⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
سیلاب کے بعد کے چیلنجز
پاکستان میں حالیہ سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، ابھی تک صوبہ پنجاب سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے۔ اسکے بعد سندھ بھی خطرے کی لپیٹ میں ہے۔سیلاب اپنے غیض و غضب کیساتھ تباہی پھیلاکر گزر جائے گا۔حکومت اور عوام کا اصل امتحان پھر شروع ہوگا جب سیلاب کے بعد کے سنگین چیلنجز سامنے آئیں گے ۔ یہ چیلنجز صرف مالی نقصان تک محدود نہیں ہونگے، بلکہ اس میں معاشی، سماجی اور صحت کے مسائل بھی شامل ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، اور عوام کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
مہنگائی اور خوراک کی قلت سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔
سیلاب کے بعد سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور اشیائے خوردونوش کی قلت ہے۔ فصلوں کی تباہی، سڑکوں اور پلوں کا ٹوٹ جانا اور سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے مارکیٹ میں اشیاء کی رسد کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔ٹماٹر 100 روپے سے 300 روپے۔کلو اسی طرح سبزیوں کی قیمتوں میں ابھی سے 200 گنا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔آٹے کی 7000 روپے والی بوری 11000 کی ہوگئی ہے ۔
چاول، اور سبزیوں کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، جس سے ان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ دودھ اور دہی جیسی بنیادی اشیاء بھی مہنگی ہو جائیں گی۔متاثرہ علاقوں میں نہ صرف خوراک بلکہ دیگر ضروری اشیاء جیسے ادویات، خیمے اور کپڑوں کی بھی کمی کا مسئلہ سراٹھائے گا۔
سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں صحت کے مسائل تیزی سے پھیل رہے ہیں، جن میں وبائی امراض اور جانوروں کے کاٹنے کے واقعات شامل ہیں۔ وبائی امراض گندے پانی کے استعمال سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اور ملیریا جیسی بیماریاں عام ہوجائیں گی انکی روک تھام کے لئے محکمہ صحت کو۔ہنگامی اقدامات کرنے ہونگے۔ جلد اور آنکھوں کی بیماریوں میں آضافہ ہوگا۔آلودہ پانی میں لمبے عرصے تک رہنے کی وجہ سے جلد اور آنکھوں کے انفیکشن بڑھ سکتے ہیں جسکے لئے ایڈوانس پلاننگ اور عملی اقدامات ابھی سے کرنے کی ضرورت ہے۔ سانپ اور بچھو سیلابی پانی سے اپنے بلوں سے نکل کر سانپ اور بچھو آبادی والے علاقوں میں آ جاتے ہیں۔ ان کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور بدقسمتی سے کئی علاقوں میں ان کا تریاق (ویکسین) دستیاب نہیں ہے۔
محکمہ صحت کو رورل ہیلتھ سینٹرز اور کیمپوں میں متعلقہ ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔
متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر طبی کیمپ قائم کیے جائیں تاکہ متاثرین کو ابتدائی طبی امداد دی جا سکے۔
ہیضہ اور دیگر وبائی امراض کی روک تھام کے لیے ویکسین اور سانپ کاٹنے کے تریاق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔عوام کو صاف پانی کے استعمال اور صحت کی دیکھ بھال کے بارے میں آگاہی دی جائے۔اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کی صفائی اور فلٹرز کی تبدیلی عمل میں لائی جانی چاہیئے ۔ بحالی اور آبادکاری کا مسئلہ ہمیشہ کی طرح سر اٹھائے گا۔کیمپوں سے گھروں کو واپسی کے بعد مکانات کی تعمیر اور اس سے متعلقہ مسائل جیسا کہ سیمنٹ اینٹوں،سریے کی۔قیمتوں میں اضافہ اور بلیک مارکیٹنگ اہم ترین چیلنجز ہونگے۔
سیلاب کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں کو مؤثر اور مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کو بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک سے امداد حاصل کرنے، متاثرین کی بحالی کے لیے پالیسیاں بنانے اور صوبائی حکومتوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔اس کام۔کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر وزارتوں کا قیام کیا جانا بہتر ہوگا۔ماضی میں ریاست بہاول پور نے مہاجرین کی آبادکاری کی وزارت قائم کی جسے بعد ازاں وفاقی سطح پر بڑھا دیا گیا تھا۔اور اس سے آبادکاری کا مسئلہ بہترین طریقے سے حل ہوگیا تھا۔
صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کے کاموں کو منظم کریں، امدادی سامان کی تقسیم کو شفاف بنائیں اور عارضی رہائش گاہوں (کیمپوں) میں متاثرین کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کریں۔ ضلعی انتظامیہ کو زمینی سطح پر ریلیف اور بحالی کے کاموں کو دیکھنا چاہیے، جس میں خوراک، ادویات، اور دیگر ضروری اشیاء کی بروقت فراہمی شامل ہے۔دوبارہ آبادکاری اور کیمپوں کا انتظام
متاثرین کی فوری آبادکاری اور کیمپوں میں ان کے لیے مناسب انتظامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیمپوں میں متاثرین کے لیے خوراک، صاف پانی، اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
خواتین کے لیے سینیٹری پیڈز اور بچوں کے لیے موسم کے مطابق خوراک اور لباس کی فراہمی کو ترجیح دی جائے۔ یہ اقدامات انسانی وقار کا خیال رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
سول سوسائٹی کا کردار اس سارے عمل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
کسی بھی قدرتی آفت کے بعد سول سوسائٹی اور فلاحی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ امدادی کارروائیوں کے لئےفلاحی ادارے اور NGOs متاثرین کو خوراک، کپڑے اور دیگر امدادی سامان فراہم کرنے میں اپنا۔کردار ادا کریں۔حکومت پنجاب ماضی میں سیلاب متاثرین کے لئے عملی۔اقدامات کرنے والی این جی اوز کو فعال کریں۔محکمہ سوشل ویلفیئر اسکے لئے ابتدائی اور موثر معلومات فراہم۔کرسکتا ہے۔ امدادی فنڈز کی شفاف تقسیم اور متاثرین تک ان کی رسائی یقینی بنانا اہم ذمہ داری ہے۔ معاشرتی ادارے اور فلاحی تنظیمیں متاثرین کو طویل المدتی بحالی میں مدد فراہم کرنے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
سیلاب کے بعد کے یہ چیلنجز بہت سنگین ہیں، وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی ،زیلی ادارے، حکومت اور عوام مل کر کام کریں تو ان سے نمٹا جا سکتا ہے۔پاک فوج ابھی سے سیلاب متاثرین کے لئے خدمات سرانجام۔دے رہی ہے تاہم سیلاب گزر جانے کے بعد ریلف اور بحالی کے کاموں کو۔منظم اور موثر انداز میں مکمل کعنے لئے پاک۔فوج کا متاثرہ علاقوں میں موجود رہنا انتہائی ضروری ہے۔تاکہمتاثرین کو ان مشکل حالات سے نکال کر عام۔زندگی کی۔طرف لایا جاسکے گا۔
