نئے صوبے ضرورت یا سیاست

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

نئے صوبے، ضرورت یا سیاست؟

‎صوبے بنیادی طور پر انتظامی آسانی، عوامی نمائندگی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے وجود میں لائے جاتے ہیں۔ جب کسی خطے کی آبادی یا رقبہ بڑھ جائے، یا وہاں کی مخصوص زبان، ثقافت اور معاشی مسائل نمایاں ہو جائیں تو عوام الگ صوبے کی مانگ کرتے ہیں۔ یہ عمل محض پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں وقتاً فوقتاً نئے صوبے یا ریاستیں بنائی جاتی رہی ہیں تاکہ عوامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کیا جا سکے۔
‎بین الاقوامی سطح پر مثال لی جائے تو پاکستان کا صوبائی ڈھانچہ دیگر ممالک کے مقابلے میں محدود دکھائی دیتا ہے۔ چین میں 23 صوبے اور متعدد خودمختار علاقے ہیں۔ بھارت میں 28 ریاستیں اور 8 مرکز کے زیرانتظام علاقے ہیں، جبکہ روس میں 85 وفاقی اکائیاں موجود ہیں۔ ان ممالک کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ وفاقی اکائیوں کی تعداد بڑھنے سے گورننس بہتر ہوتی ہے اور عوامی نمائندگی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔
‎تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو برصغیر میں انگریزوں سے قبل ریاستوں اور نوابیوں کا نظام رائج تھا۔ قیام پاکستان کے وقت چار صوبے پنجاب، سندھ، سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) اور بلوچستان . پاکستان کے حصے میں آئے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان الگ انتظامی حیثیت میں رہے۔ بھارت نے وقت کے ساتھ لسانی و ثقافتی بنیادوں پر صوبے بڑھائے، جیسے تلنگانہ کو 2014 میں الگ ریاست کا درجہ دیا گیا، مگر پاکستان میں یہ ڈھانچہ تقریباً جوں کا توں قائم ہے۔
‎پاکستان میں آبادی کے اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 1951 میں پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 38 لاکھ تھی جو 2023 میں بڑھ کر تقریباً 24 کروڑ تک جا پہنچی۔ یعنی سات دہائیوں میں آبادی سات گنا بڑھ گئی، مگر صوبوں کی تعداد چار ہی رہی۔ یہ تضاد اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پیچیدہ مسائل کے باوجود نئے صوبے کیوں نہیں بنائے گئے؟
‎اس کے جواب میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاست اور مفادات ہیں۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں جیسے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف، صوبوں کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ نئے صوبے بننے سے وسائل کی تقسیم، سیاسی طاقت اور حلقہ بندیوں کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں، جو براہِ راست جماعتوں کے اثرورسوخ کو متاثر کرتی ہیں۔ اسی لیے یہ معاملہ ہمیشہ قراردادوں اور نعروں تک محدود رہا۔
‎پاکستان میں اس بحث کا سب سے بڑا مرکز جنوبی پنجاب ہے۔ بارہا یہ مطالبہ سامنے آیا اور 2013 میں پنجاب اسمبلی نے قرارداد بھی منظور کی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بہاولپور اور ملتان میں سیکریٹریٹ بھی قائم کیے، لیکن حقیقی اختیارات لاہور کے پاس ہی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے رہنما اور عوام سمجھتے ہیں کہ پسماندگی اور محرومی دور کرنے کے لیے الگ صوبہ ناگزیر ہے۔
‎خیبرپختونخوا میں ہزارہ صوبے کے مطالبہ بھی برسوں سے کیا جا رہا ہے۔ ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے عوام یہ شکایت کرتے ہیں کہ پختون اکثریت کی سیاست میں ان کی شناخت دب جاتی ہے، اس لیے علیحدہ صوبہ ہی ان کے حقوق کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اسی طرح فاٹا کا انضمام اگرچہ 2018 میں خیبرپختونخوا کے ساتھ کیا گیا، مگر اب بھی فنڈز اور انتظامی ڈھانچے کے مسائل موجود ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق اگر اسے الگ صوبہ بنایا جاتا تو شاید وہاں کےلوگ زیادہ بااختیار ہوتے۔
‎کراچی کا معاملہ اور بھی اہم ہے۔ یہ شہر ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور آبادی کے لحاظ سے کئی ممالک سے بڑا ہے، لیکن صوبائی ڈھانچے میں یہ محض سندھ کا ایک ڈویژن ہے۔ اسی وجہ سے شہری سیاست میں بارہا یہ مطالبہ اٹھتا رہا ہے کہ کراچی کو علیحدہ صوبہ ہونا چاہیے تاکہ اس کے وسائل مقامی سطح پر عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیے جا سکیں ۔
‎بین الاقوامی مثالیں بھی ہمارا سامنے ہیں۔ امریکہ میں 50 ریاستیں ہیں اور ہر ریاست کو اپنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے حوالے سے خودمختاری حاصل ہے۔ برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ، ویلز اور نادرن آئرلینڈ کو ڈیوالوشن آف پاور کے تحت اپنے معاملات میں خاصی حد تک آزادی حاصل ہے۔ یہ ماڈل بتاتے ہیں کہ وفاقی اکائیوں کو بااختیار بنانے سے وفاق کمزور نہیں ہوتا بلکہ مزید مضبوط ہوتا ہے
‎پاکستان میں اس عمل کی سب سے بڑی رکاوٹ آئینی ڈھانچہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق صوبائی سرحدوں کی تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ مگر آئین میں براہِ راست نئے صوبے بنانے کا ذکر نہیں، اس لیے نئے صوبے کے قیام کے لیے واضح آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب یا بہاولپور صوبے کے مطالبات عملی شکل اختیار نہیں کر پاتے۔آئینی رکاوٹوں میں سب سے بڑی الجھن آرٹیکل 239(4) ہے جس میں صوبائی سرحدوں کے حوالے سے لفظ “alter” (تبدیلی) استعمال کیا گیا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق اگر کسی صوبے کی حدود میں کمی یا اضافہ کرنا ہو یا کسی حصے کو الگ کر کے کسی دوسرے صوبے میں شامل کرنا ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ مگر یہاں “alter” اور create” جیسے الفاظ نے ابہام پیدا کر دیا ہے۔ آئین میں براہِ راست creation of a new province یعنی نئے صوبے کے قیام کا واضح ذکر موجود نہیں، بلکہ صرف موجودہ صوبائی حدود میں ردوبدل یا انضمام کی بات کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی ماہرین اس شق کو نئے صوبے بنانے کے لیے ناکافی قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب تک آئین میں خصوصی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کی creation کو واضح طور پر شامل نہ کیا جائے، یہ مطالبہ محض سیاسی نعروں سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

‎اختتامیہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے لیے نئے صوبے محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہیں۔ اگر دنیا کے بڑے ممالک اپنی انتظامی آسانی کے لیے اکائیاں بڑھا سکتے ہیں تو پاکستان کو بھی اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت کرنا ہوگی۔ اصل سوال نیت، سیاسی عزم اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کا ہے۔ اگر یہ رکاوٹ دور ہو جائے تو نئے صوبے نہ صرف عوامی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ وفاق کو مزید مضبوط کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *