ندیم نظر

خصوصی ادبی انٹرویو

مہمان: ندیم نظر
میزبان: رشنا اختر

السلام علیکم!

میں رشنا اختر انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے ادبی پلیٹ فارم سے آپ سب کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ ہمارے اس سلسلہ انٹرویو کا مقصد اردو کے ان چراغوں سے آپ کی ملاقات کروانا ہے جنہوں نے صحافت اور ادب کے میدان میں اپنی محنت سے اپنا مقام بنایا ہے۔

آج اس نشست میں میرے مہمان ایسی ہی ایک معتبر اور محنتی شخصیت ہیں جنہیں میں نے ہمیشہ قلم کا مزدور اور لفظ کا امین پایا ہے۔
جناب ندیم نذر صاحب
آپ ایک سینئر صحافی، کالم نگار اور روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر ہیں۔ آپ کا تعلق لاہور کے ایک ادبی و صحافتی گھرانے سے ہے، آپ معروف صحافی و شاعر جناب غلام محی الدین نظر مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ 1992ء میں کم عمری میں روزنامہ خبریں سے شروع ہونے والا آپ کا صحافتی سفر آج 34 برس کا ہو چکا ہے۔ آپ نے اخبار کی کمپوزنگ سے لے کر ایڈیٹوریل انچارج تک ہر مرحلہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے قلم سے “نظر کی نظر میں” جیسا مقبول کالم اور “پاک فوج کے کارہائے نمایاں” جیسی کتاب تخلیق کی۔
آئیے ہم ندیم نذر صاحب سے ان کی زندگی، ادب، صحافت اور نوجوان نسل کے لیے ان کے پیغام پر بات کرتے ہیں۔

رشنا اختر:ندیم نظر صاحب! سب سے پہلے اپنے قارئین کو اپنے خاندانی پس منظر، ابتدائی زندگی اور ان حالات کے بارے میں بتائیے جنہوں نے آپ کی شخصیت اور فکر کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا؟
ندیم نظر :میری پیدائش 26 اکتوبر 1978ءکو لاہور میں ہوئی۔ میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں صحافت محض پیشہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک انداز تھی۔ والدِ محترم غلام محی الدین نظر مرحوم کا اوڑھنا بچھونا صحافت تھا۔ میں نے بچپن ہی سے انہیں صحافت سے وابستہ دیکھا اور شاید یہی ماحول تھا جس نے میرے اندر بھی اس شعبے سے محبت کے بیج بو دیے تھے۔ تاہم مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ زندگی اتنی کم عمری میں مجھے ایسے حالات سے دوچار کر دے گی جو میری شخصیت اور مستقبل کا رخ متعین کر دیں گے۔میں ابھی آٹھویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھا کہ 12 نومبر 1992ءکو میرے والدِ محترم کینسر سے طویل جنگ لڑنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی وفات ہمارے خاندان کے لیے ایک ایسا صدمہ تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ان کے انتقال پر ملک بھر سے نامور صحافیوں، سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ہمارے گھر آکر تعزیت کی۔ ان ہی شخصیات میں معروف صحافی جناب ضیا شاہد بھی شامل تھے۔ ان دنوں انہوں نے روزنامہ خبریں کا آغاز کیا تھا۔ تعزیت کے موقع پر انہوں نے بتایا کہ وہ میرے والد کی صحافتی خدمات سے متاثر تھے اور ان کے دوست تھے ۔ضیا شاہد صاحب نے اس موقع پر ہمارے خاندان کے دو بچوں کو اپنے ادارے میں ملازمت دینے کی پیش کش کی۔ یوں قرعہ فال میرے اور میرے بڑے بھائی کے نام نکلا۔ میرے بڑے بھائی کچھ عرصے بعد ملازمت چھوڑ کر واپس آگئے کیونکہ ان کا اپنا کاروبار کرنے کا ارادہ تھا۔ بعدازاں انہوں نے سخت محنت اور مستقل مزاجی سے اپنا یہ خواب باڈی بلڈنگ کلب کے قیام کی صورت میں پورا کیااور اب انکا اپنا گاڑیوں کا شوروم بھی ہے۔

رشنا ختر:ادب کی دنیا میں آپ کے سفر کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟ وہ پہلا لمحہ کون سا تھا جب آپر محسوس ہوا کہ قلم محض شوق نہیں بلکہ آپ کی زندگی کا ایک اہم حوالہ بن چکا ہے؟


ندیم نظر :والد محترم کی وفات کے بعد میں نے 1992ءہی میں روزنامہ خبریں سے اپنے عملی صحافتی سفر کا آغاز کردیا۔اس وقت میری عمر بہت کم تھی۔ میں سکول سے چھٹی کے بعد یونیفارم پہنے پیدل دفتر پہنچتا اور رات گئے تک کام کرتا رہتا۔ مجھے اسسٹنٹ ریفرنس کے شعبے میں ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ریفرنس سیکشن میں مختلف اخبارات اور رسائل آتے تھے۔ میں انہیں بڑی دلچسپی سے پڑھتا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب میرے اندر ایک خواہش نے جنم لیا کہ مجھے بھی اپنے والد کی طرح صحافت میں نام پیدا کرنا ہے اور کسی روز اخبار میں میرے نام سے بھی کوئی تحریر ضرور شائع ہونی چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے صرف ملازمت کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ سیکھنے کی لگن اور اپنے کام سے محبت بھی ضروری ہے۔ یہی سوچ مجھے نیوز روم اور ادارے کے دوسرے شعبوں کی طرف لے جاتی تھی۔ میں فارغ وقت ملتے ہی مختلف شعبوں میں چلا جاتا، وہاں کام کرنے والوں کو دیکھتا، سوال پوچھتا اور کام کی باریکیاں سمجھنے کی کوشش کرتا۔ میں نے کمپوزنگ سے لے کر کاپی پیسٹنگ، پلیٹ میکنگ اور پرنٹنگ پریس تک کے مراحل سیکھے۔ میری کوشش ہوتی تھی کہ اخبار کی تیاری کے ہر مرحلے کو قریب سے سمجھوں کیونکہ میرے نزدیک صحافت صرف لکھنے کا نام نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہے جس میں ہر شعبے کی اپنی اہمیت ہے۔اس دوران میرے دل میں لکھنے کی خواہش مسلسل شدت اختیار کرتی رہی۔ بالآخر ایک دن میں نے ہمت کرکے اپنا پہلا کالم لکھا اور ڈرتے ڈرتے ضیا شاہد صاحب کو بھجوا دیا۔ اس کے بعد دو دن تک کوئی جواب نہیں آیا۔ میں بے چینی سے انتظار کرتا رہا کہ نہ جانے کالم پڑھا بھی گیا ہے یا نہیں اور اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔تیسرے دن ضیا شاہد صاحب نے نیوز روم میں ایک میٹنگ بلائی اور مجھے بھی اس میں شرکت کے لیے کہا۔ وہاں انہوں نے اپنے پرسنل اسسٹنٹ سے میرا کالم سب کے سامنے پڑھنے کو کہا۔ کالم سننے کے بعد انہوں نے جس انداز میں میری حوصلہ افزائی اور تعریف کی، وہ لمحہ آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہے۔ ان کی باتیں سن کر میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ ایک کم عمر لڑکے کے لیے، جو اپنے والد کو کھو چکا ہو اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا خواب دیکھ رہا ہو، اس سے بڑھ کر حوصلہ افزائی کیا ہوسکتی تھی!میرے پہلے کالم پر مجھے پانچ سو روپے انعام دیا گیا، میری تنخواہ میں اضافہ ہوا اور مجھے ترقی دے کر ایڈیٹوریل اسسٹنٹ بنا دیا گیا۔ میرے لیے یہ محض مالی انعام یا عہدے میں ترقی نہیں تھی بلکہ اس بات کا اعتراف تھا کہ میری محنت اور لکھنے کی صلاحیت کو پہچانا گیا ہے۔ اس واقعے نے میرے اندر اعتماد پیدا کیا اور مجھے یقین دلایا کہ اگر انسان میں سیکھنے کا شوق، محنت کا جذبہ اور آگے بڑھنے کی لگن ہو تو راستے ضرور نکل آتے ہیں۔اس کے بعد لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر ”خبریں “کا ہی دوپہر کا اخبار روزنامہ نیا اخبارشروع ہوا تو اس میں مجھے صفحہ نمبر دو کی ذمہ داری کیساتھ کالم لکھنے کی ذمہ داری دی گئی۔میں نے اس کالم کو ”نظر کی نظرمیں“کے عنوان سے روایت سے ہٹ کر طنز اور مزاح کا”تڑکا“لگایا جسے بے حد پزیرائی ملی۔ جو اخبار میں بناتا ،دوپہر کو شائع ہوتا تو میں منہ پر کپڑا لپیٹ کر اسی اخبارکو بیچنے نکل پڑتا تاکہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرسکوں۔وقت کے ساتھ میری ذمہ داریاں بڑھتی گئیں اور پھرمیں ”خبریں“کے ایڈیٹوریل انچارج کے منصب تک پہنچا۔ بعدازاں میگزین کے شعبے سے وابستگی بڑھی اور بالآخر میں میگزین ایڈیٹر بن گیا۔ اس دوران مجھے اسی میڈیا گروپ کے ٹی وی چینل میں بھی بطور سکرپٹ رائٹر تقریباً ایک سال کام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے اس تجربے سے بھی بہت کچھ سیکھا اور اپنی صلاحیتوں کو مختلف جہتوں میں آزمانے کی کوشش کی۔اگر میں اپنے اس سفر کو چند الفاظ میں بیان کروں تو اسے سیکھنے، محنت کرنے اور آگے بڑھنے کے جنون کی داستان کہوں گا۔ میں نے زندگی میں جو کچھ سیکھا، اس کا بڑا حصہ عملی تجربے، مشاہدے اور سینئرز کی رہنمائی سے حاصل کیا۔ ضیا شاہد صاحب کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میرے لیے ہمیشہ ایک اہم حوالہ رہی۔ انہوں نے مجھے کم عمری میں جو موقع دیا، اس نے میرے مستقبل کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔صحافت کے ساتھ ساتھ میں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ایم اے پولیٹیکل سائنس ، ایم اے ماس کمیونیکیشن کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب ایل ایل بی کررہا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ صحافت میں عملی تجربہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے لیکن مطالعہ اور تعلیم انسان کے شعور کو وسعت دیتے ہیں۔ اسی لیے آج بھی کتابوں اور اخبارات و رسائل کا مطالعہ میری زندگی کا حصہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا اور جو شخص خود کو سیکھنے سے روک لیتا ہے، اس کی پیشہ ورانہ ترقی بھی محدود ہو جاتی ہے۔الحمدللہ، صحافت سے میری وابستگی کو تقریباً 34 برس ہوچکے ہیں۔ میں نے 26برس ”خبریں “میں گزارے ،اپنے اس سفر میں مختلف اداروں اور شعبوں میں کام کیا۔روزنامہ اوصاف سے آفر ہوئی تو وہاں بطور میگزین ایڈیٹر چلا گیا،دو سال وہاں رہا۔اس دوران چھوٹے اخبارات روزنامہ انصاف ‘روزنامہ چٹان وغیرہ میں پارٹ ٹائم نیوز روم میں کام کیا اور ایک ماہ کے دوران ہی روزنامہ چٹان کا نیوز ایڈیٹر بھی بن گیا۔اب گزشتہ سات برس سے روزنامہ مشرق میں بطور میگزین ایڈیٹر خدمات انجام دے رہا ہوں۔اس طویل سفر میں بہت سے نشیب و فراز آئے، مشکلات بھی پیش آئیں لیکن قلم سے رشتہ برقرار رہا۔میری شخصیت کی تشکیل میں میرے والد کی صحافتی زندگی، ان کی یادیں، کم عمری میں پیش آنے والے حالات، ضیا شاہد صاحب کی حوصلہ افزائی اور مسلسل محنت نے بنیادی کردار ادا کیا۔ میں آج بھی خود کو ایک طالب علم سمجھتا ہوں، جو ہر روز کچھ نیا سیکھنے اور اپنے کام کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ میرے نزدیک کامیابی کسی ایک عہدے یا منصب کا نام نہیں بلکہ اپنے شوق سے وفادار رہنے، اپنے تجربات سے سیکھنے اور دوسروں کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا نام ہے۔


رشنا اختر:آپ کی ادبی شخصیت پر کن شعراء، ادیبوں، کتابوں یا فکری تحریکوں نے سب سے زیادہ اثر ڈالا؟ کیا کوئی ایسی کتاب یا تخلیق ہے جس نے آپ کے سوچنے کا انداز بدل دیا ہو؟


ندیم نظر:میری ادبی اور صحافتی شخصیت کی تشکیل میں مطالعے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ میں نے مطالعے کے لیے کبھی کسی خاص موضوع یا مخصوص ادیب تک خود کو محدود نہیں رکھا۔ میرے ہاتھ میں جو کتاب آتی، اسے پڑھنے کی کوشش کرتا تھا۔ میرا خیال ہے کہ لکھنے والے کے لیے مطالعہ محض معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی زبان کو بہتر بنانے، سوچ کو وسعت دینے اور اظہار کے نئے انداز سیکھنے کا ایک مسلسل عمل ہے۔روزنامہ خبریں میں ملازمت کے دوران ضیا شاہد صاحب مجھے بین الاقوامی رسائل بھجوایا کرتے تھے تاکہ میں ان میں شائع ہونے والی اچھی کہانیوں اور سٹوریز کا انتخاب کروں، ان کا اردو میں ترجمہ کروں اور پھر انہیں اپنے الفاظ اور اسلوب میں ڈھال کر میگزین میں شائع کروں۔ اس مشق نے میری زبان، تحریر اور موضوع کو بیان کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ میں نے سیکھا کہ ترجمہ محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں بلکہ اصل تحریر کی روح، اس کے پس منظر اور اس کے تاثر کو اپنی زبان میں منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ تجربہ میرے لیے ایک غیر رسمی تربیت گاہ ثابت ہوا، جہاں مطالعے کے ساتھ ساتھ لکھنے اور اپنی تحریر کو بہتر بنانے کا موقع بھی ملتا رہا۔کالم نگاری کے حوالے سے میں نے جن اہلِ قلم کو شوق سے پڑھا، ان میں ضیا شاہد صاحب مرحوم، عطاءالحق قاسمی صاحب، اردشیر کاو¿س جی، ڈاکٹر انور سدید صاحب، حسن نثار صاحب اور نذیر ناجی صاحب شامل ہیں۔ ہر لکھنے والے کا اپنا انداز، اپنا زاویہ نظر اور اظہار کا اپنا سلیقہ تھا۔ کسی کی تحریر میں طنز و مزاح کی کاٹ تھی، کسی کے ہاں زبان کی شگفتگی اور ادبی چاشنی ملتی تھی، کسی کا اسلوب تجزیاتی اور فکری گہرائی لیے ہوئے تھا جبکہ کسی کی تحریر میں معاشرتی رویوں پر بے لاگ اظہار نمایاں تھا۔ ان سب کو پڑھنے سے مجھے اردو زبان کے مختلف اسالیب کو سمجھنے اور اپنی تحریر میں بہتر اظہار کی راہیں تلاش کرنے کا موقع ملا۔میں نے ان شخصیات کو پڑھتے ہوئے یہ کوشش نہیں کی کہ ان میں سے کسی ایک کا انداز اپنا لوں بلکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی کہ ایک اچھا لکھنے والا اپنے مشاہدے، مطالعے اور فکری زاویے کو مو¿ثر انداز میں قارئین تک کیسے پہنچاتا ہے۔ میرے نزدیک کسی بڑے ادیب یا کالم نگار سے سیکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی تحریر کو توجہ سے پڑھا جائے، اس کے اسلوب کو سمجھا جائے اور پھر اپنی شخصیت، اپنے تجربے اور اپنی زبان کے مطابق اظہار کا راستہ تلاش کیا جائے۔مجھے آپ بیتیوں سے خصوصی دلچسپی رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ بیتی محض کسی شخص کی زندگی کے واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں ایک عہد کی تاریخ، معاشرے کے رویے، انسانی نفسیات، کامیابیوں اور ناکامیوں کے تجربات اور زندگی کے وہ سبق محفوظ ہوتے ہیں جو محض نظری مطالعے سے حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ اسی لیے کسی عام یا خاص لکھاری کی آپ بیتی میرے ہاتھ لگتی تو میں اسے رات کو سونے سے پہلے ضرور پڑھتا۔ میری کوشش ہوتی کہ اس شخص کی زندگی کے تجربات سے کچھ سیکھ سکوں، اس کی کامیابیوں کے پیچھے کارفرما محنت کو سمجھوں اور اس کی ناکامیوں سے بھی کوئی سبق حاصل کروں۔ میرے نزدیک دوسروں کی زندگیوں کا مطالعہ دراصل اپنی زندگی کو بہتر طور پر سمجھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔شاعری کے حوالے سے میری ایک ذاتی محرومی بھی ہے، جس کا اعتراف میں کھلے دل سے کرتا ہوں۔ میرے والدِ محترم غلام محی الدین نظر مرحوم نہ صرف صحافی تھے بلکہ بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ میں نے انہیں پاکستان ٹیلیوژن اور ریڈیو پاکستان کے پروگراموں میں شاعری کرتے سنا اور دیکھا۔ ان کی آواز، اندازِ بیان اور شاعرانہ اظہار کی یادیں آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ ان کی شخصیت میں صحافت اور شاعری کا جو امتزاج تھا، وہ میرے لیے ہمیشہ باعثِ احترام رہا ہے۔بدقسمتی سے شاعری کی یہ خوبی مجھ میں پیدا نہیں ہوسکی۔ میں اسے اپنی ایک کمی سمجھتا ہوں اور اس کا برملا اعتراف کرتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ شاعری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی ایک خاص صلاحیت ہے۔ اس کے لیے محض الفاظ سے واقفیت کافی نہیں بلکہ احساس، تخیل، موسیقیت اور جذبے کی ایک الگ دنیا درکار ہوتی ہے۔ شاید قدرت نے میرے حصے میں شاعری کے بجائے نثر، صحافت اور کالم نگاری کا راستہ رکھا تھا۔ تاہم شاعری سے میری محبت اور اچھے شعر کو محسوس کرنے کی صلاحیت اپنی جگہ موجود ہے۔اگر میں اپنی ادبی تشکیل کا خلاصہ کروں تو کہوں گا کہ مطالعے نے مجھے زبان سکھائی، بین الاقوامی رسائل کے تراجم اور ان کی تشکیلِ نو نے تحریر میں نکھار پیدا کیا، بڑے کالم نگاروں کے مطالعے نے اظہار کے مختلف اسالیب سے روشناس کرایا اور آپ بیتیوں نے انسانی زندگی کو سمجھنے کا شعور دیا۔ میرے والد کی شخصیت اور ان کی شاعری میری زندگی کا ایک ایسا حوالہ ہیں جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔ میں آج بھی مطالعے کو اپنی تربیت کا بنیادی ذریعہ سمجھتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک اچھا لکھنے والا وہی ہے جو زندگی بھر ایک طالب علم کی طرح پڑھتا، سیکھتا اور اپنے اندر بہتری پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہے۔


رشنا اختر:آپ کے نزدیک ایک اچھے ادیب یا شاعر کی اصل پہچان کیا ہے؟ کیا محض خوب صورت الفاظ کافی ہیں یا ادب کے لیے فکر، مشاہدہ اور زندگی کا تجربہ بھی ضروری ہے؟


ندیم نظر:میرے نزدیک ایک اچھے ادیب یا شاعر کی اصل پہچان اس کے خوب صورت الفاظ یا مشکل زبان کا استعمال نہیں بلکہ اس کی فکر، مشاہدے، احساس اور زندگی کو دیکھنے کے انداز میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ الفاظ یقینا اہم ہیں کیونکہ یہی خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں لیکن اگر الفاظ کے پیچھے کوئی خیال، احساس یا مقصد موجود نہ ہو تو تحریر دیرپا اثر پیدا نہیں کرسکتی۔ ادب کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرے، اس کے احساسات کو چھوئے اور اسے زندگی کے کسی نئے پہلو سے روشناس کرائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اچھا لکھنے والا بننے کے لیے وسیع مطالعہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مطالعہ انسان کے ذہن کو وسعت دیتا ہے، اس کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرتا ہے اور اسے مختلف نظریات اور تجربات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم، صرف کتابیں پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ جو کچھ پڑھا جائے اسے سمجھنا، اس پر غور کرنا اور زندگی کے تجربات کی روشنی میں اس کا تجزیہ کرنا بھی ضروری ہے۔ مطالعہ انسان کو معلومات دیتا ہے لیکن مشاہدہ ان معلومات کو زندگی سے جوڑنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔صحافت سے وابستگی کے دوران میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ ہمارے اردگرد بکھری ہوئی عام زندگی میں بھی بے شمار کہانیاں موجود ہوتی ہیں۔ ایک محنت کش کی جدوجہد، کسی ماں کی قربانی، کسی باپ کی خاموش پریشانی، کسی نوجوان کے خواب، کسی غریب کی محرومی یا کسی عام انسان کی غیر معمولی ہمت، یہ سب ادب کے موضوعات بن سکتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک عام شخص ان واقعات کو دیکھ کر گزر جاتا ہے جبکہ ایک حساس لکھنے والا ان کے پس منظر، انسانی کیفیت اور پوشیدہ معنی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔میرے نزدیک ادیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانوں کو صرف ان کے ظاہری حالات سے نہ پہچانے بلکہ ان کے دکھوں، خوشیوں، مجبوریوں، خواہشوں اور تضادات کو بھی سمجھے۔ زندگی ہمیشہ سیاہ اور سفید خانوں میں تقسیم نہیں ہوتی۔ انسان کے اندر کئی طرح کی کیفیات بیک وقت موجود ہوتی ہیں۔ ایک اچھا تخلیق کار اسی پیچیدگی کو سمجھ کر اپنے قلم کے ذریعے دوسروں تک پہنچاتا ہے۔میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ادب میں سچائی کی بڑی اہمیت ہے۔ یہاں سچائی سے مراد صرف واقعات کی درستگی نہیں بلکہ انسانی احساسات اور تجربات کی حقیقی ترجمانی بھی ہے۔ اگر کسی تحریر میں دکھ بیان کیا جائے تو قاری کو اس دکھ کی شدت محسوس ہونی چاہیے۔ اگر کسی معاشرتی مسئلے پر لکھا جائے تو تحریر محض نعرہ بن کر نہ رہ جائے بلکہ اس مسئلے کی وجوہات، اس کے اثرات اور اس سے وابستہ انسانی پہلو بھی سامنے آئیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ادب بننے کی طرف بڑھتی ہے۔میرے خیال میں ادیب کو اپنے عہد سے بھی باخبر ہونا چاہیے۔ وہ جس معاشرے میں رہتا ہے، اس کے مسائل، تبدیلیوں، رویوں اور ترجیحات سے لاتعلق رہ کر زندگی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرسکتا۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر تحریر میں اصلاحی وعظ یا سیاسی بیان شامل کردیا جائے۔ ادب کی اپنی جمالیات اور اپنی آزادی ہوتی ہے۔ ایک ادیب اپنے کرداروں، واقعات، مکالموں اور مشاہدات کے ذریعے بھی بہت کچھ کہہ سکتا ہے۔ بعض اوقات ایک سادہ سا واقعہ یا چند مختصر جملے وہ اثر پیدا کردیتے ہیں جو طویل تقریر سے بھی پیدا نہیں ہوتا۔میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ اچھے لکھنے والے میں عاجزی اور سیکھنے کی خواہش ہونی چاہیے۔ جو شخص یہ سمجھ لے کہ اس نے سب کچھ سیکھ لیا ہے، اس کے لیے آگے بڑھنے کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔ میں آج بھی خود کو سیکھنے کے عمل سے وابستہ ایک طالب علم سمجھتا ہوں۔ مطالعہ، سینئر اہلِ قلم کی تحریروں کا جائزہ، روزمرہ زندگی کا مشاہدہ اور اپنے تجربات پر غور کرنا میرے نزدیک تحریر کو بہتر بنانے کے بنیادی ذرائع ہیں۔ میرے نزدیک اچھے ادیب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے قلم کے ساتھ دیانت دار ہو۔ وہ محض داد حاصل کرنے، مقبولیت سمیٹنے یا کسی گروہ کی پسند کے مطابق لکھنے کے بجائے اپنے مشاہدے، ضمیر اور فکری شعور کی روشنی میں اظہار کرے۔ ضروری نہیں کہ ہر تحریر ہر شخص کو پسند آئے لیکن یہ ضرور اہم ہے کہ اس میں خلوص، فکری گہرائی اور انسانی احساس موجود ہو۔ خوب صورت الفاظ تحریر کو دل کش بناتے ہیں لیکن سچی فکر، گہرا مشاہدہ اور انسانی احساس اسے زندہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو کسی لکھنے والے کو محض الفاظ کا ہنرمند بنانے کے بجائے ایک حقیقی ادیب کی شناخت عطا کرتی ہیں۔


رشنا اختر: آج کا لکھنے والا سوشل میڈیا کے ایک ایسے دور میں موجود ہے جہاں چند لمحوں میں تحریر ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ آپ سوشل میڈیا کو ادب کے فروغ کے لیے کس حد تک مفید سمجھتے ہیں؟


ندیم نظر:میرے نزدیک سوشل میڈیا موجودہ دور کا ایک ایسا مو¿ثر ذریعہ ہے جس نے اظہار، ابلاغ اور ادب کی اشاعت کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کسی لکھنے والے کی تحریر قارئین تک پہنچانے کے لیے اخبار، رسالے یا کتاب کی اشاعت ضروری سمجھی جاتی تھی۔ کسی تحریر کو شائع کروانا اور قارئین تک پہنچانا ایک باقاعدہ ادارتی عمل سے گزرنے کے بعد ممکن ہوتا تھا لیکن آج ایک لکھنے والا اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر کے ذریعے اپنی تحریر چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ بعض اوقات لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ میرے خیال میں یہ ادب کے فروغ کے لیے ایک بڑا موقع ہے بشرطیکہ اس سہولت کو ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔صحافت اور میگزین کے شعبے سے طویل وابستگی کے دوران میں نے مطالعے اور تحریر کی اہمیت کو ہمیشہ بنیادی حیثیت دی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا نے ان لوگوں کے لیے بھی اظہار کے دروازے کھول دیے ہیں جنہیں روایتی ادبی اداروں یا اشاعتی ذرائع تک رسائی حاصل نہیں۔ ملک کے کسی دور افتادہ علاقے میں بیٹھا نوجوان بھی اپنی تحریر دنیا بھر کے قارئین تک پہنچا سکتا ہے۔ اسی طرح بیرونِ ملک مقیم اردو لکھنے والے اپنی زبان، ادب اور ثقافت سے وابستہ رہتے ہوئے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ یہ رابطہ اردو زبان کے فروغ اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔سوشل میڈیا کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے لکھنے والے اور پڑھنے والے کے درمیان فاصلے کم کردیے ہیں۔ پہلے کسی تحریر پر قارئین کی رائے جاننے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا تھا لیکن اب لکھنے والے کو فوری طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی تحریر کو کس طرح دیکھا جارہا ہے۔ مختلف ادبی گروپس، آن لائن مشاعرے، کتابوں پر تبصرے، ادبی نشستوں کی ریکارڈنگ اور علمی مباحث نئے قارئین کو ادب کی طرف متوجہ کرنے کے اچھے ذرائع ہیں۔ اگر ان پلیٹ فارمز کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ مطالعے اور تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ میں مو¿ثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔تاہم میں سوشل میڈیا کے اس روشن پہلو کے ساتھ اس کے بعض منفی رجحانات کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتا۔ آج بسا اوقات مقبولیت کو معیارِ ادب سمجھ لیا جاتا ہے۔ کسی تحریر پر لائکس، کمنٹس اور شیئرز کی تعداد کو اس کی ادبی قدر کا پیمانہ بنا دیا جاتا ہے حالانکہ زیادہ پڑھی جانے والی ہر تحریر ضروری نہیں کہ اعلیٰ ادبی معیار بھی رکھتی ہو اور نہ ہی کم پڑھی جانے والی ہر تحریر غیر اہم ہوتی ہے۔ ادب کی قدر کا تعین اس کی فکری گہرائی، اسلوب، تخلیقی قوت اور دیرپا اثرات سے ہونا چاہیے، محض اس کی فوری مقبولیت سے نہیں۔ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے اظہار کو آسان تو کردیا ہے لیکن بعض اوقات اسی آسانی کے باعث مطالعے، تحقیق اور زبان کی درستی پر توجہ کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بعض لوگ کسی خیال کو چند جملوں میں لکھ کر خود کو مکمل ادیب یا شاعر سمجھنے لگتے ہیں جبکہ تخلیقی صلاحیت کو نکھارنے کے لیے برسوں کا مطالعہ، مسلسل مشق، تنقید کو قبول کرنے کا حوصلہ اور اپنی تحریر پر نظرثانی کی عادت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح دوسروں کی تحریروں کو اپنے نام سے شائع کرنا، بغیر حوالہ دیے مواد نقل کرنا اور غیر مصدقہ معلومات کو پھیلانا بھی سنجیدہ مسائل ہیں۔ میرے نزدیک سوشل میڈیا پر ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تنقید اور اصلاح کی صحت مند روایت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ کسی لکھنے والے کی حوصلہ افزائی ضرور ہونی چاہیے لیکن محض تعلقات یا دوستی کی بنیاد پر ہر تحریر کو شاہکار قرار دینا اس کے ادبی سفر کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ حقیقی حوصلہ افزائی یہ ہے کہ اچھے کام کو سراہا جائے اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہو وہاں احترام کے ساتھ رہنمائی بھی کی جائے۔ اختلافِ رائے کو ذاتی مخالفت سمجھنے کے بجائے اسے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا روایتی اخبارات، ادبی رسائل اور کتابوں کا مکمل متبادل نہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے والا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اخبارات اور رسائل میں ادارتی جانچ، انتخاب، تدوین اور معیار برقرار رکھنے کی جو روایت موجود ہے، اس کی اپنی اہمیت ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا فوری رسائی اور وسیع ابلاغ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اگر دونوں ذرائع ایک دوسرے کی خوبیوں سے فائدہ اٹھائیں تو ادب کو زیادہ وسیع اور متنوع قارئین تک پہنچایا جاسکتا ہے۔میرا نوجوان لکھنے والوں کو مشورہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو اپنی منزل نہیں بلکہ اپنے ادبی سفر کا ایک ذریعہ سمجھیں۔ اپنی تحریریں ضرور شائع کریں، قارئین سے رابطہ رکھیں اور تنقید سے سیکھیں لیکن کتاب سے اپنا رشتہ کمزور نہ ہونے دیں۔ زبان پر محنت کریں، مختلف اصناف کا مطالعہ کریں، اپنے مشاہدے کو وسیع کریں اور لکھنے سے پہلے موضوع کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ فوری داد کی خواہش میں اپنی تخلیقی صلاحیت اور فکری آزادی کو قربان نہ کریں۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ کی تحریر کتنے لوگوں تک پہنچی بلکہ یہ ہے کہ جن لوگوں تک پہنچی، ان کے ذہن اور دل پر اس نے کیا اثر چھوڑا۔
رشنا اختر:موجودہ دور میں ادبی گروہ بندی، پسند و ناپسند اور تعلقات بھی کسی تخلیق کی پذیرائی پر اثر انداز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کے خیال میں ایک حقیقی تخلیق کار کو ان رویوں سے کس طرح نمٹنا چاہیے؟
ندیم نظر:میرے نزدیک ادبی گروہ بندی اور پسند و ناپسند تخلیقی صلاحیتوں کے بجائے تعلقات کی بنیاد پر کسی کی پذیرائی کا سبب بنیں تو یہ ادب کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات اچھے لکھنے والے محض اس لیے نظرانداز ہوجاتے ہیں کہ وہ کسی مخصوص گروہ کا حصہ نہیں ہوتے جبکہ کمزور تحریروں کو تعلقات کی بنیاد پر غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔میرا ماننا ہے کہ حقیقی تخلیق کار کو ان رویوں سے مایوس ہونے کے بجائے اپنے مطالعے، مشاہدے اور تخلیقی صلاحیت کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ ادبی دنیا میں اختلافِ رائے فطری ہے لیکن ذاتی پسند و ناپسند کو ادبی معیار نہیں بننا چاہیے۔ وقت کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر ملنے والی پذیرائی ختم ہوجاتی ہے مگر معیاری تخلیق اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ادیب کی اصل پہچان اس کا قلم ہے، اس کا گروہ یا تعلقات نہیں۔
رشنا اختر:آج کے معاشرے میں انسان کے اندر تنہائی، بے یقینی، معاشی دباو¿ اور رشتوں کی کمزوری بڑھ رہی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ ادب ان مسائل کی حقیقی ترجمانی کر رہا ہے؟
ندیم نظر:میرے خیال میں موجودہ ادب معاشرے کے مسائل کی ترجمانی تو کر رہا ہے لیکن یہ ترجمانی ابھی اتنی وسیع اور مو¿ثر نہیں جتنی ہونی چاہیے۔ آج کا انسان تنہائی، معاشی دباو¿، رشتوں کی کمزوری اور مستقبل کی بے یقینی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ یہ مسائل ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں اور ادب کو ان کی حقیقی عکاسی کرنی چاہیے۔ادیب کی ذمہ داری صرف معاشرے کی خوب صورتی بیان کرنا نہیں بلکہ اس کے دکھوں، تضادات اور تلخ حقیقتوں کو بھی سامنے لانا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ لکھنے والا اپنے ماحول سے جڑا رہے، عام انسان کے مسائل کو سمجھے اور محض تخیل کے بجائے حقیقی مشاہدے سے بھی کام لے۔ تاہم ادب کا کام صرف مسائل کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ انسان کے اندر احساس، امید اور بہتر زندگی کی خواہش کو زندہ رکھنا بھی ہے۔اچھا ادب وہ ہے جو انسان کے دکھ کو زبان دے، اسے تنہا محسوس نہ ہونے دے اور سوچنے پر مجبور کرے۔
رشنا اختر:آپ کے نزدیک ادب کا بنیادی مقصد کیا ہے،تفریح، جمالیات، شعور کی بیداری، معاشرتی اصلاح یا انسان کو اپنے باطن سے روشناس کرانا؟
ندیم نظر:میرے نزدیک ادب کا بنیادی مقصد انسان کو انسان کے قریب لانا، اس کے شعور کو بیدار کرنا اور اسے اپنے باطن اور اردگرد کی دنیا کو سمجھنے میں مدد دینا ہے۔ ادب میں تفریح اور جمالیات کی اپنی اہمیت ہے لیکن اس کی اصل قوت یہ ہے کہ وہ قاری کے ذہن میں سوال پیدا کرے، اس کے احساسات کو چھوئے اور اسے زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دے۔میں سمجھتا ہوں کہ ادب معاشرے کی اصلاح کا مو¿ثر ذریعہ ضرور ہے لیکن اسے محض نصیحت یا وعظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک سچی تخلیق اپنے کرداروں، واقعات اور خیالات کے ذریعے وہ بات بھی سمجھا سکتی ہے جو طویل تقریروں سے ممکن نہیں ہوتی۔ ادب کی کامیابی یہ ہے کہ تحریر ختم ہونے کے بعد بھی اس کا خیال قاری کے ذہن میں زندہ رہے اور اس کے احساس و فکر پر کوئی مثبت اثر چھوڑے۔
رشنا اختر:ایک تخلیق کار کے لیے مشاہدہ کتنا اہم ہے؟ کیا آپ اپنے اردگرد کے عام انسانوں، ان کے دکھوں، خوشیوں اور روزمرہ زندگی سے اپنی تخلیقات کے لیے مواد اخذ کرتے ہیں؟
ندیم نظر:میرے نزدیک ایک تخلیق کار کے لیے مشاہدہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا مطالعہ۔ کتابیں ہمیں دوسروں کے تجربات سے روشناس کراتی ہیں جبکہ مشاہدہ ہمیں اپنے اردگرد بکھری زندگی کو سمجھنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ ایک اچھا لکھنے والا عام واقعات میں بھی غیر معمولی کہانی تلاش کرلیتا ہے۔صحافت سے طویل وابستگی کے دوران مجھے مختلف طبقات کے لوگوں، ان کے مسائل، خوشیوں، محرومیوں اور جدوجہد کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک محنت کش کی زندگی، کسی ماں کی قربانی یا کسی عام انسان کی خاموش جدوجہد میں بھی ادب کے بے شمار موضوعات موجود ہوتے ہیں۔تخلیق کار کو لوگوں کے حالات دیکھنے کے ساتھ ان کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے کیونکہ محض دیکھنا مشاہدہ نہیں بلکہ دیکھی ہوئی حقیقت کی گہرائی تک پہنچنا اصل مشاہدہ ہے۔زندگی خود ایک بڑی کتاب ہے، شرط یہ ہے کہ انسان اسے پڑھنے والی نظر رکھتا ہو۔
رشنا اختر:آج اردو زبان کو ایک طرف نئی نسل کی کم ہوتی دلچسپی اور دوسری طرف ڈیجیٹل دنیا کے نئے امکانات کا سامنا ہے۔ آپ اردو کے مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ندیم نظر:میں اردو زبان کے مستقبل سے مایوس نہیں ہوں، البتہ سمجھتا ہوں کہ اس کے فروغ کے لیے ہمیں نئی نسل کے بدلتے ہوئے رجحانات کو سمجھنا ہوگا۔ آج نوجوان ڈیجیٹل دنیا سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اردو ادب کو بھی جدید ٹیکنالوجی، ای بکس، ڈیجیٹل رسائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان تک پہنچایا جائے۔اردو ایک زرخیز زبان ہے جس کا ادبی، تہذیبی اور تاریخی سرمایہ بہت وسیع ہے۔ مسئلہ زبان کی صلاحیت کا نہیں بلکہ اسے سیکھنے، پڑھنے اور روزمرہ زندگی میں برتنے کے مواقع پیدا کرنے کا ہے۔ والدین، تعلیمی اداروں، ادیبوں اور ذرائع ابلاغ کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔میرا خیال ہے کہ اردو کو دوسری زبانوں کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہیے۔زبانیں وقت کے ساتھ نئے راستے اختیار کرتی ہیں اور اردو کا مستقبل بھی اسی صورت روشن ہوگا جب ہم اسے نئی نسل کی ضرورت اور جدید دور کے تقاضوں سے جوڑیں گے۔
رشنا اختر:نوجوان لکھنے والوں میں آپ کو کون سی خوبیاں امید دلاتی ہیں اور کون سی کمزوریاں ایسی ہیں جن پر انہیں سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے؟
ندیم نظر:نوجوان لکھنے والوں میں تخلیقی صلاحیت، اظہار کا جذبہ اور اپنی شناخت بنانے کی خواہش یقینا امید افزا ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ کمزوریاں بھی ہیں جن پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آج بعض نوجوان مطالعے اور ریاضت کے طویل راستے سے گزرے بغیر شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ چند تحریریں سوشل میڈیا پر شائع ہوتے ہی خود کو بڑا ادیب یا شاعر سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ ادب محض دعوﺅں، داد اور لائکس کا نام نہیں بلکہ مسلسل محنت، فکری پختگی اور زبان پر عبور کا تقاضا کرتا ہے۔ایک اور المیہ یہ ہے کہ تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ کم ہوتا جارہا ہے۔ اصلاحی رائے کو اپنی ذات پر حملہ سمجھ لیا جاتا ہے اور اختلاف کرنے والے کو مخالف تصور کیا جاتا ہے۔ ادبی گروہ بندی اور باہمی تعریف و توصیف کا رجحان بھی تخلیقی معیار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ ہر تحریر شاہکار نہیں ہوتی اور ہر تعریف سندِ کمال نہیں ہوتی۔میرا مشورہ ہے کہ نوجوان لکھنے والے مطالعے کو معمول بنائیں، زبان و بیان پر محنت کریں، کلاسیکی اور جدید ادب دونوں پڑھیں، تحقیق اور مشاہدے سے کام لیں اور تنقید کو اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھیں۔ ادب میں مقام مانگنے سے نہیں، اپنی تحریر کے معیار سے بنایا جاتا ہے۔


رشنا اختر:ادبی حلقوں میں اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ ادب کو سیاست اور سماج سے الگ رہنا چاہیے یا ایک ادیب کو اپنے عہد کے مسائل پر آواز ضرور اٹھانی چاہیے۔ آپ کا اپنا مو¿قف کیا ہے؟
ندیم نظر:میرے نزدیک ادب کو سیاست اور سماج سے مکمل طور پر الگ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ادیب بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے جس میں ناانصافی، طبقاتی تقسیم، معاشی مشکلات اور انسانی حقوق کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اگر وہ اپنے عہد کے حالات سے آنکھیں بند کرلے تو اس کی تحریر زندگی کی مکمل ترجمانی نہیں کرسکتی۔تاہم میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ادیب کو کسی سیاسی جماعت کا ترجمان بننے کے بجائے اپنے ضمیر، مشاہدے اور فکری آزادی کے ساتھ لکھنا چاہیے۔ اس کی وفاداری کسی شخصیت یا گروہ سے زیادہ سچائی اور انسانیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اسے حکومت کی غلطی پر تنقید کا حق بھی حاصل ہے اور اچھے کام کی تحسین کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔ ادیب کا قلم کسی سیاسی وابستگی کا اسیر نہیں بلکہ اپنے عہد کا گواہ اور انسانی شعور کی آواز ہونا چاہیے۔
رشنا اختر:آپ کے ادبی سفر میں ایسا کون سا لمحہ، ملاقات یا واقعہ ہے جسے آپ اپنی زندگی کا یادگار ادبی حوالہ سمجھتے ہیں؟
ندیم نظر:میرے ادبی سفر کا سب سے یادگار واقعہ میرا پہلا کالم ہے، جس نے میری زندگی کو ایک نئی سمت دی۔ میں نے کم عمری میں روزنامہ خبریں میں کام کرتے ہوئے اپنا پہلا کالم لکھا اور ڈرتے ڈرتے ضیا شاہد صاحب کو بھجوا دیا۔ دو دن تک کوئی جواب نہ ملا لیکن تیسرے دن انہوں نے نیوز روم کی میٹنگ میں سب کے سامنے میرا کالم پڑھوایا اور میری بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ مجھے پانچ سو روپے انعام دیا گیا، تنخواہ میں اضافہ ہوا اور ایڈیٹوریل اسسٹنٹ کے عہدے پر ترقی بھی ملی۔پھر وہ وقت بھی آیا کہ مجھے روزنامہ خبریں کے ”بیسٹ ورکر“کے اعزاز سے نوازا گیا،اسی دن مجھے ایک اور ایوارڈ بھی ملا جوکہ میری کتاب ”پاک فوج کے کارہائے نمایاں“لکھنے پر ریٹائرڈ فوجیوں کی ایک تنظیم نے مجھے دیا۔یہ میرے لیے محض ایک پیشہ ورانہ کامیابی نہیں تھی بلکہ اس یقین کی پہلی کرن تھی کہ میں اپنے والدِ محترم غلام محی الدین نظر مرحوم کے نقشِ قدم پر چل سکتا ہوں۔ ضیا شاہد صاحب کی وہ حوصلہ افزائی آج بھی میرے لیے ایک قیمتی یاد ہے۔بعض اوقات کسی سینئر کی حوصلہ افزائی کے چند جملے ایک نوجوان کی پوری زندگی کا راستہ متعین کردیتے ہیں۔ میرے لیے وہ لمحہ ایسا ہی تھا۔
رشنا اختر:اگر آپ کو اردو ادب کے منظرنامے میں ایک تبدیلی لانے کا اختیار دیا جائے تو آپ سب سے پہلے کیا تبدیل کرنا چاہیں گے؟
ندیم نظر:اگر مجھے اردو ادب کے منظرنامے میں ایک تبدیلی لانے کا اختیار دیا جائے تو میں سب سے پہلے ادبی معیار اور میرٹ کی بالادستی قائم کرنا چاہوں گا۔ ہمارے ہاں بعض اوقات تخلیق کی قدر و قیمت کا تعین اس کے معیار کے بجائے تعلقات، گروہ بندی اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہونے لگتا ہے۔ اس رویے سے حقیقی صلاحیتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور ادب کی صحت مند روایت متاثر ہوتی ہے۔میری خواہش ہوگی کہ نئے لکھنے والوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع ملیں، تنقید کو ذاتی مخالفت کے بجائے اصلاح کا ذریعہ سمجھا جائے اور ادبی ادارے سفارش کے بجائے قابلیت کو اہمیت دیں۔ اس کے ساتھ کتاب اور مطالعے کی ثقافت کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔میرے نزدیک ادب میں اصل تبدیلی تب آئے گی جب ادیب کی پہچان اس کے تعلقات سے نہیں، اس کے قلم کی سچائی، فکری گہرائی اور تخلیقی معیار سے ہوگی۔
رشنا اختر:آخر میں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے قارئین اور خصوصاً نئی نسل کے قلم کاروں کے نام آپ کا کیا پیغام ہے؟ آپ انہیں ادب، مطالعے اور تخلیق کے سفر کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
ندیم نظر:انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے قارئین اور بالخصوص نئی نسل کے قلم کاروں کیلئے میرا پیغام ہے کہ مطالعے کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں کیونکہ مطالعہ ہی فکر کو وسعت، زبان کو پختگی اور تحریر کو گہرائی عطا کرتا ہے۔ فوری شہرت اور داد کے بجائے معیاری تخلیق کو اپنا مقصد بنائیں۔ تنقید کو اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھیں، اختلافِ رائے کا احترام کریں اور اپنے قلم کو ذاتی مفادات کے بجائے سچائی، انسانیت اور معاشرتی شعور کے لیے استعمال کریں۔اس موقع پر میں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے چیئرمین زبیر احمد انصاری صاحب کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہوں گا، جو میرے لیے بھائیوں جیسے دوست ہیں۔ وہ ایک حساس دل رکھنے والے انسان ہیں اور ادب کو انسانیت کی خدمت، محبت اور امن کے فروغ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ادیبوں اور دانش وروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور قلم کے ذریعے مثبت تبدیلی کی کوشش ان کے قابلِ قدر عزائم میں شامل ہے۔ عوامی مسائل کے حل اور لوگوں کی آواز بننے کے لیے ان کی سیاسی جدوجہد بھی ان کے سماجی کردار کا ایک پہلو ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ اپنے ان مقاصد میں کامیاب ہوں اور انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز دنیا بھر کے اہلِ قلم کو قریب لانے اور ادب کے ذریعے انسانی اقدار کے فروغ میں موثر کردار ادا کرتی رہے۔آخر میں، میں نوجوان لکھنے والوں سے یہی کہوں گا کہ قلم اٹھانے سے پہلے پڑھنے، سمجھنے اور سوچنے کی عادت پیدا کریں۔ یاد رکھیں کہ ادیب کی اصل پہچان اس کی شہرت نہیں، اس کی تخلیق کا معیار اور اس کے لفظوں کی سچائی ہے۔قلم کو نفرت نہیں، محبت؛ مایوسی نہیں، امید اور تقسیم نہیں، انسانیت کا پیغام دینا چاہیے۔ یہی ادب کی روح اور ایک حقیقی قلم کار کی پہچان ہے۔

محترم قارئین!

یہ تھا میرا اپنے آج کے مہمان محترم ندیم نذر صاحب کے ساتھ ایک طویل مگر بہت ہی یادگار مکالمہ۔ ندیم صاحب نے بڑی سچائی سے بتایا کہ اچھا ادیب بننے کے لیے خوبصورت الفاظ سے زیادہ گہرا مشاہدہ، وسیع مطالعہ اور قلم کی سچائی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں لائکس کی دوڑ سے نکل کر معیار پر توجہ دینے کا ان کا پیغام ہمارے تمام نوجوان قلم کاروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

میں اپنی طرف سے اور انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے پلیٹ فارم سے اپنے انتہائی محترم مہمان جناب ندیم نذر صاحب کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے اپنے مصروف اوقات میں سے وقت نکالا اور اتنی محبت اور خلوص سے ہمارے تمام سوالوں کے جواب دیے۔

اور آپ تمام قارئین کا بھی شکریہ جو ہمارے اس ادبی سفر کا حصہ بنے۔ ان شاء اللہ ایک نئے مہمان کے ساتھ پھر ملاقات ہوگی۔

تب تک کے لیے اجازت دیجئے۔

آپ کی میزبان
رشنا اختر
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *