سفر گل زمیں کے

سفر گل زمیں کے


قسط نمبر 09
وادئِ کُمراٹ خوابوں کی جنت کی اُنیس حوریں اور بیسویں ساتھی
سب بروقت پونے چھ درخت چوک پر جمع تھے-ڈاکٹر رحما اور زینب اُن کی بیٹی پونے چھ کے وعدے پر پوری نا اُتر سکیں -بس میں براجمان پریاں وادئِ کُمراٹ کی طرف اُڑان بھرنے کو بے قرار…
سب عامرہ الطاف صاحبہ کی طرف دیکھنے لگیں کہ اب چھ بج کر دس منٹ ہوچکے سب نے سفر کی دُعائیں بھی پڑھی اب گرم موسمُ کے اثرات اور ماں بیٹی کے انتظار نے وقت کو تھوڑا کڑا کردیا
ایسا لگنے لگا سب کو پتہ ہے کہ تھوڑی سی دیر بھی خوابوں کی وادی سےجو دوری ہے وہ کھٹکنے لگی
انتظار کی گھڑیوں کو طویل تر کر رہی تھیں اب توچھ بج کربیس منٹ ہوچکے , آگے سب کو پتہ تھا کہ آٹھ گھنٹوں سفر ہے اور ٹھیک چھ بجے درخت چوک کو الوداع کرنا تھا
وہ تو آٹھ گھنٹے جب ریسٹ و چائے پانی کے وقفوں کی بدولت تیرہ تیرہ گھنٹوں میں بدلے پر حوریں پھر بھی خوش تھیں ۔ہلکی پھلکی تھیں

سب عامرہ الطاف کی طرف دیکھ رہے تھے اور وہ ایک بہترین مُنتظمہ کی طرح سیل فون سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش میں تھیں اور وہ ماں بیٹی فون ہی نا پِک رہی تھیں ,ساتھی حوریں بھی اپنی اپنی معلومات کے ساتھ نمبر ملا رہی تھیں۔
اب مُنتظمہ حور کو بمع دوسری حوروں کے یہ پریشانی لاحق ہوگئی کہ الہٰی خیر ، رحما اور زینب خیریت سے ہوں فون تک کوئی نہیں اُٹھا رہا سب کے حوروں کے دمکتے چہروں پر پریشانی کی مدھم لہریں دل دہلانے لگیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہی نہیں ہوئی اور دُکھ کے بادل
بس گہرے ہونے کوتھے کہ دور سے گاڑی آتے دکھائی دی سب کے چہروں پر نور آنے لگا ارے یہ تواپنی رَحما اور زینب ہنستے مُسکراتے جگمگاتے چہروں نےخوشیوں کی لہر پوری بس میں دوڑادی کہ وہ آئے بہار آئی والا ماحول بن گیا پر اتنے میں ۔۔۔ساڑھے چھ بج چکے تھے

سب حوروں کی سی ای او حور عامرہ الطاف کی ذہنی پختگی کو سراہا کہ جلد بازی نہیں دکھائی اور گاڑی تھوڑی لیٹ ضرور ہوگئی پر مروت و معاملہ فہمی جیت گئی سارے ہم سفر پورے تھے۔
اب خوشیوں سے تمتاتے چہروں کے ساتھ ہم عازمِ سفر ہوئے
سب کے ہونٹوں پر یہ گانا تھا
آوارگی میں حد سے گُزر جانا چاہئیے۔
وادئِ کُمراٹ خوابوں کی جنت اُنیس حوریں اور بیسویں ساتھی
کی الودداعی پوسٹ لیکن لگ رہا ہے اُنیس حوریں روحانی طور پر وادئِ کمُراٹ میں رہ گئیں
بیسویں ساتھی چونکہ نئے سفر کا رختِ سفر باندھ بیٹھی ہے تو اب اس زاویہ نگا ہ پر الوداعی نظر
میں یہ سطور استنبول کے ائیر پورٹ سے ایک لاؤنج میں ٹرانزٹ کے دوران سپُردِ قلم کر رہی ہوں-
سعدیہ جی ایک نفیس طبیعت کم گو خاتون ہیں لیکن میں جب ان موزوں لباس میں ملبوس ان محترمہ کی طرف دیکھتی تو مجھے لگتا یہ اندر سے بہت گہری ہیں وہ جو کہتے ہیں نا
ع -خاموش لوگ بلا کے خطیب ہوتے ہیں
پر خاموش اور گہری خاموش مُسکراہٹ جیسے اپنے اندر بہت سے سوالات رکھتی ہو مگر اُن کا وقار کُچھ کہنے سے مانع ہو –
ہماری سی ای او عامرہ الطاف ان سے پوچھتی رئتی تھیں کہ سعدیہ جی آپ خوش ہیں ؟
مجھے لگا وہ اثبات میں سر ہی ہلاتی ہونگی کہ اُن کی آواز تو میرے تک نہیں آتی تھی-
بس میں آخری سیٹ پر بیٹھیں ڈاکٹر رَحما کی زندگی سے بھرپور مُسکراہٹ بکھیرتی رہیں اوراُن کی سرگرم سی پیاری سی زینب بھی ہم چاندی جیسے بالوں والوں کی ٹیم کا وہ چاک و چوبند حصّہ بنی رہیں اور ماورا بہت ذہین اور برجستہ سوچتی ہیں مجھے اُن پر رشک آیا جب کُچھ سوالوں کے جواب بجلی کا کوندا سا لپک جائے کے سے انداز میں دیئے ، کالج گرل جیسی ذہانت ہےثمینہ ایک نیک دل و سادگی میں پُرکاری اور چھپی ہو ذہانت کا مُرقع ہیں لگتی نہیں ہیں پر پہنچی ہوئی ہستی ہیںاُن کی نیکی کا نور کمرہ نمبر ۱ میں چھا یا رہا اور وہ میری پچھلی گَلی کی ہمسائی نکل آئیں تو مجھے بہت خوشی ہوئی ارے حمیرا جی کو دیکھیں تو لگے اللہ لوکنڑی ہیں۔
ہرگز نہیں وہ زندگی سے بھرپور بھی ہیں اور زندگی میں سرتاپا سر گرم ہیں لگتی دھیمی ہیں پر اُن کی حصّہ داری اور گہری نظر سے میں بہت متاثر ہوں۔
میں ، ثمینہ جی ، حمیرا جی اور ماوارا روم میٹس تھے
ایک بار پھر پوری انتظامیہ کی ٹیم اور شہریار شہری کی انتظام کو سلامان تین دنوں میں بیس خواتین نے ایک نرالی زندگی جی لی اور زندگی کا انوکھا وحسین تجربہ بھی ہوا۔
زاہرہ اعجاز اور ساجدہ انور وہ خوب صورت اور خوش اسلوب سہلیاں بمع راحیلہ صاحبہ کے اگر ساتھ نہ ہوتیں تو سفرِ وادی کا رنگ نہ جمتا !!دونوں باوقار خواتین کی بذلہ سنجی مزہ کرتی اور چُٹکلوں پر مبنی گفتگو کا بہت مزہ اُٹھاتے رہے۔
دونوں عامرہ کی جادوئی شخصیت کا سحر جانے کب تک رہے یا جب تک رہےگازندگی کا حُسن دوبالا کرے گا۔
اب دور پار کے اس برآعظم میں ورجینیا کے شہر رچمنڈ کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں بیٹے کے گھر کے لاؤنج میں بیٹھی اس پوسٹ کی آخری دو سطریں اس پوسٹ کی نذر کر رہی ہوں- آپ سب کو میرا سلام و پیار پہنچے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *