مصنوعی ذہانت سہولت یا خطرہ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

مصنوعی ذہانت سہولت یا خطرہ



مصنوعی ذہانت انسانی فکر و تخلیق کی وہ تازہ ترین منزل ہے جس نے تمدنِ انسانی کے نقشے کو غیر محسوس انداز میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ انسان نے جب پہلی بار لکڑی کے اوزار تراشے تھے، تب بھی ایک نئی دنیا کا در کھلا تھا، مگر آج جو در وا ہوا ہے وہ محض ایک ایجاد کا دروازہ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی پیشانی پر لکھی ہوئی تحریر ہے۔ اس تحریر میں آسانیوں کی خوش خطیاں بھی ہیں اور خطرات کی کجیاں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو دیکھتے ہوئے ذہن وسوسوں اور امیدوں کے بیچ جھولتا رہتا ہے۔ کبھی یہ ٹیکنالوجی انسان کو حیران کر دیتی ہے، کبھی اس کی نیندیں اڑا دیتی ہے، کبھی سہولت کا فرشتہ لگتی ہے اور کبھی خطرے کا امکان۔
آج دنیا کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں مصنوعی ذہانت نے مداخلت نہ کی ہو۔ ادویات کی دنیا میں تشخیصِ امراض کے وہ مراحل جن پر ماضی میں گھنٹوں اور دنوں کی محنت صرف ہوتی تھی، اب چند لمحوں میں انجام پاتے ہیں۔ مریض کا ایک ایم آر آئی یا ایکس رے مشین کے سامنے آتے ہی کمپیوٹر ایسے نتائج مرتب کرتا ہے کہ کئی تجربہ کار اطبا بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ دل کی دھڑکن میں معمولی سی بے ترتیبی ہو یا دماغی رسولی کے ابتدائی آثار مصنوعی ذہانت ان کا سراغ انسان کی آنکھ کے دکھائی دینے سے کہیں پہلے پا لیتی ہے۔ گویا یہ ٹیکنالوجی انسانی صحت کی محافظ بھی ہے اور زندگی کو طویل بنانے کی امید بھی۔
عملی زندگی میں سہولتوں کا یہ سلسلہ محض طب تک محدود نہیں۔ دنیا کے بڑے شہروں میں ٹریفک کا نظم اب انسانی فیصلوں سے زیادہ مشینی ذہانت کا مرہونِ منت ہے۔ سگنلوں کا وقت، گاڑیوں کے بہاؤ کا انداز، حادثات کی پیش بندی کے طریقے سب کچھ خود کار نظاموں کے کنٹرول میں ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے شہر کی رفت بہت حد تک کسی غیر مرئی دماغ کے ہاتھ میں ہے جو لمحہ بہ لمحہ حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتا ہے۔ یہی نہیں، صنعت و حرفت کے کارخانوں میں روبوٹس نے انسانی مشقت کا بڑا حصہ سمیٹ لیا ہے۔ وہ رفتار، جس کا انسان متحمل نہ ہو سکتا تھا، مشینی بازو بآسانی سنبھال لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پیداوار بڑھتی چلی جاتی ہے اور نقص میں کمی آتی جاتی ہے۔ بظاہر یہ تمام عوامل انسان کے لیے آسودگی کا ذریعہ ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی بشارت دیتے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا سہولت کا ہر دروازہ خطرے سے قطعی خالی ہے؟ کیا مشین کا دماغ انسانی دماغ کا وفادار معاون رہے گا یا مستقبل کے کسی موڑ پر اس کا مقابل بن کھڑا ہوگا؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے محاسن کے ساتھ ساتھ اس کے مضر پہلوؤں پر بھی نگاہ ڈالنا لازمی ہو جاتا ہے۔
فیکٹریوں میں روبوٹس کا بڑھتا ہوا استعمال انسانی مزدوروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ ایک روبوٹ جو تین شفٹوں میں مسلسل کام کر سکتا ہے، نہ تنخواہ مانگتا ہے، نہ آرام، نہ مالی تحفظ؛ ظاہر ہے کہ سرمایہ دارانہ ذہن کے لیے یہ ایک مثالی ابتدائیہ ہے۔ لیکن مزدور، جو اپنی محنت کے بل پر گھر چلاتا ہے، اس کے لیے مستقبل کی زمین سکڑتی چلی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں لاکھوں افراد روزگار کے لیے سرگرداں ہیں کیونکہ ان کے فرائض اب مشینوں نے سنبھال لیے ہیں۔ ترقی کا یہ پہلو بظاہر خوشنما ہے مگر معاشرتی توازن کے لیے بہت بڑا خطرہ بھی ہے۔
اس کے بعد وہ خطرہ ہے جو زیادہ خاموش مگر زیادہ گہرا ہے—خود کار فیصلوں کی غیر انسانی سختی۔ جب بھرتی کے اشتہارات پڑھنے، امیدواروں کے پروفائل چھانٹنے، انٹرویو کے نتائج مرتب کرنے اور حتیٰ کہ قرض کی منظوری جیسے معاملات مصنوعی ذہانت کے سپرد ہو جائیں تو انسانی ہمدردی اور سماجی شعور پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ایک الگورتھم، جو صرف اعداد و شمار کو دیکھتا ہے، کسی امیدوار کی معاشرتی مجبوری یا ذاتی مصلحت کو نہیں سمجھ سکتا۔ یوں بعض اوقات وہ فیصلہ کرتا ہے جو انسان کے لیے ناانصافی کا سبب بن جائے۔ کئی واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ ناکافی یا غلط تربیت شدہ ماڈلز نے بے گناہوں کو مشتبہ یا مجرم قرار دے دیا، جس کے باعث ان کی زندگیوں میں ایسے دھارے پیدا ہوئے جن کا ازالہ ممکن نہ رہا۔
اس کے ساتھ جعلی معلومات کا بڑھتا ہوا سیلاب بھی مصنوعی ذہانت کی دین ہے۔ چند برس پہلے کوئی بھی شخص فرضی تصویر یا جھوٹی ویڈیو بنانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، مگر آج ڈیپ فیک تکنیک نے حقیقت اور فریب کے بیچ کی لکیر مٹا دی ہے۔ ایک سیاست دان کی جعلی تقریر، کسی استاد کے خلاف جھوٹی ویڈیو، یا کسی عام شہری کی ہتک آمیز تصویر—سب کچھ چند منٹوں میں تیار ہو کر سوشل میڈیا پر پھیل جاتا ہے۔ عوام، جو پہلے ہی اطلاعات کی بارش سے پریشان ہیں، اس دھوکے کے بوجھ تلے مزید دب جاتے ہیں۔ رائے عامہ کا دھارا مصنوعی تصویروں کی سمت مڑ جائے تو جمہوریت کے ستون لرزنے لگتے ہیں۔
رازداری کا مسئلہ بھی کچھ کم سنگین نہیں۔ انسان اپنے اسمارٹ فون کے سکرین لاک سے لے کر اپنے گھر کے فریج تک سب کچھ ایک ایسے نظام کے حوالے کر چکا ہے جو اس کی عادتوں، پسند ناپسند، روزمرہ کے معمولات اور حتیٰ کہ گفتگو تک کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ ذخیرہ کب، کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہو جائے۔ ایک دور وہ بھی تھا جب جاسوسی خفیہ ایجنسیوں کا کام تھا، مگر آج ہر شخص اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے چھپے زاویے ایک مشین کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ یہ اعتماد کب دھوکا بن جائے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
ان تمام پہلوؤں کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ محض نعمت ہے، نہ سراسر زحمت۔ یہ انسان کے ہاتھ میں ایک تیز دھار آلہ ہے۔ اگر اس پر اخلاقیات کا غلاف چڑھا دیا جائے، اگر قانون اور ضابطہ اسے باندھ کر رکھیں، اگر شفافیت اور جواب دہی اس کے قدموں کے ساتھ چلیں، تو یہ انسانی ترقی کو نئی منزلوں تک لے جا سکتی ہے۔ مگر اگر اسے بے لگام چھوڑ دیا گیا، اگر فائدے کے لالچ میں خطرات کو نظرانداز کر دیا گیا، تو یہ ٹیکنالوجی انسان کا معاون کم اور حریف زیادہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انسان نے اپنی تاریخ میں ہمیشہ نئی قوتوں کے سامنے دو راستے پائے ہیں: ایک راہ جس پر چل کر وہ ترقی کو نظم دیتا ہے، اور دوسری راہ جس پر بے احتیاطی اسے تباہی کے دہانے تک لے آتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی ایسا ہی موڑ ہے۔ اگر انسان اس ٹیکنالوجی کے ساتھ دانش، اخلاق اور احتیاط کا رویہ اپنائے تو یہ اس کے لیے نئی دنیا کا دروازہ کھول دے گی۔ لیکن اگر وہ اس کی رفتار سے مرعوب ہو کر اپنی بصیرت کو فراموش کر بیٹھا تو ممکن ہے کہ ایک دن وہ اپنی ہی تخلیق کے سامنے خود کو بے بس پائے۔
مصنوعی ذہانت کا یہ عہد آغاز میں سہولت کا وعدہ کرتا ہے، مگر اس وعدے کی ہر سطر میں ایک سوال بھی پوشیدہ ہے: کیا انسان اپنی عقلِ سلیم کو برقرار رکھ سکے گا؟ کیا وہ اپنی اخلاقی حدود قائم رکھ سکے گا؟ اگر ان سوالوں پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو سہولت کا یہ چراغ بھی ایک دن خطرے کی آگ میں بدل سکتا ہے۔ انسان کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *