“بھروسہ” جو دل کو سکون دیتا ہے

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

“بھروسہ” جو دل کو سکون دیتا ہے

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ ہر بات کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ دل کے کسی کونے میں کوئی فکر جگہ بنا لے تو پھر وہی فکر پورے ذہن پر قبضہ کر لیتی ہے۔ ہم بار بار سوچتے ہیں، سوچتے سوچتے تھک جاتے ہیں، مگر پھر بھی دل کو قرار نہیں ملتا۔ زیادہ سوچنے کی یہی عادت ہمارے سکون کو سب سے پہلے چراتی ہے۔ بعض اوقات ہم مسئلے سے زیادہ اپنی سوچ کی شدت سے گھبرا جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ سوچنا مسئلہ بڑھاتا ہے، حل نہیں دیتا۔ زندگی کا حسن تب ہے جب انسان تھوڑی سی جگہ اللہ کے بھروسے کے لیے بھی چھوڑ دے۔

شکایت کرنا ہماری فطرت میں تو نہیں تھا، مگر وقت کے حالات نے انسان کو ایسا بنا دیا کہ اب معمولی سی تکلیف پر بھی زبان سے شکوہ نکل آتا ہے۔ کبھی حالات کی شکایت، کبھی نصیب کی، کبھی رشتوں کی اور کبھی زندگی کی۔ مگر کیا دنیا کی شکایتیں کبھی دل کو سکون دے سکی ہیں؟ جو دل اللہ سے دور ہو جائے وہاں ہمیشہ بے چینی ہی رہتی ہے۔ برعکس اس کے، جب کوئی انسان اپنے رب کی تقسیم پر راضی ہو جائے، تو شکوے خود بخود دم توڑ دیتے ہیں۔ اللہ سے راضی ہونا، زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

ہم خود سے بھی بہت سختی برتتے ہیں۔ اپنے آپ کو غیر ضروری دباؤ میں رکھ کر ہم اکثر اپنے ہی دشمن بن جاتے ہیں۔ خود پر اتنا بوجھ ڈال لیتے ہیں کہ خوشی، امید اور اعتماد پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ہم اپنی کوتاہیوں کو اتنا بڑا کر لیتے ہیں کہ اپنی خوبیوں کو دیکھ ہی نہیں پاتے۔ انسان کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ وہ خود پر رحم کرے۔ خود کو معاف کرے۔ خود کو وقت دے۔ جو شخص خود سے محبت نہیں کرتا وہ دنیا کے کسی بھی رشتے سے حقیقی سکون نہیں لے سکتا۔ اپنے آپ کو تھوڑا ہلکا کریں، اپنی فکر کو تھوڑا کم کریں اور اپنے دل میں امید کے لیے کچھ جگہ پیدا کریں۔

زندگی کا اصل سہارا، اصل سکون، اصل اعتماد صرف اللہ ہے۔ وہ جو سمیٹتا ہے، وہی لوٹاتا بھی ہے۔ وہ جو آزماتا ہے، وہی سنبھالتا بھی ہے۔ اللہ کی محبت بے حد ہے، بے حساب ہے، اور سب سے بڑھ کر ہے۔ اگر انسان اپنا دل اس کے حوالے کر دے، اپنے خوف اور اپنی فکر اسے سونپ دے، تو یقین جانیے، دنیا کی کوئی طاقت اس کا حوصلہ نہیں توڑ سکتی۔ اللہ کبھی مایوس نہیں کرتا، کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم اس پر بھروسہ کرنا سیکھ جائیں۔

حقیقت یہی ہے کہ زیادہ سوچنے سے کچھ نہیں بدلتا، شکایت کرنے سے سکون نہیں ملتا، اور خود پر دباؤ ڈالنے سے راستے مزید تنگ ہو جاتے ہیں۔ جو انسان اللہ پر اعتماد کر لیتا ہے، اس کی زندگی خود بخود آسان ہونے لگتی ہے۔ سکون دل میں اترتا ہے، فکر کے بادل چھٹتے ہیں اور امید کی روشنی پھر سے جگمگانے لگتی ہے۔ رب پر بھروسہ رکھیں؛ وہ آپ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، اور وہی آپ کے دل کا بہترین علاج جانتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *