نئی الجھنوں میں پرانے زخم رسنے لگے ہیں

نئی الجھنوں میں پرانے زخم رسنے لگے ہیں
غم!! چہرے پر نئے خدوخال بننے لگے ہیں
پہلے تو سنبھل گئے تھے اب کی بار مشکل ہے
دل پر پڑی اس آخری ضرب سے ٹوٹنے لگے ہیں
مانا کہ کچھ چہرے آنکھوں کا نور ہوتے ہیں
یہ کیا سارے منظر، سارے خواب دھندلانے لگے ہیں
ان کے تغافل پر کوئی شکوہ شکایت نہیں ہے
اس شناسائی میں ہم تیسری آنکھ کو آزمانے لگے ہیں
اوقات سے باہر تو ہم پہلے بھی کبھی نہ ہوئے تھے
اب بھی بہت محتاط ہو کر اپنی حد میں رہنے لگے ہیں
نہیں چاہتے کہ رسوا ہوں اس داستان عشق میں
تبھی تمہاری نظروں سے اوجھل رہنے لگے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *