ہجوم
گو کہ اس کا کسی معاملہ سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن انسانی فطرت سے مجبور، محض تجسس کے مارے وہ صرف یہ دیکھنے کے لئے رک گیا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے ؟
تنازعہ کی بنیاد دسویں محرم کا جلوس تھا۔ تنازعہ شبیہ ذوالجناح برآمد ہونے پر نہیں، مقررہ روٹ سے تجاوز کرنے پر شروع ہوا تھا۔ دوسرے فرقہ کے چند لڑکوں نے دیکھ کر راستہ روکا۔ احتجاج کیا۔ احتجاج تلخ کلامی میں تبدیل ہوا تو کسی نے جا کر قریبی مسجد میں اعلان کر دیا اور اب دونوں گروہ آمنے سامنے کھڑے تھے۔ ایک دوسرے پر سرعام کفر کے فتوے لگائے جا رہے تھے۔ گستاخ صحابہ، اہل بیت کے قاتل ، وہابی، رافظی اور پتہ نہیں کیا کیا کہا جا رہا تھا۔ نہ کوئی کسی کی سننے کو تیار تھا اور نہ ہی پیچھے ہٹنے کو۔ پولیس اہلکاروں نے بھی معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد کسی متوقع خطرے کے پیش نظر اپنی پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔
اور پھر و ہی ہوا، جس کا ڈر تھا۔
پہلا پتھر کس نے مارا، کوئی نہیں جانتا لیکن مجمع کو ہجوم بننے میں دیر نہیں لگی اور ہجوم نے امن کو تہس نہس کر دیا۔
وہ چھوٹا سا بازار میدان کارزار میں تبدیل ہوگیا۔ لاٹھیاں، گھونسے، پتھراؤ، ہوائی فائرنگ، آنسو گیس ….
زخموں سے چور، درد سے کراہتے ہوئے جوزف مسیح کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ ہجوم نے اسے کیوں پیٹ ڈالاہے

شہباز اکبر الفت ایک بہترین دور حاضر کے شاعر اور افسانہ نگار ہیں۔۔انکی ہر تحریر ہی قابل رشک ہوتی ہے
✍️ سید آصف علی بخاری
غزل
مرے تصور میں بن کے خوشبو مہک رہے ہو،
گلاب جیسے، دل کی کلیوں میں بہک رہے ہو۔
مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے وجود تیرا،
ہے مجھ میں پنہاں، مری رگوں میں دھڑک رہے ہو۔
ہوا کی لَے میں، کسی صدا کی طرح سنائی دیے،
نہ سامنے ہو مگر ہر اک سمت دکھ رہے ہو۔
میں جب بھی تنہا ہوا ہوں راتوں کے کرب میں،
تمہاری یادوں کے قافلے ساتھ چل رہے ہو۔
خموشیوں میں بھی ایک آہٹ سی زندہ رہتی ہے،
کبھی خیالوں میں، کبھی خوابوں میں رہ رہے ہو۔