میں اللہ اور سائنس
سائنس بہت ترقی کر چکی ہے، سائنس دان بہت کچھ دریافت کر چکے ہیں جو آج کے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہے لیکن کیا اس انسان نے قرآن کو پڑھا ہے، صرف پڑھا ہے یا اسے ترجمہ کے ساتھ سمجھا بھی ہے اگر سمجھا ہے تو اسے اتنا حیران نہیں ہونا چاہیے کہ یہ آج کی ترقی اس علم کی مرہون منت ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے ہمیں بخشا گیا، ہمارے قرآن میں ایک ہزار سے زائد آیات سائنس کے متعلق ہیں ۔
مادی دنیا خدا کی نشانیوں سے بھری پڑی ہے اور مادی دنیا کا مطالعہ سائنس کی بدولت ممکن ہوا ہے ۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا اور ہماری بد قسمتی ہے کہ نہیں عربی کی گہرائی سے واقف نہیں، قرآن کے معانی گہرائی سے سمجھنے کے قابل نہیں اگر ہم اس قابل ہو جائیں تو سائینسی ترقی کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے ۔
انصاری صاحب کی یہ کتاب بہت سے اسرار بے نقاب کرے گی۔ انھوں نے قرآن کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی تو اس کا موازنہ سائنسی تحقیقات سے کرنے لگے پھر دل میں ایسی لگن اٹھی کہ یہ کتاب لکھ ڈالی جو ہم قارئین کے لیے سوچ کے نئے در وا کرنے میں کامیاب ٹھہری ہے ۔ مطالعہ کے دوران دماغ حیرت میں ڈوبا رہا اور دل سے ان کے لیے دعا نکلتی رہی ۔
اس کتاب کا انتساب رحمت دو عالم، محبوب خدا، محسن انسانیت، سرور انبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام ہے ۔ ماشا اللہ
قرآن کا پہلا لفظ اقراء (پڑھو) نازل ہوا، قرآن و حدیث میں علم کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی تخلیقات پر غور و فکر کی تلقین کی گئی ہے۔ انصاری صاحب نے صحیح معنوں میں اس تلقین پر عمل کیا ہے نہ صرف خود عمل کیا ہے بلکہ ہم قارئین کو بھی دعوت دی گئی ہے ۔
اس کتاب کے مطالعہ سے بہت سی سائنسی معلومات حاصل ہوئیں مصنف نے بہت عمدگی سے سائنس معلومات کا قرآن سے موازنہ کیا ہے
بلیک ہول جس کے بارے میں میں آج تک تذبذب کا شکار رہا نہایت عمدگی سے میرا کونسیپٹ کلیر کیا گیا۔
یہ سائنس دان اگر قرآن کو دھیان سے پڑھ لیں تو چاند کے سفر پر اتنا کشت نہ کرتے پھریں۔ جب قرآن میں کہہ دیا کہ چاند کو مہینوں اور وقت کے حساب کتاب کے لیے بنایا گیا ہے تو اس پر زندگی تلاشنا بے سود ؟
چند صفحات پلٹے تو براق جسے ہم ہمیشہ ایک سواری سمجھتے رہے جس پر بیٹھ کر ہمارے نبی نے آسمان کا سفر کیا اس کی کیا خوب وضاحت پڑھنے کو ملی۔
براق برق کی جمع ہے، برق کا مطلب ہے بجلی، روشنی اور براق سواری کی رفتار روشنی کی رفتار سی… سبحان اللہ!
ناسا نے خلا سے کچھ آوازیں ریکارڈ کیں، عالم لوگوں کا کہنا ہے یہ فرشتوں کی آوازیں ہیں اور قرآن کی سورۃ الطارق کا حوالہ دیا ہے ۔
افسوس ہم نے قرآن کو نہ سمجھا، پانی کی اہمیت قرآن میں بہت وضاحت سے موجود ہے ہر جاندار کی تخلیق پانی سے ہوئی ہے لیکن ہم نے تب جانا جب سائنس نے اس کا ثبوت پیش کیا۔
مصنف نے سورۃ رحمان پر ایسا خوبصورت مضمون باندھا ہے کہ ایمان تازہ ہو گیا ۔
دجال کے مضمون میں قیامت کی نشانیاں اور اس کے ظہور کے متعلق ایسے انکشافات کیے ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ مصنف نے سورۃ کہف ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی تلقین کی ہے.
صور پھونکے جانے کی منظر کشی بہت خوب کی گئی ہے. قیامت کی نشانیوں کا مضمون ہمیں اکثر پڑھتے رہنا چاہیے، غور و فکر اور توبہ استغفار کرتے رہنا چاہیے ۔ قیامت کی نشانیاں تو تقریباً پوری ہونے کو ہیں۔ روز قیامت سورج ہم سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :” لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبے ہوں گے، ان میں سے کوئی اپنے ٹخنوں تک، کوئی اپنے دونوں گھٹنوں تک، کوئی اپنے دونوں کولہوں تک اور کوئی ایسا ہو گا جسے پسینے نے لگام ڈال رکھی ہو گی۔“
یا اللہ ہم گناہگاروں پر اپنا خاص کرم فرمائیں۔آمین ثم آمین
کوہ قاف جسے بیشتر لوگ قصے کہانیوں کا حصہ سمجھتے ہیں اس کا ذکر بھی قرآن پاک میں موجود ہے مصنف نے اس کے بارے میں بھی پورا مضمون مع حوالہ جات تحریر کیا ہے ۔
کائنات، خلا، چاند ستارے، سورج، سمندر، ملکی گیلکسی، علم فلکیات کے متعلق ایسی ایسی معلومات فراہم کی گئی ہیں کہ عقل ڈھنگ رہ جاتی ہے
مصنف نے باقاعدہ قرآنی آیات کے حوالے دے کر سائنسی ترقیوں پر روشنی ڈالی ہے محض زبانی کلامی باتیں نہیں بنائیں ۔
مصنف نے علم الاعداد کے متعلق بھی بہت دلچسپ لکھا ہے ۔
” انسان اس زمین کی مخلوق نہیں ہے “
ڈاکٹر ایلس سلور کی کتاب ایک انتہائی دلچسپ کتاب ہے وہ کسی مذہب کے پیروکار نہیں ان کی کتاب بے تہلکہ مچا دیا، ان کی کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اس زمین پر آنے سے پہلے جس سیارے پر رہتا تھا وہاں کی اب و ہوا، موسم بہت خوشگوار قسم کا تھا وہاں انسان بہت لاڈلی مخلوق کے طور پر رہتے تھے ان کی سستی کاہلی دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہاں ان کے سبھی کام بیٹھے بیٹھائے پورے ہوتے تھے کھانے پینا سبھی کچھ ایک ہی جگہ پورا ہو جاتا تھا۔ کسی غلطی کی پاداش میں انھیں اس سیارے سے زمین پر بھیج دیا گیا یہاں کی گرمی سردی، کشش ثقل اس کے وجود پر گراں گزرتی ہے، فضا اس کی جلد کے لیے زیادہ مناسب نہیں انسان اکثر بیمار ہی رہتا ہے، زمین کا درجہ حرارت اس کے جسم کے موافق نہیں۔ کیا کمال تحقیقات ہیں ڈاکٹر ایلس کی، انسان تو واقع اس سیارے کا باشندہ نہیں ہمیں تو اپنے اصل گھر کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
ہم سب کو ایک دن مر جانا ہے کیا کبھی یہ سوچ آئی کہ شیطان کی موت کیسے ہو گی، مصنف نے بہت دردناک انداز میں شیطان کی موت کا احوال لکھا ہے، آخر میں لکھتے ہیں آپ نے شیطان کی موت کا حال سن لیا لیکن کیا کبھی یہ سوچا کہ ہم رحمانی اعمال کو چھوڑ کر شیطانی اعمال کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں ہمارا کیا انجام ہو گا؟
اس جملے نے مانو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یا اللہ رحم! ہمیں ہدایت کی راہ پر چلانا ۔
جنات کے متعلق کافی تفصیل مصنف اپنی پچھلی کتاب میں بیان کر چکے ہیں اس کتاب میں ایک مضمون سات بادشاہ جنات کے حوالے سے شامل کیا ہے جو بہت دلچسپ و حیرت آمیز ہے ۔ نبیوں، فرشتوں، مختلف سائنس دانوں کے متعلق بھی بہت کچھ ایسا معلوم ہوا جو پہلے نہیں جانتا تھا۔ آپ کو بھی اس کتاب میں بہت کچھ پڑھنے اور سیکھنے کو ملے گا۔ بہت کچھ ہے جو میں اپنے تبصرے میں شامل نہیں کر پایا کہ تبصرہ ایک مضمون کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
103سے لے کر 113 تک یہ صفحات اس کتاب کے بہترین صفحات ہیں کہ اس پر مصنف نے قرآن پاک کے 100 مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات تحریر کیے ہیں. یہ پیغامات ہر انسان کو روزانہ پڑھنے چاہیے اگر ایسا ممکن نہیں تو ہر ماہ قرآن کے دئیے سبق دہرانا بہت ضروری ہے۔
میرا جی چاہ رہا ہے اس شاندار کتاب کے ہر ہر صفحے پر کئی کئی صفحات لکھ ڈالوں۔ میرا بس نہیں چل رہا کہ اس تبصرے میں 260 الفاظ کی پوری کی پوری کتاب سمو ڈالوں ۔ واللہ ایک ایک لفظ توجہ سے پڑھے جانے کے قابل ہے ۔
نسل نو جو آج صرف سائنس کو مانتی ہے، ہر بات کی ٹھوس دلیل طلب کرتی ہے انھیں یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے ۔ نعوذبااللہ ہماری نوجوان نسل قرآنی تعلیمات کے بارے میں یہ رائے رکھتی ہے کہ یہ آج کے ترقی یافتہ دور پر اپلائی نہیں کی جا سکتی یہ چودہ سو سال پرانے معاشرے کے لیے ہی کارآمد تھیں ۔یہ نسل رب کے فرمان کو کیسے دھڑلے سے جھٹلا رہی ہے۔
قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس میں زندگی گزارنے کے اصول اور احکام بیان کیے گئے ہیں جو ہر زمانے کے انسانوں کے لیے قابلِ عمل ہیں۔ مسلمان سائنس دانوں نے بھی اپنی سائنسی تحقیق قرآن کو سمجھ کر ہی مکمل کی تھیں۔ اکبر ابن العربی کی تصنیف فتوحات مکیہ تقریباً نو سو سال پہلے لکھی گئی تھی لیکن اس کتاب میں نہ صرف زمین بلکہ دیگر سیاروں پر رہنے والی مخلوقات کا بھی مفصل ذکر موجود ہے ۔ ان کے پاس یہ علم کیسے آیا تب تو سائنسی دور نہ تھا۔آج بھی ہم اپنا قبلہ درست کر کے قرآن سے ہدایات لینے لگیں تو ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔
اس کتاب کو ہر گھر میں ہر لائبریری میں موجود ہونا چاہیے خاصے کی چیز ہے.
انصاری صاحب کو اتنی خوبصورت کتاب کی اشاعت پر ایک بار پھر دلی مبارک باد ۔
