رد عمل نہیں سنجیدہ جواب دینا سیکھیں

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

ردِّعمل نہیں، سنجیدہ جواب دینا سیکھیں


ہم میں سے اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کے سامنے باوقار، سلجھے ہوئے اور بااخلاق سمجھا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں یہ رائے رکھیں کہ ہم سُنتے ہیں، سمجھتے ہیں، اور بات کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔ لیکن یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم کسی بھی موقع پر پہلا قدم غصے یا جذبے سے نہیں بلکہ بردباری اور تدبر سے اٹھائیں۔ زندگی ہمیں روز ایسے مواقع دیتی ہے جہاں ہم خود کو منوا سکتے ہیں مگر صرف اس وقت، جب ہم فوری ردِّعمل کے بجائے مدبرانہ رویّے کو اپنائیں۔ پہلا تاثر اکثر آخری تاثر بن جاتا ہے، اور یہی پہلا لمحہ طے کرتا ہے کہ آپ کے سامنے والا آپ کو کتنا سنجیدہ لے گا۔
کچھ دن پہلے ایک محفل میں بیٹھی تھی، پرانے دوستوں کی گپ شپ چل رہی تھی۔ ایک دوست نے ہنسی مذاق میں ایک ایسی بات کہہ دی جو دل پر لگ گئی۔ بظاہر معمولی سی بات تھی، لیکن اس لمحے ایسا لگا جیسے کوئی تیر آ لگا ہو۔ دل نے فوراً چاہا کہ سخت جواب دیا جائے، کچھ ایسا کہ اس کو بھی اپنی حد یاد آ جائے۔ لیکن نہ جانے کیسے ایک لمحے کو ٹھہر گئی۔ خود سے کہا:”اگر ابھی غصّے میں ردِّعمل دیا، تو شاید بات بگڑ جائے۔ اگر سوچ سمجھ کر نرمی سے جواب دیا، تو شاید بات سنور جائے۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میں نے نرمی سے کہا، یہ بات مجھے مناسب نہیں لگی۔ وہ دوست فوراً سنجیدہ ہو گیا، معذرت کی، اور بولا، میرا مقصد صرف مذاق تھا، دل دکھا تو معافی چاہتا ہوں۔ میں نے اُس دن جانا کہ فوری ردِّعمل دینا تو آسان ہے، لیکن جو بات صبر اور حکمت سے کہی جائے، اُس کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ ہماری روزمرّہ زندگی ایسے ہی لمحات سے بھری پڑی ہے۔ کبھی ماں کسی بات پر ٹوک دیتی ہے، ہم جھنجلا جاتے ہیں۔ کبھی شوہر دفتر سے دیر سے لوٹتا ہے، اور ہم شکایتوں کی بارش کر دیتے ہیں۔ بچے ہوم ورک نہ کریں، تو چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ان سب موقعوں پر فوری ردِّعمل کے بجائے سوچا سمجھا، نرمی اور شعور پر مبنی جواب دیں، تو رشتے بکھرتے نہیں، مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ ردِّعمل دینا فطری ہے، جذبات کا فوری اظہار۔ لیکن جواب دینا ایک شعوری عمل ہے، جو عقل، برداشت اور ظرف سے جنم لیتا ہے۔ ردِّعمل اکثر تعلقات میں دراڑ ڈال دیتا ہے، جبکہ حکمت بھرا جواب دلوں کے درمیان پل باندھتا ہے۔
یاد رکھیے ! جواب دینا کمزوری نہیں، بلکہ اپنی شخصیت پر قابو پانے کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نہ صرف دوسروں کی عزت کرنا جانتے ہیں، بلکہ اپنی خودداری کو بھی سمجھتے ہیں۔ زندگی کوئی میدانِ جنگ نہیں کہ ہر لفظ کا بدلہ اسی وقت دیا جائے۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے، جہاں ہمیں ہر موڑ پر کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے اگر ہم سیکھنا چاہیں۔ آج جب زندگی آپ سے کسی سخت اور جلدی کے ردِّعمل کا تقاضا کرے، تو ایک لمحے کو رک جائیے، سوچیے، اور پھر جواب دیجیے۔ ایک بامعنی بات، ایک سلجھا ہوا رویّہ، اور ایک نرمی سے بھرا جملہ یہ سب کسی بھی تلخی کو ختم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ردِّعمل نہیں، سنجیدہ جواب دینا سیکھیں۔ کیونکہ اصل دانشمندی چیخنے میں نہیں، بلکہ سننے، سمجھنے اور جواب دینے کے سلیقے میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *