محمد بن ابوبکر جس نے بے نور آنکھوں سے وطن کا نام روشن کیا

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

محمد بن ابوبکر جس نے بے نور آنکھوں سے وطن کا نام روشن کیا

انڈونیشیا کے شھرجکارتہ کے تپتے افق پرجب پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا، تو وہ کسی بلند قامت کھلاڑی کے چھکے یا کسی اداکار کی سحر انگیز اداکاری کا کرشمہ نہیں تھا؛ بلکہ وہ ایک دس سالہ معصوم بچے محمد بن ابوبکر کی پکار تھی، جس کی آنکھوں میں پیدائشی اندھیرا تھا مگر جس کے سینے میں محفوظ رب کے کلام نے پوری دنیا کو اپنی روشنی سے منور کر دیا۔ رابطہ عالمِ اسلامی کے بین الاقوامی مقابلے میں جب اس نابینا بچے نے پہلی پوزیشن حاصل کی، تو پوری دنیا نے اسے پاکستان کا ہیرا قرار دیا، مگر افسوس! جیسے ہی یہ شہزادہ اپنے وطن کی سرحدوں میں داخل ہوا، اسے ایک ہولناک خاموشی کا سامنا کرنا پڑا۔
میرا قلم آج لہو کے آنسو رو رہا ہے، کیونکہ یہ کالم محمد بن ابوبکر کی فتح پر نہیں، بلکہ ہماری حکومتی بے حسی کے جنازے پر ہے۔
افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ جس ملک میں کرکٹ کا ایک معمولی میچ جیتنے پر کھلاڑیوں کے لیے سرکاری خزانے کے منہ کھول دیے جاتے ہیں، جہاں وزیراعظم ہاؤس میں ان کے اعزاز میں عالیشان ضیافتیں دی جاتی ہیں اور انہیں کروڑوں روپے کے انعامات سے نوازا جاتا ہے، وہاں اس معصوم حافظِ قرآن کے لیے حکومتی ایوانوں سے تحسین کا ایک جملہ تک ادا نہ ہوا۔ کیا محمد بن ابوبکر کا جرم یہ ہے کہ اس نے بلا یا گیند تھامنے کے بجائے اللہ کی کتاب کو سینے سے لگایا؟ کیا اس کی کامیابی اتنی چھوٹی تھی کہ ریاست نے اسے کسی اعزاز یا انعام کے قابل بھی نہ سمجھا؟
یہ بات انتہائی دکھ اور شرمندگی کی ہے کہ جس بچے نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا سافٹ امیج پیش کیا اور ثابت کیا کہ پاکستان قرآن سے محبت کرنے والوں کا ملک ہے، اسے حکومت کی جانب سے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ کیا ہماری ریاست کے پاس صرف گلوکاروں اور اداکاروں کے لیے تمغے اور مالی انعامات رہ گئے ہیں؟ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے اس نابینا بچے کی مالی معاونت اور حوصلہ افزائی کرنا تو درکنار، اسے وہ پروٹوکول بھی نہ ملا جو ایک عام سے کھلاڑی کو ملتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ محمد بن ابوبکر کی آنکھوں میں نور نہیں تھا، مگر وہ جیت گیا؛ لیکن ہماری حکومت آنکھیں رکھتے ہوئے بھی بصیرت کی دوڑ میں ہار گئی۔ یہ خاموشی دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں۔ ہم کھیل کو کلامِ الٰہی پر فوقیت دینے والے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اے اربابِ اختیار! یاد رکھیں، وہ قومیں کبھی فلاح نہیں پاتیں جو اپنے حقیقی ہیروز اور اللہ کے کلام کی خدمت کرنے والوں کو فراموش کر دیتی ہیں۔ محمد بن ابوبکر کو آپ کے انعام کی ضرورت شاید نہ ہو، کیونکہ اس کا اجر تو رب کے پاس محفوظ ہے، لیکن اس بچے کو نظر انداز کر کے آپ نے اپنا چہرہ دنیا کے سامنے بدنما کر لیا ہے۔ یہ افسوسناک بے حسی ہمارے قومی ضمیر کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
اے محمد بن ابوبکر ہمیں معاف کر دینا، ہم ایک ایسے بدقسمت نظام کا حصہ ہیں جہاں ہیروں کی پہچان جو جوہریوں کو ہونی چاہیے تھی، وہ اب مصلحت پسندوں کے پاس ہے۔

یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *