بستیوں کو تو بچا
رحم فرما اب خدایا
بستیوں کو تو بچا
آفتوں سے نکال مولا
بستیوں کو تو بچا
ہر سو پانی ہے مگر
دو بوند پینے کو نہیں
یا الٰہی کرم فرما
بستیوں کو تو بچا
اس سے پہلے کہ ڈوب جائیں
سب منظر خواب کے
تجھ کو تیرا واسطہ
بستیوں کو تو بچا
شہر شہر گاؤں گاؤں
پانیوں کا راج ہے
خشک کر دے عذابِ دریا
بستیوں کو تو بچا
سجدوں میں جا گرے ہیں
آفتوں کی زمیں پر
قبول فرما اب التجا
بستیوں کو تو بچا
-
شاہد قزلباس صادق آباد سے ہیں۔ بہترین شاعر اور لکھاری ہیں
اولین شعری مجموعہ (محبت اب کہاں )
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
