میں اﷲ اور سائنس

میزبان رسول ﷺ کے وارث

قرآن پاک کی سورہ آل عمران کی 191 ویں آیت میں جہاں اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ اللہ کے بندے کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے اور کروٹ کے بل لیٹے اس کا ذکر کرتے ہیں تو اسی آیت میں ان بندوں کی ایک خاص پہچان یہ بھی بتائی ہے کہ وزمین و آسمان میں اللہ کی تخلیق پر غور وفکر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کے ذکر اور تخلیق کائنات کے مطالعہ اور فکر کا یہ باہمی تعلق بہت ہی گہرا اور ازلی ہے۔ یہ نہ صرف قرآن پاک بلکہ تمام الہامی کتابوں کی روح اور بنیاد ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ انسان نے جب بھی اللہ کو اگر پہچانا، جانا اور مانا ہے تو ایسا اس کا ئنات کی وسعتوں، پنہائیوں اور زمین پر آباد لا تعداد مخلوقات کے وجود کے عمیق مطالعے کے بعد ہی ممکن ہو سکا۔ یہ زمین، آسمان، ستارے، کہکشا ہیں، پرندے، پھول، درخت، دریا، پہاڑ دراصل اللہ کی وہ نشانیاں ہیں جنہیں معرفت الہی کے زینے کہا جا سکتا ہے۔ زبیر احمد انصاری صاحب اس معرفت الہی کے چشموں کے غواض ہیں۔ ان کی اپنی ذات بھی ایسے لا تعداد معجزات سے عبارت رہی ہے کہ جنہیں سن کر اور محسوس کرنے کے بعد آدمی کا اس کا ئنات کے مالک گل اور فاعل حقیقی پر یقین مزید مستحکم ہو جاتا ہے۔ انصاری صاحب اس سے پہلے دیگر موضوعات پر لکھتے رہے ہیں مگر ان کی یہ کتاب میں اللہ اور سائنس، ایک عظیم کام ہے۔ یہ عہد حاضر، جسے عہد تشکیک کہا جاتا ہے، اس میں ایک ایسی مشعل کی صورت ہے جو کائنات کی وسعتوں میں بھٹک کر گم ہو جانے والوں کے لئے راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انصاری صاحب کی ذات شخصیت اور زندگی کے مطالعے میں ایسے تمام لوگوں کے لئے قابل رشک شواہد موجود ہیں جو اپنی زندگی کو اس طرح گزارنا چاہتے ہیں کہ جب وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کریں تو
ان کے لئے توشہ آخرت کے طور پر بیشمار دعائیں آخرت کی منازل میں ان کا راستہ روشن کرتی چلی جائیں۔ بیک وقت صاحب علم اور صاحب عمل ہونا آج کے دور میں ایک معجزے سے کم نہیں اور زبیر انصاری صاحب کا وجود اس کا ایک ثبوت ہے۔
زیر انصاری صاحب کی اس ہمہ جہت شخصیت پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ ان پر عطاء ہے اور ان پر یہ عطاء کیوں نہ ہوتی کہ وہ تو رسول اللہ کے میزبان انصار مدینہ کے وارثوں میں سے ہیں۔

اوریا مقبول جان

مکمل کتاب پی ڈی ایف میں ڈائون لوڈ کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *