عہد وفا کی تجدید

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

عہدِ وفا کی تجدید

وفا صرف لفظ نہیں، کردار کا وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہےکچھ عہد زبان سے نہیں، دل سے کیے جاتے ہیں۔ کچھ وعدے کاغذ پر نہیں لکھے جاتے، بلکہ انسان کے کردار پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ وطن سے محبت بھی ایسا ہی ایک عہد ہے؛ ایسا عہد جس کی گواہی الفاظ نہیں، اعمال دیتے ہیں۔ ہم ہر سال قومی دنوں پر پرچم لہراتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں اور وطن سے محبت کے دعوے دہراتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے عہدِ وفا کو اپنی روزمرہ زندگی میں بھی نبھا رہے ہیں؟عہدِ وفا دراصل محض ایک خوب صورت ترکیب نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ وفا کا مطلب کسی کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے رہنا، اپنے وعدے کو نبھانا اور اپنے مقصد سے بے وفائی نہ کرنا ہے۔ وطن سے وفا کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم پاکستان کو صرف نقشے پر موجود ایک خطۂ زمین نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنی شناخت، اپنی ذمہ داری اور اپنے مستقبل کی امانت تصور کریں۔پاکستان ہمیں آسانی سے نہیں ملا۔ اس کے حصول کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، بے شمار قربانیاں اور ایک ایسا خواب تھا جسے حقیقت بنانے کے لیے ہمارے بزرگوں نے اپنے گھر بار، مال و متاع اور جانوں تک کی قربانی دی۔ 23 مارچ 1940 کی قرارداد نے اس جدوجہد کو ایک واضح سمت دی اور بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔ مگر تاریخ کا ہر روشن باب اپنے ساتھ ایک سوال بھی چھوڑ جاتا ہے: ہم نے اس قربانی کا حق کتنا ادا کیا؟آج ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم وطن سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر کیا ہم قانون کی پابندی کرتے ہیں؟ ہم ترقی یافتہ پاکستان کا خواب تو دیکھتے ہیں، مگر کیا ہم اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرتے ہیں؟ ہم کرپشن کو برا کہتے ہیں، مگر اپنے معمولی فائدے کے لیے اصولوں سے سمجھوتا تو نہیں کرتے؟ ہم تعلیم کی اہمیت بیان کرتے ہیں، مگر کیا اپنے اردگرد موجود کسی محروم بچے کے ہاتھ میں کتاب دینے کی کوشش کرتے ہیں؟عہدِ وفا کی تجدید دراصل انہی سوالات کے جواب دینے کا نام ہے۔وطن سے وفا صرف سرحدوں کی حفاظت کرنے والے سپاہی کا فرض نہیں۔ ایک استاد جب اپنے شاگرد کو علم کے ساتھ کردار بھی دیتا ہے تو وہ وطن سے وفا کرتا ہے۔ ایک ڈاکٹر جب مریض کو انسان سمجھ کر علاج کرتا ہے تو وہ وطن سے وفا کرتا ہے۔ ایک کسان جب اپنی زمین کو محنت سے سیراب کرتا ہے تو وہ وطن سے وفا کرتا ہے۔ ایک مزدور جب حلال رزق کے لیے پسینہ بہاتا ہے تو وہ وطن سے وفا کرتا ہے۔ ایک طالب علم جب نقل کے بجائے محنت کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ وطن سے وفا کرتا ہے۔ ایک قلم کار جب سچ کو سچ لکھنے کی جرأت کرتا ہے تو وہ بھی اپنے وطن سے وفا کا حق ادا کرتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں؛ قومیں کردار سے بنتی ہیں۔آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اسی کردار کی ہے۔ ہمیں نفرت کے مقابلے میں محبت، جھوٹ کے مقابلے میں سچ، ناامیدی کے مقابلے میں امید، بے حسی کے مقابلے میں احساس اور انتشار کے مقابلے میں اتحاد کو اختیار کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنے حصے کا چراغ روشن کر دیں تو اجتماعی اندھیرے خود بخود کم ہونے لگیں گے۔قرآنِ مجید میں عہد پورا کرنے کی تاکید کی گئی ہے، اور اسلامی تعلیمات میں وعدہ اور امانت انسانی کردار کی بنیاد قرار پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفا صرف قومی جذبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی قدر بھی ہے۔ جس معاشرے میں عہد کی پاسداری زندہ ہو، وہاں اعتماد جنم لیتا ہے، اور جہاں اعتماد ہو وہاں ترقی کے راستے کھلتے ہیں۔ہمیں آج ایک نئے عہد کی ضرورت ہے؛ ایسا عہد جو صرف تقریروں کے اختتام پر نہ کیا جائے بلکہ زندگی کے آغاز میں کیا جائے۔ہم عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کو گالی نہیں، کردار دیں گے۔ہم عہد کریں کہ ہم قانون کو بوجھ نہیں، اپنی حفاظت سمجھیں گے۔ہم عہد کریں کہ ہم اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیں گے۔ہم عہد کریں کہ ہم علم کو صرف ڈگری نہیں، شعور بنائیں گے۔ہم عہد کریں کہ ہم اپنے حصے کی ذمہ داری کسی دوسرے کے کندھے پر نہیں ڈالیں گے۔ہم عہد کریں کہ ہم پاکستان کی ترقی کا انتظار نہیں کریں گے، بلکہ اپنی محنت سے اس ترقی کا حصہ بنیں گے۔یاد رکھیے! وطن ہم سے صرف محبت کے دعوے نہیں مانگتا، وہ ہمارے کردار کی گواہی چاہتا ہے۔پرچم کو سلام کرنا آسان ہے، مگر اس پرچم کے وقار کے مطابق زندگی گزارنا اصل امتحان ہے۔ شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا آسان ہے، مگر ان کے خوابوں کے مطابق ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینا حقیقی خراج ہے۔ آزادی کا جشن منانا خوب صورت ہے، مگر آزادی کی ذمہ داری کو سمجھنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔آئیے، آج پھر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر عہد کریں کہ ہم اپنے وطن سے وفا کریں گے؛ صرف الفاظ میں نہیں، اپنے کردار میں۔ ہم اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کریں گے، کیونکہ پاکستان کسی ایک فرد کا نہیں، ہم سب کی مشترکہ امانت ہے۔آج عہد کی تجدید صرف زبان سے نہیں، کردار سے ہونی چاہیے، کیونکہ وطن کی تقدیر بدلنے کے لیے کسی معجزے کا نہیں، کروڑوں مخلص کرداروں کا انتظار ہے۔ اور جب آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ تم نے اپنے وطن کے لیے کیا کیا تھا، تو ہمارے پاس صرف تقریروں کے الفاظ نہیں بلکہ وفا سے لکھی ہوئی ایک زندہ داستان ہونی چاہیے۔یہی عہدِ وفا ہے، یہی اس کی تجدید ہے، اور یہی ہمارے روشن پاکستان کی پہلی بنیاد ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *