچی والی سے جب وہ چُھٹی پر گاؤں آتی ہیں تو میں نہیں جاسکی ،اب ملیں گے-
کہا: تم نے توجانا تھا رضو پر پھر دو دن لیٹ کیوں ہوگئی ہو؟
رضو: بی بی ! میرا پلین جلدی جانے کا تھا اب میں نہیں جانا چاہتی تھی –
آپ کو سحری جو میرے ہاتھ کی پسند ہے اب روزے ختم ہوگئے ہیں تو میں جاؤں گی
میں اُس کے چہرے کی سچائی سے شرمندہ سی تھی کہ اُس کی محبت اور خلوص کو تو میں چُکا ہی نا پاؤں گی-
اس گاؤں بیٹیاں اپنے گھروں کی کماؤ پُوت ہیں- تبھی کوئی لاہور تو کوئی پشاور اور کوئی اسلام آباد۰۰۰
ان دونوں نے بھی اپنی بہترین کارکردگی اورخلوص سے سب گھر والوں کے دل میں نہ صرف جگہ بنائی لی ہے بلکہ ان کے بغیر ہم ادھورے ہیں-
رضو اور گلبدن میں عقل کی تیز تو دوسری ہے ماشااللہ قرآن پاک پورا پڑھ لیا اب دُہرائیاں ہیں –
یہ رَضُو بچڑا ابھی پہلے سیپارے پر ہے یہ اور بات کہ کئی سال تک تو قاعدہ پڑھا سب جوڑ توڑ سکھایا عالمہ نے پھر تیسواں سیپارہ پہلے پڑھایا اب پہلے سیپارے کے تیسرے رکوع تک ہے-
دانائی کی شمع بولی : بی بی صرف تیس روزے رکھے گیں یا اور بھی ۰۰۰
کہا: اسلام آباد کی پوپلزئی روزے اُنتیس یا تیس ہی ہوتے ہیں-
اس کے پانچ فٹ سات انچ کے قد کو دیکھ کر پھر اس ٹخنوں کو دیکھنے لگی کہ واقعی اس بچڑی کا عقل ہے گِٹوں میں۰۰۰۰
اچانک رضوانہ بولی! اچھے بھلے موٹے تازے تھے بہوں کَم کریندے ہَن، ہنڑ وت مرگئے ہِن۰۰۰۰
دراصل رضو بچڑا(رضوانہ جسے میں اکثر
“رضو ڈاند “اُس کی معصومیت کی وجہ سے کہتی ہوں )اپنی تھوڑی دیر پہلے والی اپنی خفت مِٹا رہی تھی-
ہوا کُچھ یوں کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب رازی خان میرے بیٹے نے مجھے بتایا کہ صابر( شہناز کا شوہر) کے والد صاحب فوت ہوگئے ہیں-
شہناز جو میرے دو بچوں کی نینی اور تقریباً چوبیس سال میرے ساتھ گزارے جو میری زندگی ایک خاص مقام رکھتی ہے -اپنی شادی سے دو دن پہلے اپنے گاؤں گئی ، صابر اُس کا شوہر بہت اچھا ہے ، جاب کرتاہے ، شہنازاپنے گھر میں خوش ہے ایک بیٹا ہے-
مجھے ملنے سال میں ایک یا دوبار آتی ہے –
اُس کا سسر انتقال کرگیا ، اطلاع ملنے پر کہ صابر کا والد فوت ہوگیا ہے-
دراصل اُردووالے والد کا مطلب رَضو بچڑے کو پتہ نہ تھا -جلدی سے بولی بی بی: کون فوت ہوگیا؟
جب میں نے بتایا : صابر دا پِیو(والد)تو سمجھ گئی-
اور پھر بولی : اچھے بھلے موٹے تازے تھے،بہوں کَم کریندے ( بہت کام کرتے تھے)ہنڑ وت مر گئےہِن (اب پھر مر گئے ہیں)-
اب میں کیا کروں جب رضوانہ اُردو بولتے بولتے اچانک سرائیکی پر شفٹ ہوتی ہے-
میرے وقت کا کُچھ حصّہ ان دناوت کے ٹکڑوں(بے ذہین لڑکیوں ) کے ساتھ گُزرتا ہے- ایک رضو دوسری گُلبدن!
اُس دن کہنے لگی: بڑی بی بی چورں سے ڈر لگتا ہے میں رات سب کمروں کی کھڑکیاں چیک کرتی ہوں آحمد رافو اور مہرو باجی کے کمروں کی تو خاص طور پر
کہا: اچھا کرتی ہو
رضُو ڈاند: بی بی! کھڑکیاں مضبوط ہیں وت وی او لوہے والی گَزی نہیں لگی ہوئی (مضبوط ہیں پر لوہے کی ریلنگ نہیں لگی ہوئی )
اُردو بولنے کی قطعاًپابندی نہیں ہم تو آپس میں سرائیکی بولتے ہیں یہ دونوں شایدہم لوگوں پر اپنا رُعب ڈالنے کےلئے اردو بولتی ہیں اور کُچھ انگریزی کے چھوٹے موٹے جملے بھی آتے ہیں-پر رَضو بچڑے کی اُردو جیسے ختم ہوتی ہے آرام سے سرائیکی پر شفٹ ہوجاتی ہے- میں تو مزہ لیتی ہوں- آج کل میری تین سالہ پوتی نے اپنی پیاری صورت اور باتوں سے دل بہلایا ہوا ہے-اور پھر یہ دونوں ۰۰۰۰۰
ہانی یہ اتنا پیا فراک اور یہ کیوٹ سا پرس کس نے دیا
یہ زینک چاچی میرے لئے مریکا سے لائی ہیں پھر وہ ایکدم اُسے اپنی کزن ماہی کی یاد آجاتی ہے –
دادی: ماہی مجھ سے اینگری کیوں ہے کہتی تھی
I am angry
اُسے کہیں مجھ سے اینگری نہ ہو پھر دیرتک اُس کی تصویر مریم آپی اور چاچا چاچی کی تصویریں چومتی رہتی ہے-
یہ جو زبان کا بیریر آجاتا ہے نا
میری نھنھی گُڑیوں جُڑنے نپیں دیتا
پھوپھو کے لئے شروع میں تو وہ سمجھ رہی تھی کہ کہیں دو چار دن کے لئے گئی ہے پھر ڈھیروں چیزیں لے کر آجائے گئ-
اب جب وڈیو کال پر ہوتی ہے تو کہتی ہے گھر آؤ فوراً آؤ فون سے نکل آؤ۰۰۰
مہرالنساء بھی اُداس تو ہوتی ہوگی دیس, پردیس جو پسند ہے!
میں اور ہانی اُداس ہیں۰۰۰۰
اب بھی پانچ جملوں کے بعد چھٹے جملے پر میرے ساتھ تو مُعاملہ وہی “قصّہ چار نسلوں کا”والا ہی ہے- کتاب لکھ ڈالی-
شاید میں ہی ایسی ہوں یا وہ ویسی ہے پر ہم ایسے کیوں ہیں؟؟؟
پر میں کیا کروں مجھے تو ساحر لُدھیانوی صاحب کے انمٹ بول یاد آرہے ہیں
میرے ہاتھوں میں تو بس ہاتھ ہیں زنجیر نہیں
میرے ہاتھوں میں تو بس ہاتھ ہیں زنجیر نہیں
ہمارا چاند بھی تم ہو ہماری روشنی تم ہو
ہمارا چین بھی تم ہو ہماری بے کلی تم ہو
بتائیں کس طرح تم کو ہماری زندگی تم ہو
بہت پیارے اور بھی سب اپنے پاس ہیں
یہ دل تم بِن کہیں لگتا نہیں ہم کیا کریں
تصور میں کوئی بستا نہیں ہم کیا کریں
کیسیریا تیرا عشق ہے پیا!
میری بی بی شیرینے کو ایسٹ کوسٹ سُدھارے ہفتہ ہوگیا ہے بیس دنوں کو تو پَر لگے ہوئے تھےمیرا دل بس جُدائی کے احساس دُکھی ہے- اسی کیفیت میں تھی-
میں سوچ رہی ہوں یہ حادثہ کب ہوا جب سب بُت ٹوٹ گئے سب محبتیں فنا ہوئیں سب عشق و وفا اسی ایک کافر ادا میں مرکوز ہوگیااور یہ ٹھہری غالب نہیں نہیں(وہ کسی کی ٹھرک نہ سہتا تھا)بلکہ میر کے محبوب جیسی بےوفا و بے اعتناء۰۰۰۰۰
میری عمر کی سکھی سہیلیوں سے پوچھیں سب کی چاہتوں کے مرکز و منبع تو یہ کوکھ سے جنم لینے والے اور اُن کی کوکھ سے جنم لینے والے ٹھہرے
پر میرے گھر کے تیکھےمسالے دار افراد مہرالنساء اور عمر اور مؤدب ترین عبدالرزاق اور پھر ذیشان ہیں
مہرالنساء کا تو یہ حال کہ مجھے ایک پوری کتاب “قصّہ چار نسلوں کا” لکھنی پڑگئی!بقول میرے اُستادِ معظم
جناب رؤف کلاسرہ صاحب کے مہرالنساء کتاب کی روحِ رواں ہے میں سمجھتی ہوں عمر بھی اس کام میں پیچھے نہیں بس چرن چھونے میں کمال حاصل ہے اور معاملہ جتنا بھی کڑا ہو یہ پاؤں نہیں چھوڑتا معاملہ رفع دفع کروا لیتا ہے رہی مہرالنساء بات بڑھانا تو کوئی اس سے سیکھے
اور کسی کے ساتھ ایسا نہیں کرتی صرف میرے ساتھ ایسا کرتی ہے پتہ نہیں مُہذب ہے یا مہذب بننے کا ڈرامہ کرتی ہے میرےساتھ تو اَتو َتوتی کی بہن والا سلوک کرتی ہے جب پانی سَر سے گُزرنے لگے تو کہتی ہے: امّاں !آپ تو میری سہیلی ہیں نا۰۰۰
ابھی جب سب کے لئےتحائف لائی توقُران پڑھانے والی بی بی کو بھی تحفہ پیش کیا تو بی بی نے شُکریہ ادا کیا تو بیٹی کہنے لگی: بی بی! اب تو آپ اَمّاں کی بھی اُستانی ہیں نا!
بی بی! جی میں دادی کا بھی قرآن ِ پاک سُنتی ہو
بیٹی :بی بی ! آپ امّاں کو ڈانٹا کریں
میں انھیں سوچوں میں غلطاں تھی کہ احمرخان کی مَدھر لے پر خوب صورت آواز گونج رہی تھی بلکہ سب کی سب پریاں رنگین آنچل سمیٹے دَم بخود تھیں جیسےاس سرسبز لان کی ہلکی ہلکی سرسراتی نرم مُلائم ہوا میں وہ
سب مدہوش سے بیٹھے ہیں
میں نے چونک کرقریب بیٹھی آسمانی رنگ کے مکیشں کے جگمگاتے سوٹ میں ملبوس عرشِ بریں تمنا کو دیکھا فوراًبائیں طرف دیکھا تو ارشد صاحبہ کی چمک دمک
آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھیں ارے ۰۰۰میں خوبصورت پوٹھوھار کے اس مِنی مُنال “باسفورس “کے مہکتے لان میں بیٹھی ہوں میں اس دُنیا لوٹ آئی
اُدھر احمر خان کی آواز کا جادو ماحول پر طاری تھاایک پُرسکون و خواب آور خاموشی میں آواز گونج رہی تھی
وہ اپنی پیاری کو درد بھرے لفظوں جیسے سمجھا رہے تھے بول تھے
تیری آنکھوں میں بستا ہے میرا جہاں
جو میں کہ نہ سکا سُن تو ذرا
کہانی سُنو مجھے پیار ہوا تھا
نہیں مُشکل وفا ذرا دیکھو یہاں
میری آنکھوں میں بستا ہے تیرا جہاں
بار بار دُہرائے جانے والے بول دل میں اُتر رہے تھے
حسیناؤں کے دل وروح سرشار سے ہوتے گئے-
مجھے احساس ہوا کہ کئی دنوں کے بعد آج سب خوب صورت مہیلائیں بے حد نفیس ذوق سے تیار ہوکر آئیں اور اب جب سب لان میں اکٹھے تھے تو عرصے بعد بہت سے سناشا چہروں سے مل کر خوشی اُمڈی پڑ رہی تھی-
ہماری شاہدہ جی نے کاسنی رنگوں کے دو مدھم تیز رنگوں کی آمیزش سے ساڑھی زیب تن کر رکھی تھی ان کی پُرکشش و معتبر شخصیت مجھے ہمیشہ گھنا سایہ دار شجر کی مانند لگتی ہے – جو سب کو خوش آمدید کہ رہی تھیں
اُدھر سمیرا نے بےحد دلآویز رنگوں سے مُزین ساڑھی پہن کر بہار کے سارے رنگ سمیٹ لئےتھے یہ میزبان بھی ہیں اور چمکتی آنکھوں وچہرے کے ساتھ جانِ محفل بھی
اُدھر ذرا ثمینہ کو تو دیکھیں شاندار لباس پر اُن کا سونے کا خوب صورت روبیز والا ہار اُن کو انیتا امبانی کی بڑی بہن بتا رہا تھا-
ارے ڈاکٹر راحیلہ کو دیکھیں آج خوب صورت بلیو لباس پر بھاولپوری کام کی نفاست بہت پھب رہی تھی خواتین لباس کی قیمت و بنوائی پوچھتی رہیں کمال لباس کا نہیں لباس والے کی شخصیت کا تھا –
بلامُبالغہ بہت حسین محفل سج چکی تھی لان میں سجی لائٹس اور دل کھول کر پھیلے ساوا کچ سرسبز لان پر ترتیب سے رکھی گئیں کُرسیاں میزیں اور بہترین کارکردگی کہ مچھر و پتنگوں سے مکمل شفاف ماحول کا رنگ سب پر چڑھ رہا تھا – ہلکا ہلکا چھاتا سُرمئی اندھیرا بہت سے اُجالوں پر بھاری تھا
نداجمشید کی آمد کا سحر ماحول میں سرایت کر رہا تھا کہ بےحد حسین سونیا اسد بلیک کامدار ساڑھی میں لانبے سروقد کے ساتھ آسمانی مخلوق لگ رہی تھیں
محفل میں شامل ہوئیں
زَہرہ اعجاز مسکراتے چہرے اور پیاری سی بےحد سمارٹ سلوا کے ساتھداخل ہوئیں تو محفل میں جان آگئی عامرہ شہاب اور ساجدہ انوار بھی بہت جامہ زیب ہستیاں ہیں اور عامرہ تو سلورلائنز کی سُریلی آواز ہیں-
خوشنما پتھریلے راستے کو عبور کرکے مین ریسٹورینٹ سے گُزرتے ہوئے دو رویہ بہار کے پھولوں سے لدی کیاریوں اور پیاری کاٹ چھانٹ کے پھولوں اور پائنز کے درختوں کے ساتھ سے چہل قدمی کرکے گُزرکر لان کی طرف آنا بھی سلور لائنز کے لان کے ماحول افسانوی بنا رہا تھا
یہ “مِنی مُنال “(نام پسند آیا) تو جدیدیت اور بہترین آرکیٹیکٹ کا اچھوتا منظر پیش کر رہا تھا واہ !
تو بے ساختہ مُنہ سے نکلا بہرحال محنت ذہانت اورفطرت کاملاپ ہے
لان میں داخلے پر بائیں باجو پر امیریکن طرز کا بڑا سا بار بی کیو کچن ، سامنے سلیقے سے لگی نشستیں، آگے موسیقی کے اہتمام کے لئے میزیں اورسبز سنتھوں کے ساتھ ارٹسٹک انداز میں لگی بتیاں ماحول کو اُجالا دے رہی تھیں لیکن لگ رہا تھا جیسے نیچر کو آنے خوب صورت شام کے سُرمئی رنگ کو خود پھیلنے کا موقع بھی دیا گیا دور کنارے پر سجی میزوں پر کھانے سے متعلقہ تما لوازمات صفائی سے رکھی گئیں تھیں
ہر نئے آنے والے کے ساتھ محفل کے رنگ گوڑھے اور سوہنڑے ہوتے گئے
کہانی طویل و حسین ہے
کیسریا تیرا عشق ہے پیا!
ایسی معطر اور بھیگی شامیں مقدر سے ملتی ہیں! جب شاہدہ صاحبہ نے کہا: میں اُداس ہوں ان ریگولر ممبرز کے لئے جنہوں نے اس حسین شام کو مِس کیا
اشارہ ماورانبیل، مہ جبیں عزت اللہ، نازیہ وڑائچ کی طرف تھا
میں نے کہا: اتنی ساری انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ اب اُداسی کی ذمہ داری نہ لیں
بہرحال پیاری لڑکیو! آپ کی کمی کھَلتی رہی
میں جب بھی سیماآفتاب، کنول ،ارشد صاحبہ اور عظٰمی کو دیکھتی ہوں تو انکئ شخصیتات میں کھلتے گُلابوں کی شادابی سی لگتی ہے-ہردم تروتازہ و شاداب جیسے یہ مہیلائیں جب ہنستی ہیں تو لگتا ہےدھرتی ماں بھی شاد ہے فضا بھی گُنگنا رہی ہے
اور ہاں عامرہ شہاب بھی ایسی ہی ہیں دل کھول کر دل کے اندر سے ہنستی ہیں دیکھنے والے کو بھی لطف آجاتا ہے
یہ سارے مُسکراتےچہرےشام کے مقدس رومانس میں گُم موسیقی سے لُطف اندوذ ہو رہے تھے, احمر خان ہر فرمائش پر فوری طور پر فرمائشی گانا کی تان باندھ لیتے آواز اتنی پیاری کہ لگتا ہر تان ہے دیپک
لیکن ہم حوا کی بیٹیوں کی جلد بازی مُلاحظہ کریں اُنھیں لگا احمر خان جو کبھی عاطف اسلم کا رنگ شربتوں کا گا رہے تھے، ساحر علی بگاکے گانے کی فرمائش پوری کررہے تھے آخرکار پیارے سے نوجوان کو بولنا پڑا ،ہنس کر بولے :سانس تو لینے دیں
کمپیوٹر کے عہدکی مَہیلائیں فوری سے پیشتر فرمائش کی تکمیل چاہتی رہیں۰۰۰۰
میں آپ کو اپنی حماقت کا بتاؤں عملے نے شیشے پیاری باٹلز میں منرل واٹر بھرا تھا ہر ٹیبل پر دو باٹلز موجود تھیں اور ہماری ٹیبل کی ایک باٹل ختم ہوگئی تو دوسری کو اچھے سے نہ کھولنے پر کھولنے والا حصّہ تھوڑا ٹوٹ گیا اب وہ باٹل کسی سے بھی نہ کھل پا رہی تھی ساتھ ہی بلیک لباس میں ایک لڑکا گُزرا میں
میں نے اشارے سے بُلایا آگیا تو کہا: بچے باٹل کھول دیں
شاہدہ صاحبہ ہماری ٹیبل پر ہمارے ساتھ تھیں دھیرے سے دھیمے لہجے میں بولیں : یہ بیرا تو نہ تھا
دراصل وہ ایک میوزک ٹیم کا ممبر تھے
بڑا بیبا بچہ تھا سیدھا جاکر وہ باٹل احمر خان کے ہاتھ میں پکڑائی کے کھولنے فرمائش آئی ہے
میں بغور دیکھ رہی تھی ہم چونکہ بالکل آخری ٹیبل پر تھے ہم سے کُچھ فاصلے پر میوزک ٹیم کے لئے چھوٹی سی الگ ایک ڈنر ٹیبل رکھی تھی اور وہ کھانا تناول فرمانے والے تھے کہ جناب! احمر نے دانتوں سے باٹل کا ڈھکنا کھول دیا اپنے دیسی اسٹائل میں دل ہی دل میں سر پیٹ کر رہ گئی بچہ! اگر ایک دانت بھی ساتھ نکل گیا تو ہمدردی بہت بہت مہنگی پڑنی تھی
اللہ نے کرم کیا بچے کا دانت بچ گیا اور ہماری باٹل کُھل گئی-
جب ناظرین کے گانوں اور فرمائشوں میں اتنے محو تھے کہ کھانے تک کو بُھولے بیٹھے تھے تو اچانک دھیمے لہجے شاہدہ صاحبہ نےسب کو چونکایا اور جیسی ہڑبڑاہٹ مجمع میں تھی دلچسپ تھی اعلان ہوا “ روٹی کُھل گئی جے روڑا پا دیئو”
پھر اپ رولا پڑتے دیکھتے ۰۰۰۰۰جب کھانے مہک اور خوشبو نے بھوک سے تڑپا دیا تو ہم بیک بنچرز کوموقع ہی نہ مل رہا تھا پلیٹ میں کُچھ ڈالنے کا میں نے تو سائیڈ پر لگے چٹنیوں کی ورائیٹی سے دو بڑے چمچ بھر کر پلیٹ میں ڈالے اور موقع ِ واردات کا انتظار کرنے لگی
کھانے اتنے مزیدار تھے کہ پلیٹیں بھرنے کے باوجود لڑکیوں نیت سیر نہیں ہورہی تھی
مجھے چٹنی سے شغل کرتے دیکھ کر ندا جی نے دو تین بار پلیٹ مانگی کہ سب کچھ ڈال دوں میں نےشکریہ کے ساتھ پیشکش واپس کردی کہ اپنی چوائس سے لوں گی خیر موقع مل ہی گیا
بھائیو! کھانے بےحد لذیذ اور تڑپا دینے والے تھے آج بھی ابھی تک کھانوں کے ذکر سے میرا سلور لائنز کا واٹس ایپ بھرا پڑا ہے
احمرخان اُس شام جانِ محفل تھے اچھا پیارا نوجوان جو گانے کے جادو کو لے کر پیک فرینز پائپ پائپر بن چکا تھا پیٹ بہترین دعوت سے بھر چکے تھے انرجی کا لیول پیک پر تھا اور اب کے پی کے پٹھانوں کے جوشِ رقص کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پنجاب کی پنجابنوں
نے بی بی شیرنے زڑے گلے، زوبی ڈوبی اورسندھڑی دا سیہون دا سخی شہباز قلندرپر وہ دھمال ڈالے کہ مِنی منال یعنی باسفورس جھوم اُٹھا مجھے تو لگا سارا منظر محوِ رقص تھا
ہماری مہذب اوربااعتماد منزہ، حمیرا جاوید ، تبسم طارق وہ باوقار خواتین ہیں جن کی متانت اور سنجیدگی
محفل کا ایک اور خوب صورت رنگ تھا
سویرا، نگینہ ، عابدہ اور تمنا عرشِ بریں میری میز فیلو تھیں تھیں تو ارشد بھی پر اُن کے اندر چلبلی لڑکی اُن کو لے کر روبی ، سمیرا ، زَہرہ،عامرہ ، سیما ،زبیدہ،عظمٰی جیسی شوخ چنچل گروپ کی طرف لے گئ
روداد بہت سہانی ہے بہت پُر کشش اور جواں
محفل دوبارہ سجانے پر آج سے اصرار شروع
آواز کانوں میں گونج رہی ہے
تعریف کروں کیا اُس کی جس نے تمہیں بنایا
میرے خیالوں پر چھائی ہے اک صورت متوالی سی
اور کو کو رینا کی گونج اب بھی کانوں میں ہے۔
بیتے ہوئے کُچھ دن ایسے ہیں
عائشہ کہنے لگی : ماں اس واقعہ کو سنسر کر دینا چاہیئے
اسد نے کہا: نہیں جب لکھ رہی ہیں تو سچ لکھیں اورسب لکھیں –
اور اس ایک واقعہ نے پورا ہفتہ مجھے دلگیر رکھا ۔
جیسے میرے دل میں پھانس اٹک گئی-
پھر خود کو کیسے اَمادہ کیا کوئی مجھ سے پوچھے-
ایک ایسی حسین و جمیل ادیبہ جو صاحبِ ہنر ہیں جن کے رواں قلم نے ایک تہذیب کو نہ صرف قلم بند کیا بلکہ جانتی ہیں لفظ کو برتنا ۰۰۰اتنی سچی اور صادقہ کمال کی ہے
اور پھر پٹھان ، ہندکو و سرائیکی کلچر اور ریت رواج سُچی تہذیب گو کہ اب قصّۂِ پارینہ بن چُکی ہے- وہ خوراکیں وہ گلی کُوچوں میں بِکنے والے چینی والے لچھے، آلو کچالو، میوے گُڑ اور بھنے ہوئے بھٹوں کا مزہ اور محلوں اور خاندانوں کی محبتیں اور اُس کے خدوخال نصرت نسیم صاحبہ نے اپنے صائب قلم سے کاغذ کے پَنّوں پر ایسے اُتارے گویا ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر بنوں کوہاٹ پشاور بلکہ پورے کے پی کے کی تاریخ لکھ دی جو اُن کی زندہ وجاوید کتاب میں درج ہے- اور مستند تاریخ جو دلربا ہے جاندار ہے مگر مٹتی جا رہی ہے لیکن نصرت ایسا سنبھال ایسی چابکدستی دکھائی کہ یہ سُنہرے دن محفوظ ہوگئے
لاہور میں تھی جب عظیم نے میری کتاب “قصّہ چار نسلوں کا” بُک کارنر جہلم سے منگوا رہے تھے تو بزنس مائنڈڈ عظیمُ جو بہت پڑھے لکھے نوجوان ہیں اور عزیزہ حبیبہ جیسی گُنوں والی لڑکی کے شوہرِ نامدار ہیں- بڑے پَتّے کی بات کی جب میں نے کہا : عطیم بیٹے! وہ کتاب شاید آپ کے مطلب کی نہ ہو وہ تو بس میں نے فرصت کے لمحوں کو زندگی دے دی
تو عظیمُ کہنے لگے : آنٹی ! آپ کے اُستادِ محترم جناب رَؤف کلاسرہ کی کتاب “ایک قتل جو نہ ہوسکا “پڑھ کے بیٹھا ہوں ایسی تلخ حقیقتوں پر بس آنکھیں بھیگ گئیں –
اُنھوں نے آپ کی کتاب کو بہت سراہا ہے تو کتاب مجھے پسند آئے گی اور میں سمجھتا ہوں اصل تاریخ عام لکھاری لکھتا ہے کیونکہ وہ بلا جھجھک سچ بولتا چلا جاتا ہے-کوئی رکاوٹ مانع نہیں ہوتی-
عظیم کی بات کی سچائی مجھے سچائی کی مُروارید نصرت نسیم صاحبہ کی یہ کتاب پڑھ کر بالکل درست لگی-
میرے جیسی لکھاری کی تو روشنی کے چاندنی چوک کے آگے کوئی وقعت ہی نہیں۰۰۰۰۰۰جن معتبر ہستیوں نے اُن کی بُک پر تاثرات دیئے ہیں وہ تو یاقوت کا ہار ہے جو شفاف خوشبودار مالا کی صورت نصرت صاحبہ کے گلے کا ہارہے -اور جگمگ جگمگ کر رہا ہے
شجاعت علی راہی صاحب، جنہوں نے آپ کے بارے لکھا ، وہ حاملِ مطالعہ اور اور قلم کے ساتھ الفاظ کی حرمت سے آگاہ ہیں
پھر صفدر ہمدانی صاحب نے اتنا پیارا لکھا – ناصر علی سیّد تحریر کے ساتھ ساتھ اچھوینی سے بھی کام و دہن کا کام لیا چاہے تصور کی دُنیا میں اور ماحول میں ایسے اُتارتی ہیں کے قاری اُن سے چپک کے بیٹھ جاتا ہے
ریل گاڑی کے سفر کے ساتھ عجیب سی رومانیت جُڑی ہے جو مصنفہ مجسوس کرتی ہیں ویسا ہی مجھ پر بیتتا ہے
بھُٹے بھنوانے ہوں،سردیوں میں پوندوں کی آمد مٹی کے برتن ، گھونگڑیاں ، کونڈے، لاؤڈ سپیکر پر نعتیں اور منقبتوں کے علاوہ شادیوں پر گانے، تنور کی پتیری روٹیاں،پشاور کے دروازوں کا ہوڑا،پشاور کی ڈومنیاں،پارا چنار کی بڑی بڑی چارپائیاں یعنی ماچے اوربڑے تھالوں میں شولہ کھانا، کافرستان کے مُردوں کی ہڈیاں اور زیورات،کافرستان کی دوشیزاؤں اگلے سال نیا دُلہا چُن لینا اور سوئی دھاگے سے ٹک لگانا سب بے حد دلچسپ اور الف لیلوی داستاںیں ہیں-
نیازیں ،مُربے،گھوگھڑے پھیلیاں ،دُلہا و دُلہن کے پھولوں کی لڑیوں والے سہروں کی باتیں ہوں کتنا اچھا فقرہ لکھا “وقت اور پیسہ دونوں میں برکت تھی” سچ میں تھی-
کوہاٹ سے ٹل تک ریل حسیں سفر، کتاب دوستی اور کتابوں کے انبار اور پھر شخصیات نگاری کا کمال ، ڈیڈی کی پُر سحر شخصیت اور یوں اُنکے مسحور کُن خوب صورت گھر میں آنکھ کاتارا بن کر بچپن سے لڑکپن و جوانی کے مدارج آس پاس انکل ، دیدی ، بجو اور پھوپھو جیسی شخصیات کا ہونا – کتاب سے عشق اور سہولت اس ماحول کی ودیعت ہے – ان تینوں خواتین کی ادھوری خوشیاں جس انداز میں تحریر کی ہیں آنکھیں نم ہوگئیں- اُن کی پیاری شخصیات دل پر نقش ہوکر رہ گئیں
اپنے پیاروں کے حُسن اور حسنِ اخلاق کے قصّے مبہوت کرنے کو کافی ہیں- پھر کوئی سنسنی خیز یا المناک واقعہ لکھ کر جھنجھوڑ دینا جیسا کہ کوہاٹ میں پینسٹھ کی جنگ میں سر بُریدہ اجسام جو ایک بم پھٹنے کا نتیجہ تھا ،بہت لرہ خیز واقعہ ہے-
پھر دلچسپ و متوجہ کرنے والے واقعات جیسے کوہاٹ کی مشہور سیاسی شخصیت افتخار گیلانی جو حسینہ مسرت نذیر گلوکارہ و ادکارہ کے بہنوئی تھے -اُنھوں نے چاندی کے جوتے اپنی بیگم صاحبہ کے لئے بنوائے جو مصنفہ نے بھی ویسے بنوائے کہ آئیڈیا اچھا تھا جو اُنھوں اپنے ستاروں سے بھرے جھلمل کرتے بلیو ریشمی سوٹ سفید ڈوپٹہ اور چاندی کے جوتوں کے ساتھ قابل دید تھا –
دریائے کُنڈکے کنارے ریسٹ ہاؤس کی شہد کی مکھیاں اور پورے چھتے کی مکھیوں کا لڑکیوں کے پیچھے لگ جانا بہت سنسی خیز اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے
مصنفہ جس چابکدستی سے شخصیت نگاری کرتی ہیں اسی دلکش انداز سے مختلف جگہوں کے سیر سپاٹے ، خصوصاً کافرستان کاسفر ، کراچی پھر موہنجوداڑو، شہباز قلندر اور وہاں کا دھمال، جھیل سیف الملوک کے بارے میں ریل سفر کے قصّے سب کسی ماہر و من موجی سیاحت کے رسیا کی طرح بہت باریک بینی سے لکھے ہیں-
اپنے اساتذہ، تعلیمی مدارج ، سہیلیوں اور ہاسٹل کے قصّے اور ماحول کو جس زاویہ نگاہ سے جانچا اور لفظوں کو سفید کاغذ پر جس انداز میں لکھا بہت کم لوگ ایسا لکھ سکتے ہیں کہ ماحول اور شخصیات بلکہ اس دور کی تہذیب سامنے آکھڑی ہوتی ہے –
سچی بات ہے کہ وہ کوئی صدیوں پُرانی تہذیب و تمدن نہیں بلکہ چند دہائیوں پہلے کی بات ہے مگر آج کے دور سے موازنہ کریں تو لگتا ہے جیسے وہ ہم نہ تھے وہ تہذیب و اقدار وہ رکھ رکھاؤ وہ وضع داری وہ سچائیاں
چند دہائیوں میں اُڑن چھو ہوگئیں اچھا ہے نصرت صاحبہ نے قلمبند کرلیا ورنہ تو وہی چینی والا لچھا یا آج کل کی cotton candy جیسے چُھوا ہونٹوں کو لگایا منہ ڈالا تو گویا سب گُھل گیا – اُس دور کے سارے رنگ کہیں گھُل مِل گئے ہیں – اُن کے ڈیڈی ، بجو، دیدی اور پھوپھو کی طرح رزق خاک ہوگئے ہیں وہ وقت وہ لمحے وہ پل اور ہمارے لوگ۰۰۰۰۰نصرت صاحبہ جو ایک خوب صورت ہمہ جہت شخصیت ہیں اپنے خاندان کی پہلی بہت پڑھی لکھی لڑکی ،مانی پرمانی مقررہ ، مصنفہ ، کتابوں شیدائی ، لیڈی کونسلر ، پرنسپل و سوشل ورکر کیا ہے جو وہ نہیں ہیں ہ
“عابدہ حُسین صاحبہ بڑا سا سگار پیتے ہوئے بِلا تکان
بولے چلے جارہی تھیں- جبکہ اُن کے برعکس فخر امام صاحب حسبِ عادت خاموشی سے میوہ جات کھا رہے تھے – مجال ہے کے فخر امام کو اس پورے دورے میں تقریر کے علاوہ بولتے سُنا ہو-“
یہ سب آپ نے لکھا –
بھائی صاحب نسیم بھائی صاحب کے کتنے گُن آپ نے بتائے کہ اُلٹا بندہ اُن کے کردار کا قائل ہوجائے اپنا بھی تو بتائیں کہ تعلیم کے اتنے فرق کے باوجود آپ نے ہر طرح کا ماحول اور زندگی کو جیا و برتا
اپنی کتاب کی اصلی و موتیوں جیسی سُچی ہیرؤئن تو آپ ہیں-
ورنہ لُتری لُتری بے باک ، گھریلو سیاست کی فتنہ ساز صنفِ نازُک کو آپ جیسی پڑھی لکھی خاتون مزہ چکھاتی تو کتاب رنگ اور گوڑھے ہو جاتے بےحد دلچسپ و دلاویز ہو جاتے، مزہ آجاتا-
آپ ایک سادہ ،ذہین ،سلجھی ہوئی حسینہ ہیں جسے رَبّ نے اتنے گُن دیئے پر تھوڑی سی اگلے کو ٹکور لگانے کی عادت بھی مل جاتی تو سونے پر سہاگہ ہوتا-
نسیم بھائی صاحب تو اپنی قسمت چاندی بھی نہیں سچ میں سونے کے ورقوں میں لپیٹ کر لائے ہیں- آپ جیسی شریکِ تو اس دھرتی پر نعمت سے کم نہیں
کتنے سُنہرے دن تھے فریحہ ، اسد اور عائشہ کو نکھارنے والی ماں نے اپنے گھر کے ماحول کو ہمیشہ پُرسکون اور پڑھا لکھا رکھا – ورنہ فخر امام صاحب وقابلیت و ذہانت میں اپنی نصف بہتر سے بڑھ کر ہیں- عابدہ بی بی نے راج کئے-
آپ کے شعر نے مجھے بہت متاثر کیا، جو آپ نے اپنے جگر پاشوں کے لئے لکھا
تمہارے دم سے ہے مرے لہو میں کھلتے گلاب
یہ میری زیست کا سارا نظام تم سے ہے
بس یہی گلاب کھلانے کا شوق کی وجہ سے آپ کو معافی مل گئی-
آپ کی حسینہ دیدی کے لئے بھی آپ کے ڈیڈی نے ولن کا سا کردار نبھایا حالانکہ کتنے نفیس اور وضع دار تھے – پریوں کے دیس کی رانی جیسی بیٹی بھی رول دی- حسینہ بہت جاندار کردار تھا-
خوش رہیں قلم کو نکھار بخشنے والی پیاری مصنفہ نصرت نسیم صاحبہ!
قیصرہ شفقت کی طرف سے زینتِ ادب و کلچر نصرت نسیم صاحبہ کے لئے بہت سی محبت کے ساتھ
سلینہ ، تہمینہ اور ہوما ہم سب اکٹھے تھےافسردہ تھے – آج ہم سب کندہ شاہ کی پڑپوتیوں نے اپنے نایاب عزیز کو کھو دیا -یونس لالہ جنہیں میں اپنے لڑکپن سے سوچوں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک نگینہ انسان رَبّ تعالࣿی نے ہمارے خاندان کو بخشا اُن کی زندگی کو بطورِ مثال لیا جاسکتا ہے-کندہ شاہ کی تو عادت پڑ گئی تھی پر اب میں اُن کا ذکر زیادہ نہیں کر پاتی کہ میرا ذاتی خاندان یعنی میرے بچے اُنھیں قبول ہی نہیں کر پا رہے -تو میں پھر کیا کروں!
بات یونس لالہ کی کررہی ہوں میں سوچتی ہوں اس بندے کو شاید ماں کی بہت دُعا ہے نہیں باپ ذکریا خان چاچا کی یا شاید بہنوں کی بیوی کی نہیں عزیز رشتہ داروں نہیں شاید احباب کی ۰۰۰۰۰اپنے گھریلو معاونین کی -کچھ بھی اس بندے کے سر پر گویا آعلٰی تہذیب و اخلاق کا ہُما بیٹھ چکا تھا-میں نے کبھی کسی کے مُنہ سے اُن کے لئے شکایت نہیں سُنی-مجھے لگتا ہے لالہ کوئی ایسی نفیس ریشمی نرم و ملائم و زیرک و خوش کلام روح تھی سب ان سے محبت کرتے تھے-
ایسے نہ کرتے تھے لالہ میں بڑے گُن تھے-میں جو بتانے لگی ہوں اب تو شاید اس واقعہ کو دو دہائیاں ۰۰۰ تو گُزر چکی ہوگی – میں جب بھی ہوما سے ملتی ہوں اُسے کہتی ہوں : ہوما جی ! میرے بس میں ہوتا تو سوئیٹی (جو ہوما کی بڑی بہن ہے ) کو شجاعت کا کوئی میڈل ضرور پکڑاتی -ہُوا یوں اُس دن خاور (ہوما کا بھائی ایوب لالہ میرے کزن کا بیٹا)نے راحت بیکری سے کُچھ سامان خریدا اور اپنے دونوں بچوں زرلشتا اور زریان کے ساتھ لاہور کینٹ کے اپنے گھر کے اندر گاڑی پارک کی اور دونوں بچوں نے سامان سے بھرے لفافے تھام رکھے تھے – گیراج سے گھرکے دروازے کی طرف چل پڑے خاور نے گاڑی لاک کی اور ایک ہاتھ میں گاڑی کی چابی تھی اور دوسرے میں پیپر بیگ اس میں
بیکری فوڈ۰۰۰ تھا – اچانک کسی نے پیچھے سے آکر پسٹل کنپٹی پر رکھی اور بولا یہ چابی مجھے دو اور سیدھے چلتے جاؤ -یہ سب دیکھ کر بارہ سالہ زرلشتا اور سات سالہ زریان سہم گئے مگر اب وہ ایک بجائے دو ہوچکے تھے، آگے لان کی باڑ سے ایک اور بھی نکل کر ساتھ ہو لیا – اور اسی طرح وہ اب تین تھے- تینوں مسلح آدمی کوریڈور سے گزر کراب لاؤنج میں داخل ہوچکے تھے جیسے ہوما اور تہمینہ نے دیکھا تو سامنے بیڈروم کے طرف بھاگے اور تہمینہ نے واش روم میں گھس کر دروازہ اندر سے بند کرلیا – زرلشتا نے روتے ہوئے زور زور سے دروازہ بجایا ! مما ہمیں بچا لیں دروازہ کھولو مجھے ڈر لگ رہا ہے- اُس نے دروازہ کھول کربیٹی کا بازو پکڑ کر اندر لے جانا چاہا اُس مسلح شخص نے پستول اُس کی کنپٹی پر رکھ دیا – کہ خبردار! میرے ساتھ چلو اب خاور ، ہوما و تہمینہ اور دونوں بچوں کو لے کر اُن کی دادی یعنی چاچی صاحبہ (بیگم زمان خان چاچا)کے کمرے میں لےگئے –
اور سب کو ان کی دادی کے کمرے میں اکٹھا کرلیا ، گنتی کرتے کرتے ایک نے پوچھا تیسری لڑکی کدھر ہے – جبکہ برادری میں کسی شادی کے سلسلے میں ایوب لالہ اور ثریا بےبے (وہ بھی میری کزن تھیں )دونوں ڈیرہ اسماعیل خان گئے ہوئے تھے-
لرزتے ہوئے ہوما نے بتایا کہ وہ بہت ڈرپوک ہے۔کسی جگہ بےہوش ہوئی پڑی ہوگی -مگر یہ مکین حیران تھے کہ آخر ان کو گھر افراد اور راستے کیسا پتہ تھے –
اب وہ بولے کنپکٹی پر پسٹل رکھے رکھے آرڈر دیا کہ جیولری نکالیں تہمینہ (خاور کی مسسز)اپنے ہاتھوں کی چوڑیاں ، بندے ، گلے کی چین اور تین انگوٹھیاں اُتار کر ایک کی طرف بڑھا دیں اُس نے دونوں ہاتھوں میں ہاتھوں میں پکڑازیور ہوا میں اُچھال دیا -اور پسٹل پھر سیدھا کنپٹی پر رکھ کر دھاڑا وہ سونے کے رانی ہار ، کنگن اور جھمکوں والے ڈبے نکالو-
خاور نے کہا ہمارے پاس تو گھر میں یہی ہے –
وہ سخت آواز میں بولا : جو بڑے ڈبوں میں ہے وہ نکالو -اب ہوما اور تہمینہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں اور اٹک اٹک کر بڑے ڈبے۰۰۰۰۰
ہاں وہی بڑے تین ڈبے جو تمہاری ماں گھر میں رکھ کر گئی ہے ۰۰۰۰ پھر چونک کر بولے وہ تیسری لڑکی کہاں ہے ؟ان دو نے لرزتے ہوئے کہا کہیں بے ہوش گری پڑی ہوگی آپ خود دیکھ لیں –
جب تین مسلح لوگ سامنے ہوں ایک نے خاور پر ایک نے خواتین پر پسٹل تان رکھا ہو چھوٹے دو بچے رو رہے ہوں- سوئیٹی نظر نہیں آرہی تھی- ایک ساتھی پوری الماریاں دادی کے کمرے کی کنگھال رہا تھا پر کچھ بھی ہاتھ نا آیا تو جھنجھلا کر دوسرے بیڈرومز کی الماریاں کی تلاشی لینے میں جُت گئے-ایک ان پر پہرہ دینے دو گھر کی تلاشی میں اور چوتھا لان میں موجود تھا -ہوا یوں کہ جب سوئیٹی نے اپنے کمرے کی کھڑکی سےڈاکوؤں کے ساتھ بھائی کی حالت دیکھی تو ساری صورتِ حال سمجھ کر وہ اپنے واش روم گئی اوریہ محض اتفاق تھا کہ اُسی واش روم کا ایک دروازہ باہر کھلتا تھا -(اُس دن ہوما بتا رہی تھیں کہ اُسی باہر کھلنے والے دروازے پر ہم سب بہت معترض ہوا کرتے تھے-)وہ دبے پاؤں واش روم گھسی جب گھر میں ڈاکو
دوسروں کو قابو کرنے میں مصروف تھے –
یہ بغیر جوتوں کے گھر کے نیم وا گیٹ سے نکل کر گلی میں آگئی – شام رات میں بدل چُکی تھی اس نے پڑوسن ڈاکٹر آنٹی کے گھر جانے کا فیصلہ کیا جن کے ساتھ ان کے گھریلو مراسم تھے –
اُن دنوں صرف لینڈلائن فون کی سہولت تھی – اس نے ساری کہانی سُنا کر فون کرنے کی اجازت مانگی – اُس نے اُفتاد کا بتایا کہ ایک فون کرلوں؟
ڈاکٹر آنٹی گھبراگئی : ضرور پر کسے کریں گی -ایک بجلی کے کوندے جیسا خیال ذہن میں آیا اور فوراً ایک نمبر گھمایا – فون بھی فوراً اُٹھا لیا گیا
سوئیٹی: یونس انکل ! ہمارے گھر میں اس وقت ڈکیت گھس آئے ہیں – مجھے گھر سے نکلنے کا موقع مل گیا تو آپ کو پہلے بتارہی ہوں – باقی سارے گھر والوں یرغمال بنائے ہوئے ہیں-یونس لالہ کو لرزتی کانپتی آواز میں وہ سب بتایا جو دیکھا تھا -پھر دوسری فون جسٹس عبدالجبار خان کے گھر کردی اور سب بتایا -وہ لاہور میں کُچھ فاصلے پر رہتے تھےقریبی عزیز تھے تو اُسے اور کُچھ نہ سوجھ رہا تھا کہ بس یہی کر سکتی ہوں یہ تو کروں- جبار خان والے بھی گھبرا گئے کہ ڈرنا نہیں بس ابھی پہنچے-اب ڈاکٹر آنٹی کبھی اُس کا ہاتھ سہلائے کبھی گلے لگائے اورتسلی دے رہی تھی مگر اسے خود کو جیسے اختلاجِ قلب ہو رہا تھا –
اچانک پولیس کی گاڑی نہیں کئی گاڑیاں وہاں آموجود ہوئیں یہ اب باہر جھانک کر دیکھنے سے بھی ڈر رہی تھیں ، پھر بھی کمرے میں مکمل اندھیرا کرکے کھڑکی کا پردہ سرکا کر جھانکا ان کے گھر کو پنجاب پولیس نے مکمل گھیرے میں لے رکھا تھا ، گولیوں کے چلنے کی آواز گھر سے بھی آرہی تھی اورسٹریٹ میں بھی تڑ تڑ تڑ کوئی ہوائی فائرنگ تھی کہ تسلسل نے پورے علاقہ کے مکینوں فکر مند کردیا -سوئیٹی آبدیدہ آنکھوں سے آنٹی : میرے گھر والوں پر کیا گُزر رہی ہوگی!
اب اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے اچانک سائرن ، گولیوں کئ تڑ تڑ تو تھم گئی ، عجیب سی پُر اسرار خاموشی نے ماحول کو گھیر لیا، اب تو خوف ، افسردگی و وسوسوں نے اُسے آدھ مُواء کر دیا –
جب خاموشی کے بعد کُچھ صورتِ حال واضح ہوئی ، ڈاکٹر آنٹی جن کے میاں ڈاکٹر تھے اُسی وقت گھر میں داخل ہوئے تو مسسز کوبتایا کہ ایوب خان کے بچےاور والدہ آج معجزانہ طور پر بچ گئے –
سوئیٹی کو دیکھ کر کہا : بیٹی کو کوئی جوتے دو ابھی تک ننگے پاؤں ٹھہری ہے -اسے گھر چھوڑ آئیں – وہ سب اس کے لئے پریشان ہیں-سب کی سلامتی خبر سُن کر اُس کی جان میں جان آئی-جب گھرپہنچے تو سب اُسے سراہنے لگے کہ ابھی پشاور سے یونس انکل نے بتایا : ایک اتفاق تھا کہ پشاور کا آئی جی میرے گھر میں میں موجود تھے اور اُنھوں نے اسی وقت پنجاب کے آئی جی کو فون کیا یوں یہ مہم سوئیٹی کی بروقت ذہانت اور بہادری کے نام ہے-پولیس کے کمانڈوذ نے بڑی چستی دکھائی بغیر کوئی نقصان ہوئے ڈکیت دھر لئے گئے-یوں اگلے دن پتہ چلا کہ وہ ایک خطرناک گینگ جو پورے لاہور میں کئی خطرناک وارداتیں کرچکا تھا – کئی جانیں اور عزتیں قربان ہوئیں اور یہ مافیا اتنے لمبے ہاتھ رکھتا تھا ، مخبری والی ٹیم میں بھی منجھی ہوئی ٹرینڈ خواتین بھی شامل تھیں اُنھی میں سے ایک سوئے اتفاق ایوب لالہ کی نئی مُلازمہ تھی جسے رکھے ابھی دو مہینے ہوئے تھے-وہ بظاہر انتہائی سیدھی اور لاپرواہ سی خاتون گھر کے گوشہ گوشہ سے واقفیت حاصل کرتی رہی اور سب پر نظر رکھتی تھی –
چونکہ ہر وقت گھر میں ہوتی تھی اُسے کسی طرح یہ علم ہوگیاتھا کہ گھر کی بڑی بیگم صاحبہ کی بھابھی نے لاکر سے جیولری نکلوا کر ان کے گھر رکھی ہوئی تھی-
گھر والوں کو ہوا تک نہ لگنے دی کہ وہ تو سب باتیں بعد میں کھلیں کہ وہ خاتون گینگ کا بہت اہم فرد تھی-
تین ڈکیتوں کو تو پنجاب پولیس نے دبوچ لیا ایک جو لان کی باڑ کے پیچھے یا درخت پر تھا وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا-
سُنا یہ گیا وہ تین ڈکیت بھی چونکہ بڑے مضبوط گینگ اور پنجاب کے تگڑے سیاست دان کی چھتر چھایا میں تھے اب تو وہ پولیس کی بڑوں کی نظر میں آچُکے تھے-
لہذا بعد میں پولیس مقابلہ میں تینوں ڈکیت مارے دیئے گئے-
یونس لالہ اُن دنوں سرحد کے فنانس سیکریٹری تھے ، بعد میں وفاق میں بھی رہے اور پھر آڈیٹرجنرل بنے-
مگر وہ بندہ ڈاؤن ٹو ارتھ پیار و خلوص کا پیکر میرے احساسات اُن کے بارے یوں ہیں میں ساتویں کلاس میں پڑھتی تھی جب لالہ کی شادی ہوئی ہمارے محلے کے گھروں یعنی میرے بابا اور چاچا کے گھروں درمیان ایک غلام گردش حائل تھی میں اپنے گھر دالان کے کھلے دروازے سے چاچا کے گھر کے دالان کے لوگوں چلتا پھرتا محسوس کر سکتی تھی –
لگتا تھا شادی جیسے ہمارے گھر میں ہورہی تھی- ایک کمرہ چاچا چاچی کے تصرف میں رہا کہ بےتکلف مہمان بہت بہت دن ٹھہرا کرتے تھے – شادیاں گھروں میں ہوتی تھیں-
شادی کے بعد لالہ کی پہلی پوسٹنگ پشاور میں تھی- چاچی لالہ کی والدہ بہت مہربان خاتون تھیں مجھے اچھی طرح یاد چاچی جب بھی ملتیں اُن کی عادت تھی وہ ہاتھ جب اپنے ہاتھوں میں لیتیں تو کتنی دیر پیار سے مَسلتی رہتیں، سہلاتیں اور ہاتھ کافی دیر اپنے ہاتھوں میں رکھتیں ، مجھے کہتیں تمہارے دانت اپنے چاچا سے ملتے ہیں کہتیں اُن بھی Lucky گیپ ہے – میں حیران ہوتی اچھا یہ لکی گیپ ہے !
اُس دن بھی چاچی سب سے ملیں کل زینت باجی لالہ کی دُلہن سمیت سب نے جانا تھا –
میں نے چاول چڑھائے ہوئے تھے-چاچی نے ڈھکنا اُٹھایا بولی اتنے زیادہ چاول کس کے لئے بنا رہی ہو کہا اپنے اور بہن کے لئے – چاچی نے ماپنے کا طریقہ بتایا ،کہا ایک کپ کچے چاول کا بھرا ہو ہو تو دو بندوں کے لئے کافی ہوتا ہے -خیر وہ بات تو مجھے اب تک یادہے پر مجھے یاد ہے شادی کے بعد مُلتان جس دن چاول بناتی یا دال تو بدر خان کہتے پورے محلہ میں بانٹنی ہیں –
میں کہتی : پتہ نہیں بدر خان! جب چڑھانے لگتی ہوں مجھے لگتا ہے کم پڑ جائیں گے – بچے چھوٹے تھے ،ہم سے تو ختم نہ ہوتے بانٹنا ہی پڑتے ۰۰۰۰
خیر یہ تو درمیان درمیان سے زندگی کے ڈاٹ جُڑتے ، ٹوٹتے رہتے ہیں-
پر چاچی لوگوں کو پشاور گئے کوئی دو یا تین مہینے ہی ہوئے ہوں گے –
گرمی کے دن تھے – پشاور سے فون آئی، چاچی کو دل کی تکلیف ہوئی اوران کی وفات ہوگئی ہے ۔
ہمارے پورے خاندان کے بہت افسوسناک خبر تھی مَیّت روانہ ہوچکی تھی-
چاچی خاکوانی تھیں یوں ایک برادری اکٹھی ہوگئی اور وہ ابھی تو شاید ففٹی پلس تھیں ارلی ففٹی میں ۰۰۰۰ تب میں نے لالہ کو پہلی بار ٹوٹتے دیکھا ، اتنی شفیق اور پیاری ہستی کے کھو جانے پر کتنے سال وہ نہ سنبھل سکے-پر زندگی ہے – زندگی اور موت کی راہیں الگ الگ ہیں-چونکہ ساتھ ساتھ گھر تھے جب بھی اقبال باجی اُن کی بہن گھر میں ہوتیں تو باجی نے اجازت دے رکھی تھی کہ تم دالان میں بیٹھ کر پڑھنا چاہو تو آجایا کرو – مجھے یاد ہے- میں ایف اے اور بعد میں بی اے کی ہسڑی کے نوٹس اسی تخت پوش پر بیٹھے بیٹھے بنائے کبھی کبھی تو فجر کی آذان ہو جاتی ۰۰۰۰ کیا دن تھے-خیر ایک اور واقعہ ہے ہوا یوں کہ شہر میں الیکشن کا ماحول تھا – میرا بڑا بیٹا رازی خان کوئی دس سال کا ہوگا – عمر تب آٹھ کا ہوگا اور ذیشان بھی چھوٹا ساتھا- مہرالنساء نے ابھی ہمارے گھر رونق نہ بخشی تھی-ہیلی کاپٹر جب ٹانک کے رمضان ڈبرے کی پرچیاں پھینکتے تو میرے بچے بہت زیادہ امپریس ہوتے ، بھاگ پرچیاں پکڑ لیتے اور پڑھتے پھر ایک دن رازی کو رمضان ڈبرے پر اتنا پیار آیا کہ مجھے ساتھ بۓھا کر قسم دلوائی کہ ووٹ اسے دینا ہے – مولانا تو ہمیشہ سے مجھے ناپسند تھے میں نے حامی بھر لی باپ نے قسم کھانے صاف منع کردیا – مگر میں نے بچوں کو تسلی دی کہ میرے جگر پاشو میں ہرکا م
آپ صلاح سے کروں مجھے کونسا کسی کو ووٹ دینے کا شوق ہے -خیر شغلی ووٹ ہوا کرتے تھے بڑی رونق ہوتی تھی -میں نے جاکر اپنے محلہ خاکوانی والے پولنگ بوتھ ہر جاکر ڈبرے کو ووٹ دے دیا ، پھر اپنے مائکے کڑی علیزئی چلی آئی -اُن دنوں ابھی محلوں میں اپنوں رونقیں تھیں ۔ میں اَمّاں کے گھر آئی سامنے دالان سے چاچا کے دالان میں زینت باجی نے دیکھا تو مجھے اشارے سے بُلایا چلی گئی تو یونس لالہ بھی بیٹھے مُسکرا رہے تھے – کہنے لگے : ووٹ کسے دیا ہے ؟تھوڑا جھینپ کر کہا : لالہ۔ رمضان ڈبرے کو لالہ حیران ہوکر ہنسنے لگے اُسے کیوں ؟ میں نے بتادیا-زینت باجی بولیں آؤ ہاتھ ملاؤ ، میں نے بھی ڈبرے کو دیا ہے-خیر آگے تو سُنیں دوسرے دن پتہ چلا کہ ڈبرے ہزاروں لاکھوں پرچیاں پھینکنے کے باوجود ڈیرہ سے اُس کے دو ووٹ نکلے ، محلہ خاکوانی سے میرا اور کڑی علیزئی سے زینت باجی کا – یہ تو پھر اُس کی اپنی بیوی نے اُسے ووٹ نہیں دیا تھا-
قصّہ سلور لائنز کے ٹرپ کا
ذیشان فون پر تھاڈھیروں باتیں ہوگئیں اک دم مجھے یاد آیا کہا: بیٹا جی ! یہ میری آئی واچ کو میرے ساتھ کیا دُشمنی ہے؟
بولا: اَمّاں کیا ہوا ؟
کہا: اگر ٹریڈ مل پر آدھ گھںٹہ لگا کر تقریباً میں چار ہزار stepsکرلیتی ہوں تو یہ گھڑی اُسے دوہزار بھی مشکل سے مانتی ہے-
ذیشان: اَمّاں واک شروع کرنے سے پہلے آپ گھڑی پر In door walkکاآپشن آن کیا کریں-
کہا: تمہارا خیال ہے میں جب ارادہ باندھتی ہوں تو آن کرلیتی ہوں-اس نے کوئی میرے ساتھ ضد پال لی ہے-
بیٹا ذرا دھیمی آواز نکال کر: امّاں پھر آپ کو نئی ساس مل گئی ہے!
میں ششدر سی ہوگئی فون speaker پر رکھاہوا تھا ساتھ بیٹھی منجھلی بہو سُن کر ہنسنے لگی-
میں نے اُسے کہا میں سلور لائنز کی ممبر ہوں پازیٹو سوچنا ہی ہمارا کام ہے –
یوں نند ٹریڈ مِل اور ساس میری کلائی کی گھڑی اچھی ہے میری صحت کا سوچتی ہے مجھے موٹا نہیں ہونے دیتی بلکہ motivate کرتی ہے کم steps دکھا کر۰۰۰
اب سلور لائنز گروپ کے حوالےسے سوچنے لگی وہ بھی تو پازیٹو سوچ اور زندہ دلی میں اپنی مثال آپ ہیں
کوئی دو اَڑھائی سال سے میری سوسائٹی والوں نے چاہے کوئی تھرٹی پلس ہے، ففٹی پلس یا سکسٹی پلس سارے پلسسز pluses ملا دیئے گویا ستاروں کی کہکشاں بنا دی-تو یہ سلور لائنز گروپ بن گیا-
یعنی چاندی اُترے بالوں والیاں لیکن ساتھ میں سُنہرے اور کالے شاہ بالوں والیوں کا ساتھ بھی سلور لائنز کے حسن میں اضافہ کرتا ہے-
حالانکہ ان سب ستاروں کی ملاقاتوں میں مہینوں کا گیپ ہوتا ہے مگر جب ملتے ہیں شیر وشکر ، جیسے بچھڑے ہی نہ تھے-
پہلے پہل ریسٹورنٹس میں ملنے کا سلسلہ شروع کیا –
کبھی لاء سورٹی، کبھی وسنا مارکی تو کبھی بھاٹی گیٹ ریسٹورنٹ وہیں ہمیں جہاں شاہدہ جی ، رضوانہ ہمایوں صاحبہ اور عامرہ جی جیسی دو خوشگوار مزاج و شائستہ و پرکشش لب و لہجے کی خواتین سے جو بہترین منتظمہ بھی ہیں سے ملنے کا اتفاق ہوا – جن کا دایاں ہاتھ یا بازو ندا جی ہیں –
یوں یہ تینوں مل کر اتنا پرفیکٹ شیڈول بناتے ہیں کہ ممبرز تو بس اکٹھا ہوتے ہیں اور خوب خوب لطف اندوز ہوتے ہیں سیر سپاٹے کرتے ہیں وہ دن لگتا ہے یورپ کے کسی حسین گوشے میں گُزرا ہو ،یوں جیسے پھر سے توانائی سے دل ودماغ و روح چمک اُٹھتی ہے -سب تازہ دم ہوجاتے ہیں –
پھر چاروں کسی نئی منزل کی نشاندہی کرتی ہیں اور یوں سلور لائینز گروپ نئی منزل کی جانب لپکتا ہے-
علامہ محمد اقبال کے بقول
جھپٹنا پلٹنا جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کاہے اک بہانہ
کوئی دو ماہ ہوگئے ہیں ہم سلور لائنز گروپ(ویسے سلور لائنز نام کو میرے بچوں نے بہت سراہا کہ کسی ذہنِ رسّا نے نام رکھا) کے کوئی بیس بائیس ممبرز ایوب پارک گئے ، ایوب پارک کو کسی بہترین ارکیٹیکٹ ٹیم نے نیاروپ دے دیا ہے !
تفریح اور ذہنی تازگی بخشنے کے لئے پھولوں کے تختوں سے پارک لدے تھے حسین آرٹسٹک تراش خراش نے کُچھ سیکشن تو ایسے سجائے تھے جیسے ابھی ابھی دُلہن بیوٹی پارلر سے سج کر نکلی ہو –
ایک ایک گوشہ سے نفاست سے سجا تھا سرسبز لش گرین گھاس ، سنتھے اور بوگن ویلیا اور پائن کے خوب صورت درختوں کے شانہ بشانہ مقامی درختوں کو انسانی ہاتھوں نے فنکارانہ سجاوٹیں بخش دیں-
پہلی بار اتنا صاف ستھرا ماحول ہر طرح کے جانوروں کو میسر تھا –
اونٹ کے روائیتی سے کجاوں میں سیر کی اور پھر شاہی بگھی کی سواری اور بھوت گھر یا Horror house بس میں تو چُپ سادھے بیٹھی تھی میری ساتھی زَاہرہ اعجاز صاحبہ نے مجھے آہستہ سے کہا آپ آواز کیوں نہیں نکال رہیں لگا جیسے پوچھ رہی تھیں زندہ ہو-
کہا: جی
جب سامنے مردے کفن میں لپٹے ہوں ،بھوت ناچ رہے ہو ں ، ایسے میں بندہ کیا چیخے – اسی وقت دو کفن پوش مردے ہمارے سامنے تھے میرے والا تو ٹھہرا رہا دوسرا میری ساتھی پر گر گیا-
دلچسپ ڈراؤنی سُرنگ تھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا آخر کار نکل آئے۔
چھوٹی چھوٹی گاڑیوں میں تقریباًُ ایوب پارک دیکھ لیا –
کُچھ گوشے ابھی بھی رہ گئے –
چھوٹے سے کروز میں جھیل کی سیر کی مجھے حیران سی خوشی تھی کہ کوئی پبلک پارک میرے وطنِ عزیز میں اتنا آرگنائزڈ بھی ہوسکتا ہے – پر ہے اور زبردست ہے-
خیر بہت اچھا سا ناشتہ Complimentary تھا وہ اتنی ڈھیر ساری سیر کے بعد خوب انجوائے کیا- میں حلوہ پوری کھاتے ہوئے محترمہ شاہدہ جی سے پوچھا بھی کہ : ہم آپ کے ہیں کون؟ آخر کون دریا دل ہمیں دل کھول ناشتہ کھلا رہا ہے-
اُنھوں نے اپنی بڑی بڑی ذہین آنکھوں سے مجھے ایسا دیکھا جیسے کہ رہی ہوں : آم کھاؤ تم تو پیڑ گننے لگیں-
لہذا پھر پُراٹھوں کے ساتھ لذیذ چنوں نے مزہ کرادیا-
خیر میں نے کونسا ایوب پارک کی سیر کی بابت بتانا تھا
مجھے تو گیارہ مئی کا لوئر ٹوپہ کا ٹرپ اپنے حُسن میں مسحور کئے ہے !
کیا خوب صورت ماحول شاندارروڈ آل دا وے موٹر وے، میں شگفتہ صاحبہ ، ماورا کی ساتھ بالکل آخری سیٹ پر بیٹھے تھے آگے بس کے اندر کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے تھا-
کہ اچانک محترمہ شاہدہ پروین جی یا ایس پی نے شاندار اعلان کہ خوش نصیب ہم سفرو! لنچ آپ
کو کھلایا جائے گا لوئر ٹوپہ انتظامیہ کی جانب سے اور یہ ارینج کیا ہے محترمہ مسسز مہ جبین حفاظت اللہ نےاور پھر تالیوں کی گونج میں ایک اور خوشگوار اعلان فرمایا کہ ندا جی کے میاں جُنید خان صاحب نے سلور لائنز گروپ کے ہر ممبر کے لئے( سلور لائنز کا مونو گرام جو بہت خوب صورتی سے چھپا ہے)ایک بلیک کیپ بھجوائی ہے-
سب کے موڈ ان اضافی سہولتوں پر بےحد خوشگوار ہوگئے بلکہ کھِل اُٹھے-
اس سفر میں دو بسیں بھر کر لوئر ٹوپہ پہنچے وہاں پی اے ایف کالج ائیر فورس کے عملہ نے شاندار استقبال کیا-
کالج کی اکیڈیمک سرگرمیوں کو سلائیڈز کی مدد سے دکھایا پورا کالج گھمایا- اتنے عرصے بعد اپنا قومی نغمہ سُنا اور سب احتراماً کھڑے ہوگئے اور بہت خوش تھے-
قدرتی اُتار چڑھاؤ پر بنا لوئر ٹوپہ کا یہ کالج خود ائک خوب صورت و مضبوط عمارت ہے اور کالج تو لوئر ٹوپہ کا شاہکار ہے-جو سرسبز پہاڑوں اور ترو تازہ سبزے میں گھرا پُر فضا مقام ہے-
بہت اچھی سروس عملہ نے دی اور اپنی فورسسز کی روایت کو نبھایا –
لنچ و لوازمات سے فراغت کے بعد آفیسرز میس کے سامنے پھیلے وسیع و عریض سرسبز لان پر آرام دہ کُرسیاں رکھ دی گئیں تھیں سب خواتین نے مل کر محفل سجا دی –
گانوں کے مقابلوں میں ہمارے گروپ کی خوب صورت آواز عامرہ شہاب چھائی رہیں بلکہ جانِ محفل بنی رہیں -فیض صاحب کی غزل گلوں میں رنگ بھرے ، باد بو بہار چلے سے آغاز کیا اور ڈھیر سارے گانے گائے گئے تصویریں لی گئیں یہہاں تک کے اس محفل کو اختتام تک لونگائی لاچی کا بِیڑا لگایا ، چابے گوری کا یار ، بلم ترسے ،رنگ برسے ۰۰۰۰ گانے نے پہچایا
وہیں لان میں ہلکی ہلکی چلتی سرد سی خوشگوار ہوا ، پائن و سرو کے درختوں سے مدھر سروں کی طرح سے بکھر کر سب کو سکون پہنچا رہی تھی-
سامنے ناچتے ٹاپتے بندروں کے غول ۰۰۰ حدِ نگاہ تک پھیلے سرسبز قطعات گویا پہاڑوں کے نشیب وفراز نے سرسبز ردا اوڑھ لی ہو- سر بلند کئے اونچے اونچے درخت اور اُن سےلپٹی بیلیں ایک حسین منظر سا تھا جو موسم کا رومانس بڑھا رہا تھا کسی کا بھی اُٹھنے کو جی نہ چاہ رہا تھا –
تھیک چار بجے عامرہ جی اور شاہدہ جی نے رُخصتی طبل بجا دیا یوں نا چاہتے ہوئے بھی سب نے دھیمے دھیمے قدموں سے واپسی کی راہ لی ایک بار پھر سب نے اپنے پھیپھڑوں میں تر تازہ آکسیجن بھر لی تھی ایک نئی تازگی اور انرجی سب کے چہروں سے عیاں تھی-دوستوں کا ایک دوسرے بچھڑنے کو قطعاً ارادہ نہ تھا کچھ وقت اور بھی چاہیئے تھا پر اسلام آباد واپس آنا تو تھا –
کون کہتا ہے مُلاقات مری آج کی ہے
تو مری روح کے اندر ہے کئی صدیوں سے
