بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ

قوموں کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض افراد نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک تحریک اور ایک زندہ جاوید تاریخ کا درجہ رکھتی ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ ایسی ہی ایک عظیم ہستی تھے جنہیں بجا طور پر بابائے قوم کہا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک عظیم مدبر، سیاستدان اور قانون دان تھے بلکہ ایک سچے، باحوصلہ اور بصیرت رکھنے والے رہنما بھی تھے جنہوں نے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو ایک قوم میں ڈھالا اور ایک آزاد وطن عطا کیا۔
قائداعظمؒ کی سیاسی زندگی جدوجہد، ایثار اور اصول پسندی کی روشن مثال ہے۔ وہ سیاست کو ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ قومی خدمت کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’’ایمان، اتحاد اور قربانی‘‘ کی علامت کہا جاتا ہے۔ ان کی عملی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر عزم پختہ ہو اور مقصد واضح ہو تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی راستے میں حائل نہیں رہ سکتی۔
بانیٔ پاکستان کی سب سے بڑی خوبی ان کا بے داغ کردار اور اصولی سیاست تھی۔ انہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن محض خواہش نہیں بلکہ بقا کا واحد ذریعہ تھا۔ اسی سوچ نے 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی صورت میں حقیقت کا روپ دھارا۔قائداعظمؒ کی شخصیت کا دوسرا نمایاں پہلو ان کی محنت، وقت کی پابندی اور قانون کی پاسداری تھی۔ وہ نوجوانوں کو ہمیشہ تعلیم، محنت اور دیانتداری کی تلقین کرتے تھے۔ آج اگر ہم اپنے بابائے قوم کے فرمودات پر عمل کریں تو یقیناً پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قائداعظمؒ کے خوابوں کا پاکستان بنانے کے لیے اپنی ذات سے آغاز کریں۔ ہم سب کو دیانت، قربانی، اتحاد اور اصول پسندی کو اپنا شعار بنانا ہوگا، تبھی ہم اپنے حقیقی محسن کے ساتھ انصاف کر سکیں گے۔

خلوص، قربانی، ایثار کی ہے پہچان
محمد علی جناحؒ ہیں بابائے پاکستان

چراغ رہ تھے وہ ظلمت کے دور میں جنہوں نے
امید دی تھی ہمیں حوصلہ دیا تھا ہمیں

وفا، صداقت کا وہ تھا مینار رہنمائی
جہاں سے قوم نے پایا تھا اجالوں کا سبق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *