سباس گل

خصوصی ادبی انٹرویو

میزبان: رشنا اختر
مہمان: سباس گل

السلام علیکم و آداب!

انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ کے سلسلۂ خصوصی انٹرویوز میں آپ سب کو خوش آمدید۔

ادب صرف الفاظ کو قرطاس پر سجانے کا نام نہیں، بلکہ یہ زندگی کے مشاہدات، انسانی جذبات، رشتوں کی نزاکتوں اور معاشرتی رویوں کو لفظوں کا روپ دینے کا فن ہے۔ ایک اچھا قلم کار اپنے عہد کی کہانی بھی بیان کرتا ہے اور اپنے قارئین کے دلوں میں امید، احساس اور سوچ کے نئے دریچے بھی کھولتا ہے۔

آج ہمارے اس خصوصی ادبی انٹرویو کی مہمان ایسی ہی ایک فکشن رائٹر ہیں جنہوں نے ڈائجسٹ رائٹنگ کے ذریعے اپنے منفرد اسلوب اور اپنی تحریروں میں موجود جذباتی و معاشرتی رنگ سے قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی۔

آج ہمارے ساتھ موجود ہیں سباس گُل صاحبہ، جن سے ہم ان کے ادبی سفر، تخلیقی تجربات، کردار نگاری، ڈائجسٹ رائٹنگ، اردو فکشن اور موجودہ ادبی منظرنامے کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔

تو آئیے، سباس گُل صاحبہ سے ہونے والی اس خوب صورت ادبی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔


رشنا اختر

سباس گُل صاحبہ! سب سے پہلے اپنے قارئین اور انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے قارئین کے لیے اپنے ادبی سفر کا آغاز اور اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔ لکھنے کی طرف آپ کا رجحان کب اور کیسے پیدا ہوا؟

سباس گُل

سب سے پہلے تو آپ سب کی خدمت میں السلام علیکم اور آداب!

اور رشنا جی! بہت شکریہ کہ آپ نے انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے لیے ہم سے انٹرویو کے لیے رجوع کیا۔

لکھنے کا آغاز تو بچپن سے ہی ہو گیا تھا، الف، بے، پے سے۔ ادبی رجحان ہمیشہ سے ہی تھا۔ کہانیاں اسکول کے زمانے میں پڑھا کرتے تھے، ٹارزن اور شہزادی کی کہانیاں بھی پڑھیں، مگر ایک بھی ایسی کہانی ہم نے نہیں لکھی جس میں ٹارزن اور شہزادی ہو۔

اسکول کے دور میں بچوں کے میگزین، بچوں کا جنگ کے لیے نظمیں اور کہانیاں لکھا کرتے تھے۔ اشاعت کی خوشی مزید لکھنے پر اکساتی تھی اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا۔ پھر افسانے، ناولز لکھتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ نے سباس گُل کو ایک نام اور پہچان عطا فرمائی۔ الحمدللہ!


رشنا اختر

آپ کی تحریریں مختلف ڈائجسٹوں میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ ڈائجسٹ رائٹنگ نے آپ کی ادبی شخصیت اور اسلوب کی تشکیل میں کیا کردار ادا کیا؟

سباس گُل

ڈائجسٹ رائٹنگ نے ہمیں نئی پہچان دی اور ایک ذمہ داری سونپی کہ ہم نے جو لکھنا ہے، بے مقصد نہیں لکھنا۔ ہر تحریر میں کوئی مقصد ہو، کوئی پیغام ہو یا ہلکی سی مسکراہٹ ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی ایک نیکی ہے۔

کسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لانا آسان نہیں ہے، خصوصاً آج کے دور میں۔

ڈائجسٹ رائٹنگ کے ذریعے ایک چیز یہ بھی سیکھی کہ کسی سے حسد نہیں کرنا چاہیے۔ جو عزت، نام اور مقام اللہ تعالیٰ نے آپ کے نصیب میں لکھا ہے، وہ آپ کو مل کر ہی رہے گا۔ بس آپ نے محنت، محنت اور صرف محنت کرتے چلے جانا ہے۔ کامیابی اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔

یہ فارمولا زندگی کے ہر معاملے، ہر کام اور ہر مرحلے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔


رشنا اختر

آپ کی تحریروں میں محبت، رشتے، جذبات اور خاندانی زندگی نمایاں موضوعات دکھائی دیتے ہیں۔ ان موضوعات میں سے کون سا موضوع آپ کے دل کے سب سے قریب ہے اور کیوں؟

سباس گُل

محبت!

ہمارے خیال میں محبت کے بغیر ہر رشتے کی بنیاد کھوکھلی اور بے معنی ہے۔ اور دوسری چیز ہے بھروسہ، اعتبار۔

وہ خاندانی رشتے ہوں، دوستی ہو یا کاروباری معاملات، اگر ان میں بھروسہ اور اعتبار نہیں ہے تو آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔

ایک بھروسہ کرنے والا ہو اور دوسرا بھروسہ قائم رکھنے والا ہو، تبھی زندگی خوبصورت ہوتی ہے اور کامیابی سے پروان چڑھتی ہے۔

بھروسہ اور اعتبار وہ ستون ہے جس پر زندگی اور اس سے جڑے رشتوں اور معاملات کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہے۔ آخر میں صرف پچھتاوا اور افسوس بچتا ہے۔


رشنا اختر

ایک فکشن رائٹر کے لیے کردار تخلیق کرنا بہت اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ آپ اپنے کردار حقیقی زندگی سے اخذ کرتی ہیں، مشاہدے سے بناتی ہیں یا تخیل سے؟

سباس گُل

تینوں عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

بعض اوقات حقیقی زندگی کے کردار اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ خود مجبور کرتے ہیں کہ ہمیں انہیں لکھا جائے۔ کچھ تخیل اور کچھ مشاہدہ بھی کام آتا ہے۔


رشنا اختر

آپ کے خیال میں ایک کامیاب رومانوی کہانی اور محض ایک عام محبت کی کہانی میں بنیادی فرق کیا ہوتا ہے؟

سباس گُل

وہی فرق ہوتا ہے جو چائے اور بلیک کافی میں ہے۔


رشنا اختر

آپ کی متعدد تحریروں میں خاندانی رشتوں اور معاشرتی رویوں کو کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ کیا ادب صرف تفریح کا ذریعہ ہے یا معاشرے کی اصلاح میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے؟

سباس گُل

ادب اصلاح کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر آپ نے ہماری کہانیاں پڑھی ہیں تو آپ نے نوٹس کیا ہوگا کہ ہماری ہر کہانی میں کوئی ایک اہم پیغام ضرور ہوتا ہے۔

کسی رویے، کسی غلطی اور ناانصافی کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اس کے نتائج اور اس کی بہتری کے عوامل بھی دکھائے جاتے ہیں۔

’’ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔‘‘

بلاشبہ ناولز اور کہانیاں تفریح کا ذریعہ ہوتی ہیں، لیکن اگر تفریح کے ساتھ ساتھ پڑھنے والے کو کوئی امید، کوئی خوشی، کوئی مسکراہٹ یا اپنے کسی مسئلے کا حل مل جائے تو کیا ہی اچھی بات ہے۔

ہماری یہی کوشش ہوتی ہے کہ ہمارا قاری خالی ہاتھ نہ جائے۔ ہماری تحریر پڑھ کر اسے کچھ نہ کچھ ضرور ملے۔


رشنا اختر

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے لکھنے والوں اور قارئین کے درمیان فاصلہ کم کر دیا ہے۔ آپ سوشل میڈیا کو اردو ادب کے لیے موقع سمجھتی ہیں یا ایک چیلنج؟

سباس گُل

سوشل میڈیا موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔

موقع اس حوالے سے ہے کہ آپ رائٹر کی حیثیت سے اپنا کام بہت زیادہ لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ آپ کے پڑھنے والوں اور مداحوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اچھی، اصلاحی تنقید اور تعریف بھی آپ کو مل سکتی ہے۔

اور چیلنج اس حوالے سے ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر چیز اوپن ہے اور وہاں لاتعداد تحریریں اور بے شمار کام موجود ہیں۔ وہاں آپ کے کام کو پہچان ملنا، تسلیم کیا جانا اور ایک نئی شناخت ملنا ہی اصل چیلنج ہے۔


رشنا اختر

موجودہ دور میں بہت سے نئے لکھنے والے فوری شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے نزدیک ایک نئے افسانہ یا ناول نگار کے لیے شہرت سے زیادہ اہم چیز کیا ہونی چاہیے؟

سباس گُل

دیکھیے، شہرت تو بُرا کام کرنے والے کو بھی مل جاتی ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ عزت والی اور دیرپا شہرت چاہتے ہیں یا وقتی واہ واہ کے متمنی ہیں۔

اگر آپ عزت والی اور دیرپا شہرت چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو عام ڈگر پر نہیں چلنا، اپنا راستہ الگ بنانا ہے۔ محنت کرنی ہے اور محنت سے نہیں گھبرانا۔

اور یاد رکھیں کہ صبح ضرور ہوتی ہے اور جو چلتا رہتا ہے، وہ کہیں نہ کہیں پہنچتا ضرور ہے۔ محنت کرنے والے کو منزل مل کر ہی رہتی ہے۔

لہٰذا اچھا لکھنے کے لیے اچھا پڑھیے، اچھا سنیے تاکہ آپ کے دماغ میں الفاظ کا ذخیرہ موجود ہو اور آپ کسی بھی موضوع پر بے دھڑک ہو کر لکھ سکیں۔


رشنا اختر

آپ کی نظر میں ایک مضبوط خاتون کردار کی بنیادی خصوصیات کیا ہونی چاہئیں؟ کیا آج کے اردو فکشن میں خواتین کے کردار حقیقت کے قریب پیش کیے جا رہے ہیں؟

سباس گُل

ہر عورت مضبوط ہوتی ہے، بس زندگی کے کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جہاں وہ کمزور پڑ جاتی ہے۔ ہر عورت ہر معاملے میں، ہر جگہ، ہر وقت کمزور نہیں پڑتی۔

سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ اپنی عزتِ نفس کو اولین ترجیح دیں، اپنے ذہنی سکون کو پہلی ترجیح دیں۔ اگر آپ کی عزت آپ کی اپنی نظر میں نہیں ہے تو پھر آپ کے گھر تو کیا، باہر کہیں بھی نہیں ہو سکتی۔

کہانیوں میں عورت کے کردار کو بہت مضبوط بھی دکھایا جاتا ہے، عورت کی غلطی اور کمزوریوں کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے اور اسے سمجھانے، سکھانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ اسے کیسے اپنے جذبات پر قابو کرنا ہے، کیسے گھریلو معاملات اور سازشوں کو سمجھنا ہے اور انہیں کس طرح ڈیل کرنا ہے۔

لیکن سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ عورت کو اپنی عزت خود عزیز ہو، اپنی عزتِ نفس عزیز ہو۔ یہی چیز اسے مضبوط کرتی ہے اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ناانصافی پر آواز اٹھانے کی جرأت دیتی ہے۔

اور عورت کو انسان سمجھا جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔


رشنا اختر

تحریر مکمل کرنے کے بعد آپ اپنی کہانی کی زبان، مکالموں اور کرداروں کو کس حد تک دوبارہ دیکھتی اور تبدیل کرتی ہیں؟ آپ کی اپنی ایڈیٹنگ کا طریقۂ کار کیا ہے؟

سباس گُل

پہلے، جب نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا، تب ایک نظر دیکھ لیتے تھے۔ لیکن اب ایک عرصہ ہوا، ایڈیٹنگ کا کام تو ایڈیٹر کا ہوتا ہے، ہم اس ذمہ داری سے بری الذمہ ہیں۔

الحمدللہ، ایڈیٹرز بھی عرصے سے کہتے ہیں کہ آپ کی تحریر تو ماشاءاللہ اب اتنی زبردست اور پرفیکٹ ہوتی ہے کہ ہمیں اس میں ایڈٹ کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں پڑتی۔


رشنا اختر

بطور لکھاری کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی کردار یا کہانی نے آپ کو اتنا متاثر کیا ہو کہ وہ تحریر مکمل ہونے کے بعد بھی آپ کے ذہن میں زندہ رہی ہو؟

سباس گُل

جی ہاں۔

’’محبت، خواب اور آنسو‘‘

یہ ناول ایک طویل عرصے تک اپنے کرداروں کے ساتھ ہمارے ذہن میں زندہ رہا ہے۔

اور دوسرا ناول ’’ماما‘‘ ہے۔ یہ ہمیں آج تک یاد ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ اس پر ڈرامہ بنایا جائے۔

یہ دونوں ناول ہمارے دل کے بہت قریب ہیں۔


رشنا اختر

اردو ادب میں نئے لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ آپ موجودہ نسل کے اردو فکشن میں کون سی مثبت تبدیلی محسوس کرتی ہیں اور کن پہلوؤں میں مزید محنت کی ضرورت سمجھتی ہیں؟

سباس گُل

نئے لکھنے والوں کو زیادہ پڑھنے کا موقع تو نہیں ملا ہمیں، البتہ جو ہم نے پڑھے ہیں، ان میں کچھ سائنس فکشن، کچھ ایکشن اور کچھ جادو، کالا جادو اس طرح کی تحریریں بھی لکھی جا رہی ہیں، جو کہ اچھا ہے۔ یہ ایک نیا طرزِ تحریر ہے۔

لیکن بنیاد نہیں چھوڑنی چاہیے۔ ایک معاشرتی کہانی پر لکھاری کی گرفت مضبوط ہونی چاہیے۔

بعض کہانیوں میں صرف ڈائیلاگ ہیں، منظر نگاری نہیں ہے۔ کس جگہ جملے کو کس ڈھنگ سے بیان کرنا ہے، لکھنے والے کو اس پر بھی عبور حاصل نہیں ہے۔

سچ کہیں تو اردو زبان پر ہی گرفت نہیں ہے لکھنے والے کی، تو اردو ادب بہترین کیسے تخلیق کیا جا سکتا ہے؟

اسی لیے ہم نے کہا کہ اچھا لکھنے کے لیے اچھا پڑھنا ضروری ہے۔ آپ پڑھیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ مکالمہ کیسے لکھنا ہے، اس کا تاثر، اس کے جذبات اور احساسات آپ نے کس طرح قلم بند کرنے ہیں۔ یہ چیزیں بہت ضروری ہیں۔

کچھ جگہوں پر بے ہودہ قسم کے مکالمے اور ایکسپریشنز بھی سننے میں آئے ہیں کہ فکشن میں دیے جا رہے ہیں، جو کہ غلط ہے۔

اچھی کتاب آپ کی روح اور ذہن کو جس طرح تازگی اور خوشی بخشتی ہے، اسی طرح بری تحریر آپ کی روح کو تباہ کرتی ہے۔

بس اتنا ہی کہنا چاہیں گے۔ بہت شکریہ۔


سباس گُل صاحبہ! آپ نے اپنے ادبی سفر، ڈائجسٹ رائٹنگ، فکشن، کردار نگاری، عورت کے کردار، سوشل میڈیا اور اردو ادب کے موجودہ منظرنامے کے حوالے سے نہایت خوب صورت اور بے باک انداز میں اپنے خیالات ہمارے قارئین کے ساتھ شیئر کیے۔ آپ کی گفتگو میں ایک تخلیق کار کی حساسیت کے ساتھ ساتھ مطالعے، محنت، عزتِ نفس اور معیاری ادب کی اہمیت بھی نمایاں رہی۔

ہم انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی جانب سے آپ کے قیمتی وقت اور خوب صورت گفتگو کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ امید ہے کہ آپ کا ادبی سفر اسی جذبے، تخلیقی توانائی اور محبت کے ساتھ جاری رہے گا اور آپ کی مزید تحریریں قارئین کے لیے فکر، احساس اور خوشی کے نئے دریچے کھولتی رہیں گی۔

اسی دعا اور نیک تمناؤں کے ساتھ آج کے اس خصوصی ادبی انٹرویو سے اجازت چاہوں گی۔

آپ سب کا بے حد شکریہ کہ آپ نے ہمیں پڑھا اور اپنا قیمتی وقت دیا۔

آپ کی میزبان
رشنا اختر
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *