نظم

سنو میرے ہمدم

سنو! میرے ہمدم
یہ کس موڑ پر پہنچ گئے ہم
جہاں محبت کہیں پیچھے رہ گئی
یاد ہے نہ محبتوں کے دیے مل کر جلائے تھے۔
تو اب ان کو وقت کی ظالم ہواؤں کے جھونکوں سے بھی تو بچانا ہے نہ
تو آؤ اب کہاں چل دیئے تم؟؟
ہاتھ میں ہاتھ دو
ان چراغوں کو بجھنے سے بچائیں۔۔
تم بدل کیوں گئے ہو؟؟
یہ میرا وہم ہے کہ حقیقت
میں تذبذب کا شکار ہوں۔۔
نہ اب تم وہ مہکتے پھولوں کے کجرے لاتے ہو
نہ تم خود آتے ہو۔۔۔۔۔۔
سنو! بتاؤ اس کو کیا نام دوں
بے رخی یا وقت کی ستم ظرفی۔۔۔
سنو یاد ہے نہ مل کے بیٹھتے تھے تو شام حسین ہوتی تھی۔۔
اب تو سب دھندلا سا نظر آتا ہے
یہ سب کیا ہے؟؟؟
ایسا کیوں ہے؟
سنو زندگی کی بہاریں اپنوں سے ہوتی ہیں۔۔
خزاں کی رت نہ مجھے دیکھاؤ
نہ خود دیکھو۔
سنو اتنا بتا دو کہ
تمہیں خزاں پسند ہے کہ اب تم اپنے نہیں رہے؟؟

تم تڑپتے نہیں
تم بلکتے نہیں ہو اب
تمہیں یہ ہو کیا گیا ہے؟
یہ بدلاؤ کیسا

آؤ اب بس یہ ضد نہ لگاؤ
چھوڑتے ہیں یہ آناؤں کی جنگ کو
بس ہم چپ سادھ لیتے ہیں
اور محبت کو پھر سے پروان چڑھانے دیتے ہیں۔۔
یہی تو زندگی کا سرمایہ ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *