لبوں پہ تالا لگا دیا ہے

لبوں پہ تالا لگا دیا ہے

لبوں پہ تالا لگا دیا ہے
غموں کو دل سے بھلا دیا ہے

تھی جس سے امید و آس ہم کو
اب اس سے دل کو ہٹا لیا ہے

نہ کوئی شکوہ، نہ دل میں نفرت
خدا کی خاطر مٹا دیا ہے

یہی مسرت بہت ہے ہم کو
خدا سے دل کو لگا لیا ہے

یہ دنیا تو ہے محض تماشا
یوں اس کو دل سے جدا کیا ہے

یہ روح و دل تو فلک سے آئے
کتابِ حق میں بسا لیا ہے

یہ ہے امانت خدا کی زینب
اسے سپردِ خدا کیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *