ذوہیب رمضان بھٹی

خصوصی انٹرویو

زوہیب رمضان بھٹی سے ایک خصوصی گفتگو

ادب اور معاشرہ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ الفاظ محض اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ یہ انسان کے خیالات، تجربات اور احساسات کو دوسروں تک پہنچانے کا وسیلہ بھی بنتے ہیں۔ کچھ شخصیات اپنے خیالات اور اپنی جدوجہد کے ذریعے معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرتی ہیں اور اپنے سفر سے دوسروں کے لیے مثال بن جاتی ہیں۔

انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی اس خصوصی تحریری نشست میں ہمیں یہ موقع ملا کہ ہم زوہیب رمضان بھٹی سے ان کی شخصیت، فکری سفر، کامیابیوں، مشکلات، تجربات اور مستقبل کے عزائم کے حوالے سے گفتگو کریں۔

ان سے ہونے والی یہ گفتگو محض سوال و جواب کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسے سفر کو سمجھنے کی کوشش ہے جس میں خواب، محنت، تجربہ اور مسلسل آگے بڑھنے کا جذبہ شامل ہے۔

تو آئیے، زوہیب رمضان بھٹی سے ہونے والی اس خصوصی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔


رشنا اختر:
سب سے پہلے اپنے قارئین کو اپنے بارے میں بتائیے۔ زوہیب بھٹی کو آپ خود کس طرح بیان کریں گے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میں زوہیب بھٹی کو کسی ایک خانے میں رکھ کر بیان نہیں کر سکتا۔ شاید اس لیے کہ زندگی نے مجھے ایک ہی کام پر مطمئن رہنے نہیں دیا۔ لکھنے کا شوق بچپن سے تھا، پھر صحافت، نیوز ایڈیٹنگ، ٹیلی ویژن پروڈکشن، ڈائریکشن، میزبانی، اسکرپٹ رائٹنگ اور میڈیا پروڈکشن کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔

میں بنیادی طور پر ایک تخلیق کار ہوں۔ مجھے نئی چیز سوچنے، اسے الفاظ دینے اور پھر اسے عملی شکل میں دیکھنے میں خوشی ملتی ہے۔ کبھی خیال کاغذ پر اترتا ہے، کبھی کیمرے کے سامنے اور کبھی کسی اسکرپٹ یا پروڈکشن کے ذریعے۔

اگر خود کو ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یہی کہوں گا:

“میں سیکھنے کا شوق رکھنے والا ایک ایسا آدمی ہوں جو ابھی تک خود کو مکمل طور پر سمجھنے کے عمل میں ہے۔”

اور شاید یہی سفر کی خوبصورتی بھی ہے۔


رشنا اختر:
آپ کے اندر لکھنے کا شوق کب اور کیسے پیدا ہوا؟

زوہیب رمضان بھٹی:
بچپن میں بچوں کے رسائل پڑھنا، پڑھائی اور کھیل کود کے بعد میرا سب سے پہلا مشغلہ تھا۔ کہانیاں پڑھتے پڑھتے ایک دن خیال آیا کہ دوسروں کی کہانیاں پڑھنے کے بجائے اپنی کہانی بھی لکھی جا سکتی ہے۔

چھٹی جماعت میں تھا جب پہلی کہانی لکھی اور وہ نوائے وقت کے بچوں کے صفحے “پھول کلیاں” میں چھپی۔ اس دن شاید پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ میرے لکھے ہوئے الفاظ بھی کہیں شائع ہو سکتے ہیں۔

تب سے پھر لکھنے کا شوق آہستہ آہستہ شوق سے جنون میں بدل گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اس پہلی اشاعت نے میرے اندر کے لکھاری کو باقاعدہ شناخت دے دی تھی۔


رشنا اختر:
کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ نے اپنی پہلی تحریر کب لکھی تھی؟

زوہیب رمضان بھٹی:
جی بالکل، پہلی کہانی چھٹی جماعت میں لکھی تھی۔ وہ میری ابتدائی تحریروں میں سے تھی اور خوش قسمتی سے نوائے وقت کے بچوں کے صفحے “پھول کلیاں” میں شائع بھی ہوئی۔

ایک بچے کے لیے اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی تھی کہ جس رسالے کو وہ خود پڑھتا ہو، اسی میں ایک دن اپنا نام بھی دیکھ لے۔ میرے لیے وہ صرف ایک کہانی کی اشاعت نہیں تھی بلکہ لکھنے کے سفر کی پہلی باقاعدہ دستک تھی۔

اس کے بعد لکھنا محض شوق نہیں رہا، بلکہ زندگی کا مستقل حصہ بنتا چلا گیا۔


رشنا اختر:
آپ کی شخصیت کی تشکیل میں آپ کے والدین، اساتذہ اور ماحول نے کیا کردار ادا کیا؟

زوہیب رمضان بھٹی:
والدین ہمیشہ پہلی درسگاہ ہوتے ہیں۔ میرے والدین نے ہمیشہ نہ صرف میرا ساتھ دیا بلکہ میری حوصلہ افزائی اور سپورٹ بھی کی۔ انسان کے اندر اعتماد، محنت اور دوسروں کا احترام کرنے کی بنیاد گھر ہی سے پڑتی ہے۔

میرے اساتذہ بھی اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک بہت اچھے ملے۔ ان میں سے کئی اساتذہ سے آج بھی ملاقات رہتی ہے۔ میرے خیال میں یہ اس بات کی بڑی نشانی ہے کہ گھر اور تعلیمی ادارے سے صرف تعلیم نہیں بلکہ اچھی تربیت بھی ملی۔

اور جہاں تک ماحول کا تعلق ہے، میں ایک ایسے ماحول سے آیا جہاں وسائل محدود تھے، لیکن خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ شاید اسی لیے وسائل کم ہونے کے باوجود جستجو زیادہ رہی۔


رشنا اختر:
کیا کبھی ایسا وقت بھی آیا جب آپ نے سوچا کہ شاید لکھنا چھوڑ دینا چاہیے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
لکھنا چھوڑنے کا خیال شاید آیا ہو، لیکن لکھنا چھوڑ نہیں سکا۔ میں پہلے رسائل کے لیے لکھتا تھا تو تقریباً اس وقت کے تمام بڑے رسائل میں میری تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔

پروفیشنل فیلڈ میڈیا ہے اور ہدایتکاری کے میدان میں ہوں، اس لیے اب بھی اشتہارات کے اسکرپٹس اور آئیڈیاز میں میری شمولیت رہتی ہے۔ گانے بھی لکھتا ہوں۔ یوں وقت کے ساتھ لکھنے کے اسلوب اور میدان بدلتے رہے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ لکھنے میں یکسانیت نہیں آئی۔ کبھی کہانی لکھ رہا ہوں، کبھی کمرشل کا اسکرپٹ اور کبھی کسی گیت کے بول۔ لکھاری کو شاید کبھی کبھی اپنی ہی تحریر سے چھٹی چاہیے ہوتی ہے، لیکن دماغ اسے چھٹی نہیں دیتا۔


رشنا اختر:
آپ کے نزدیک اچھا لکھاری بننے کے لیے سب سے ضروری چیز کیا ہے؟ مشاہدہ، مطالعہ، تجربہ یا حساس دل؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میرے خیال میں یہ سب چیزیں ضروری ہیں، لیکن ان سب کی بنیاد مشاہدہ ہے۔ ایک لکھاری کے لیے آنکھیں کھلی اور ذہن بیدار ہونا چاہیے۔

مطالعہ ہمیں زبان اور فکر دیتا ہے، تجربہ زندگی کی گہرائی سمجھاتا ہے، حساس دل ہمیں دوسروں کے دکھ، خوشی اور جذبات محسوس کرنے کے قابل بناتا ہے، جبکہ مشاہدہ ان سب چیزوں کو مواد فراہم کرتا ہے۔

ایک اچھا لکھاری صرف یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے کیا ہو رہا ہے، وہ یہ بھی دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کیوں ہو رہا ہے اور اس کے پیچھے انسان کیا محسوس کر رہا ہے۔


رشنا اختر:
آج سوشل میڈیا کے دور میں ہر شخص لکھ رہا ہے۔ آپ کے نزدیک لکھنے والے اور ادیب میں بنیادی فرق کیا ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
لکھنا اور ادیب ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اظہار کا موقع دیا ہے، جو اچھی بات ہے۔ لیکن ہر تحریر لکھنے والے کو ادیب نہیں بناتی۔

ادیب کے لیے صرف الفاظ لکھ دینا کافی نہیں۔ اس کے پاس ایک فکری رویہ، مطالعہ، مشاہدہ، زبان پر گرفت، انسانی احساسات کی سمجھ اور معاشرے کو دیکھنے کا اپنا زاویہ بھی ہونا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر تو کبھی کبھی ایک شخص تین سطروں میں اتنی بڑی بات لکھ دیتا ہے کہ پوری کتاب بھی شرما جائے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ وہ بات وقت گزرنے کے بعد بھی اپنی معنویت برقرار رکھتی ہے یا نہیں۔


رشنا اختر:
موجودہ دور میں اردو ادب کو سب سے بڑا چیلنج کیا درپیش ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میرے خیال میں سب سے بڑا چیلنج مطالعے کی کم ہوتی عادت، فوری اور مختصر مواد کی بڑھتی ہوئی طلب اور معیاری ادبی مواد تک آسان رسائی کا فقدان ہے۔

لیکن میں اردو ادب کے مستقبل سے مایوس نہیں ہوں۔ زبانیں صرف کتابوں سے زندہ نہیں رہتیں، وہ نئے ذرائع کے ساتھ خود کو ڈھال کر بھی زندہ رہتی ہیں۔

ہمیں اردو ادب کو سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، آڈیو بکس، پوڈکاسٹس، مختصر ویڈیوز اور نئی نسل کی زبان کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ نوجوان پڑھنا نہیں چاہتے؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ان تک صحیح انداز میں پہنچنا ہوگا۔


رشنا اختر:
کیا آج کے نوجوان کتاب سے دور ہو رہے ہیں یا صرف کتاب پڑھنے کا انداز تبدیل ہوا ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میرے خیال میں دونوں باتوں میں کچھ حقیقت ہے۔ کتاب سے دوری ضرور بڑھی ہے، لیکن کتاب پڑھنے کا انداز بھی بہت تبدیل ہوا ہے۔

آج نوجوان موبائل پر پڑھتے ہیں، آرٹیکل پڑھتے ہیں، پی ڈی ایف پڑھتے ہیں، آڈیو بکس سنتے ہیں اور ویڈیوز کے ذریعے معلومات حاصل کرتے ہیں۔

ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ “نوجوان کتاب نہیں پڑھتے”، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ نوجوان کس چیز کو پڑھ رہے ہیں اور کیوں پڑھ رہے ہیں۔

کتاب کی شکل بدل سکتی ہے، لیکن اچھی کہانی اور اچھا خیال کبھی پرانا نہیں ہوتا۔


رشنا اختر:
اگر آپ کو آج کے نوجوانوں کو صرف تین کتابیں پڑھنے کا مشورہ دینا ہو تو وہ کون سی ہوں گی اور کیوں؟

زوہیب رمضان بھٹی:
اگر صرف تین کتابوں کا انتخاب کرنا ہو تو میں ایسی کتابیں منتخب کروں گا جو صرف کہانی نہ دیں بلکہ سوچنے کا موقع بھی دیں۔

“آگ کا دریا” — قرۃ العین حیدر: تاریخ، تہذیب، شناخت اور وقت کو سمجھنے کے لیے۔

“اداس نسلیں” — عبداللہ حسین: انسانی زندگی، سماج، تاریخ اور بدلتے ہوئے پاکستان کو سمجھنے کے لیے۔

“راجہ گدھ” — بانو قدسیہ: انسانی نفسیات، خواہش، اخلاقیات اور معاشرتی رویوں پر غور کے لیے۔

میرا نوجوانوں کو مشورہ صرف یہ ہوگا کہ کتاب پڑھتے ہوئے صرف یہ نہ دیکھیں کہ مصنف کیا کہہ رہا ہے، بلکہ یہ بھی سوچیں کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔


رشنا اختر:
ادب سے میڈیا اور پروڈکشن کی دنیا تک آنے کا فیصلہ کیسے ہوا؟

زوہیب رمضان بھٹی:
جیسے لکھنے کا شوق شروع سے تھا لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ آگے چل کر لکھنے کی کس صنف میں اور کس طرح کا لکھوں گا۔ شوق تھا، تو اپنے آپ کو جاننے کے لیے مختلف انداز میں لکھتا رہا۔

یوں میڈیا کا شوق بھی بہت پہلے سے تھا، لیکن کیا کرنا ہے، جس طرح کرنا ہے، میڈیا کی کون سی فیلڈ ہوگی، یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا۔

ایک چھوٹے سے گاؤں میں وسائل بھی محدود ہوتے ہیں اور پھر لکھنے اور میڈیا دونوں میں دور دور تک کوئی نہیں تھا، نہ خاندان میں اور نہ اردگرد۔

پہلے صحافت بھی کی اور کافی عرصہ نیوز ایڈیٹنگ بھی کی۔ یونیورسٹی کے بعد کے دنوں کی بات ہے، ایک دوست کے کہنے پر پی ٹی وی کراچی سینٹر گیا۔ وہاں پروڈکشن اور ڈائریکشن کے حوالے سے جنرل منیجر سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ایک پروگرام کرنے کو کہا۔

کچھ دن بعد پتا چلا کہ وہ پروگرام کی میزبانی کا کہہ رہے ہیں۔ اس وقت پروڈکشن کی طرف کچھ کرنے کا شوق تھا، میزبانی کی طرف نہیں گیا۔ وہ الگ بات ہے کہ بعد میں لاہور میں ایک ٹی وی چینل میں بطور پروڈیوسر کام کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو کے کہنے پر بچوں کے ادب پر مبنی ایک پروگرام کی میزبانی بھی کی۔

یوں راستے خود بنتے گئے۔ میں نے شاید کبھی ایک جگہ بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا کہ “اب میں یہی بنوں گا”۔ بلکہ ہر تجربے نے اگلے راستے کی طرف دھکیلا۔


رشنا اختر:
لکھنے اور ڈائریکشن دینے میں سے آپ کو زیادہ مشکل کام کون سا لگتا ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میرے لیے ڈائریکشن زیادہ مشکل بھی ہے اور زیادہ دلچسپ بھی، کیونکہ لکھتے ہوئے آپ کے پاس الفاظ ہوتے ہیں، لیکن ڈائریکشن میں انہی الفاظ کو تصویر، آواز، اداکاری، لوکیشن، کیمرہ اور ماحول میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

لکھاری کے پاس غلطی درست کرنے کا موقع ہوتا ہے، ڈائریکٹر کے پاس کبھی کبھی بجٹ اور وقت دونوں کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: “بھائی اب جو کرنا ہے جلدی کرو!”

دونوں شعبے تخلیقی ہیں، لیکن ڈائریکشن میں تخلیقی فیصلوں کے ساتھ بہت زیادہ عملی ذمہ داری بھی آ جاتی ہے۔


رشنا اختر:
کیا کبھی ایسا ہوا کہ پروڈیوسر یا ڈائریکٹر زوہیب بھٹی نے رائٹر زوہیب بھٹی کی تحریر کو خود مسترد کیا ہو؟

زوہیب رمضان بھٹی:
بہت بار۔

کمرشل اور اشتہارات کی فیلڈ میں تو بہت بار ایسا ہوتا ہے۔ اپنا لکھا ہوا اسکرپٹ فائنل کرنے کے بعد اگلے دن خود کو ہی اچھا نہیں لگتا۔ پھر اس پر دوبارہ محنت کرتا ہوں۔

یہ شاید لکھاری کی بدقسمتی نہیں بلکہ خوش قسمتی ہے کہ وہ اپنی ہی تحریر سے مطمئن نہیں ہوتا۔ کیونکہ جس دن انسان اپنی ہر تحریر کو شاہکار سمجھنے لگے، شاید اسی دن بہتری کا سفر رک جاتا ہے۔


رشنا اختر:
پاکستان کی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری میں آپ کو سب سے بڑی کمی کیا محسوس ہوتی ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
سب سے بڑی کمی مجھے اچھی اور مضبوط اسکرین رائٹنگ کے لیے مطلوبہ وقت اور سنجیدگی کی محسوس ہوتی ہے۔

ہماری انڈسٹری میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ ہمارے اداکار بہترین ہیں، ہدایت کار باصلاحیت ہیں، ٹیکنیکل لوگ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کئی مرتبہ کہانی اور اسکرپٹ کو وہ وقت نہیں ملتا جس کا وہ حق دار ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک اچھی فلم یا ڈرامہ سیٹ پر نہیں، کاغذ پر پہلے بنتا ہے۔


رشنا اختر:
ہمارے ہاں بہترین کہانیاں موجود ہیں لیکن معیاری اسکرین رائٹنگ کم کیوں دکھائی دیتی ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
کہانی ہمارے معاشرے میں ہر طرف موجود ہے۔ ہمارے گھروں میں، گلیوں میں، بازاروں میں، سیاست میں، رشتوں میں، بلکہ کبھی کبھی تو صرف ایک شادی میں اتنا مواد مل جاتا ہے کہ تین ڈرامے بن جائیں۔

مسئلہ کہانی کی کمی نہیں، اسے اسکرین کے لیے درست ساخت، کردار، مکالموں، رفتار اور ڈرامائی تشکیل دینے کا ہے۔

اچھی کہانی کو اچھے اسکرین پلے میں تبدیل کرنا ایک الگ فن ہے۔ اس کے لیے رائٹر کو صرف لکھنا نہیں بلکہ دیکھنا، سننا، سمجھنا اور سین کے بارے میں سوچنا بھی آنا چاہیے۔


رشنا اختر:
آپ کے نزدیک پاکستانی ڈرامے میں کہانی اہم ہے یا ریٹنگ؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میرے نزدیک کہانی پہلے اور ریٹنگ بعد میں ہونی چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ٹیلی ویژن ایک انڈسٹری ہے اور انڈسٹری میں ریٹنگ، بزنس اور ناظرین کی پسند کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ ایسی کہانی بنائی جائے جو ناظرین کو بھی پسند آئے اور تخلیق کار کو بھی اپنے کام پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

ریٹنگ ضروری ہے، لیکن ریٹنگ کے پیچھے بھاگتے ہوئے اگر کہانی ہی گم ہو جائے تو پھر ہم ناظرین کو دیکھ تو رہے ہوتے ہیں، مگر انہیں کچھ دے نہیں رہے ہوتے۔


رشنا اختر:
کیا کمرشل تقاضے ایک تخلیق کار کی آزادی کو متاثر کرتے ہیں؟

زوہیب رمضان بھٹی:
یقیناً کرتے ہیں، اور یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، دنیا بھر میں کمرشل میڈیا میں یہ توازن موجود رہتا ہے۔

ایک طرف تخلیق کار کی سوچ ہوتی ہے اور دوسری طرف کلائنٹ، بجٹ، مارکیٹ، ناظرین اور بزنس کی ضروریات۔ اصل فن یہ ہے کہ ان تقاضوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اپنی تخلیقی روح کو زندہ رکھا جائے۔

میں سمجھتا ہوں کہ پابندی ہمیشہ تخلیق کی دشمن نہیں ہوتی۔ بعض اوقات محدود وسائل بھی انسان کو زیادہ تخلیقی بنا دیتے ہیں۔


رشنا اختر:
اگر آپ کو مکمل آزادی اور مناسب بجٹ دیا جائے تو آپ کس موضوع پر فلم یا ڈرامہ بنانا چاہیں گے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میں ایسا موضوع کرنا چاہوں گا جس میں عام پاکستانی انسان کی غیر معمولی زندگی سامنے آئے۔ ہمارے اردگرد ایسے کردار موجود ہیں جن کی زندگی کسی بھی فلمی کہانی سے کم نہیں۔

مجھے انسانی رشتوں، سماجی تبدیلی، طبقاتی فرق، خوابوں اور ان خوابوں کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں جیسے موضوعات دلچسپ لگتے ہیں۔

میں ایسی کہانی بنانا چاہوں گا جو صرف تفریح نہ دے بلکہ فلم ختم ہونے کے بعد ناظر کچھ دیر خاموش بیٹھ کر سوچے کہ “یہ تو میرے آس پاس بھی ہو رہا ہے۔”


رشنا اختر:
آپ نے مختلف سماجی مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔ آپ کے نزدیک قلم معاشرے میں حقیقی تبدیلی کیسے لا سکتا ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
قلم اکیلا دنیا نہیں بدلتا، لیکن سوچ بدلنے کی طاقت ضرور رکھتا ہے۔ اور سوچ بدل جائے تو معاشرہ بدلنے کا سفر شروع ہوتا ہے۔

ایک تحریر کسی ایک شخص کو متاثر کر سکتی ہے، وہ شخص اپنے گھر، ادارے یا معاشرے میں ایک مختلف رویہ اختیار کر سکتا ہے، اور یوں ایک چھوٹی سی بات آگے بڑھ سکتی ہے۔

میرا یقین ہے کہ قلم کا اصل کام شور مچانا نہیں، ضمیر کو جگانا ہے۔


رشنا اختر:
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ فن اور ادب کو سماجی مسائل پر خاموش رہنا چاہیے یا فن کار کی کوئی سماجی ذمہ داری بھی ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میرے خیال میں فن کار بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے، اس لیے اس کی سماجی ذمہ داری ضرور ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فن کار کو ہر مسئلے پر تقریر کرنی چاہیے۔ کبھی ایک کردار، ایک منظر، ایک نظم یا ایک جملہ وہ کام کر دیتا ہے جو کئی تقریریں نہیں کر پاتیں۔

فن کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ حکم نہیں دیتا، احساس پیدا کرتا ہے۔


رشنا اختر:
آج معاشرے میں عدم برداشت، نفرت اور تقسیم بڑھ رہی ہے۔ کیا ادب لوگوں کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
بالکل، اور شاید آج ادب کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔

ادب ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ہمارے جذبات، دکھ، خوف، محبت اور امیدیں بہت حد تک مشترک ہیں۔

جب ہم کسی کردار کا دکھ محسوس کرتے ہیں تو ہم اس کے عقیدے، طبقے یا شناخت سے پہلے اسے انسان سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی ادب کی طاقت ہے۔


رشنا اختر:
آپ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز سے کیسے وابستہ ہوئے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز میں بہت سارے ادیب اور قلم کار ایسے تھے جن سے پہلے ملاقات نہیں ہوئی تھی، لیکن پہلی ملاقات نے ہی ایسی اپنائیت دی جو آج کل ادیبوں میں شاید ناپید ہوتی جا رہی ہے۔

انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز میں بہت سلجھے، منجھے اور اپنے لوگ ہیں۔ پہلے چند دن لگا تھا کہ شاید وقت نہیں دے پاؤں گا یا شاید ساتھ نہ چل سکوں، لیکن پھر احساس ہوا کہ یہاں تو سب ہی ایک سے بڑھ کر ایک ہیرے ہیں۔

یہاں زبیر احمد انصاری بھائی، ثمینہ طاہر بٹ آپا، حنا یاسمین صاحبہ، طاہر درانی بھائی اور آپ جیسے ہیرے لوگ ہیں، جن سے وابستگی میرے لیے خوشی کی بات ہے۔


رشنا اختر:
بطور صدر پنجاب آپ کی تنظیم کی بنیادی ترجیحات کیا ہیں؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میری بنیادی ترجیحات میں سب سے اہم لکھاریوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، نوجوان قلم کاروں کو مواقع دینا، ادبی سرگرمیوں کو فعال کرنا اور پاکستانی ادب کو وسیع سطح پر متعارف کروانا ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ تنظیم صرف ایک عہدے یا نام تک محدود نہ ہو بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنے جہاں لکھنے والے ایک دوسرے سے سیکھ سکیں، اپنے کام کو سامنے لا سکیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔

میرے لیے عہدہ اصل مقصد نہیں، ذمہ داری ہے۔


رشنا اختر:
آپ نے ایک موقع پر کہا کہ تنظیم ایک خاندان کی طرح ہے۔ اس “خاندان” کو متحد رکھنے کے لیے سب سے مشکل کام کیا ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
خاندان کو متحد رکھنا ویسے ہی مشکل کام ہے، اور اگر خاندان میں سب لکھاری ہوں تو پھر ہر شخص کے پاس اپنی اپنی دلیل بھی ہوتی ہے!

لیکن اصل چیلنج اختلافِ رائے نہیں بلکہ اختلاف کو ذاتی اختلاف بننے سے روکنا ہے۔

میرا یقین ہے کہ مختلف رائے ہونا تنظیم کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے، بشرطیکہ احترام باقی رہے۔ ہمیں عہدوں سے زیادہ تعلقات اور ذاتی پسند ناپسند سے زیادہ ادب اور ادارے کے مفاد کو اہمیت دینی چاہیے۔


رشنا اختر:
پاکستان میں لکھاریوں کو کن بنیادی مشکلات کا سامنا ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
سب سے بڑا مسئلہ معاشی عدم تحفظ ہے۔ بہت سے لکھاری انتہائی اچھا کام کر رہے ہیں لیکن ان کے لیے مستقل آمدن یا مناسب معاوضے کا نظام موجود نہیں۔

اس کے ساتھ اشاعت کے مواقع، کاپی رائٹ، رائلٹی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ادیب کے حقوق اور عالمی سطح پر نمائندگی بھی اہم مسائل ہیں۔

ہمیں لکھاری کو صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ “آپ تو ادب کی خدمت کر رہے ہیں”، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ادب کی خدمت کرنے والے کی زندگی کیسے چلے گی۔


رشنا اختر:
کیا ہمارے ہاں ادیب کو وہ عزت اور معاشی تحفظ ملتا ہے جس کا وہ حق دار ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
عزت بعض جگہ ضرور ملتی ہے، لیکن معاشی تحفظ ابھی بہت دور کی بات ہے۔

ہم اکثر ادیب کو مشاعرے میں عزت سے بٹھاتے ہیں، تصویر بناتے ہیں اور تعریف کرتے ہیں، لیکن جب معاوضے کی بات آتی ہے تو اچانک بجٹ بہت شرمیلا ہو جاتا ہے۔

ادیب کی عزت صرف تالیاں بجانے سے نہیں، اس کے کام کی مناسب قدر کرنے سے ہوتی ہے۔


رشنا اختر:
نوجوان لکھاریوں کے لیے تنظیم کیا مواقع پیدا کر رہی ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
ہماری کوشش ہے کہ نوجوان لکھاریوں کو صرف سننے والے سامعین کے طور پر نہیں بلکہ فعال تخلیق کار کے طور پر آگے لایا جائے۔

ادبی نشستیں، مکالمہ، تربیتی مواقع، سینئر لکھاریوں سے رابطہ اور نوجوانوں کے کام کو سامنے لانے کے لیے پلیٹ فارم اس سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔

میرا خیال ہے کہ نوجوانوں کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “لکھتے رہو”، انہیں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اپنی تحریر کو دنیا تک پہنچانا کیسے ہے۔


رشنا اختر:
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ادیبوں کو عالمی سطح پر مناسب نمائندگی مل رہی ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
ابھی اس سمت میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ایسے بہت سے ادیب اور قلم کار موجود ہیں جو عالمی سطح پر پڑھے اور سنے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر پہنچنے کے لیے ترجمہ، ادارہ جاتی رابطہ، ادبی سفارت کاری اور مستقل پلیٹ فارمز کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہمیں اپنے ادب کو صرف اردو پڑھنے والوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ترجمہ وہ پل ہے جو ہماری زبان کو دنیا سے جوڑ سکتا ہے۔


رشنا اختر:
سعودی عرب میں ادبی و ثقافتی شخصیات سے آپ کی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ پاکستانی ادب کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کے لیے آپ کیا امکانات دیکھتے ہیں؟

زوہیب رمضان بھٹی:
سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں پاکستانی کمیونٹی بہت بڑی ہے اور ثقافتی و ادبی سرگرمیوں کے لیے بھی ایک اچھا ماحول موجود ہے۔

میری نظر میں پاکستانی ادب کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کے لیے ادبی وفود، مشاعرے، کتابوں کے تراجم، ادیبوں کے باہمی دورے، یونیورسٹی سطح کے پروگرامز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ہمیں دنیا کو صرف یہ نہیں بتانا کہ پاکستان میں ادب موجود ہے، بلکہ دنیا کو پاکستانی ادب پڑھنے کا موقع بھی دینا ہوگا۔


رشنا اختر:
کیا کبھی آپ کو کسی قریبی شخص نے آپ کے ادبی سفر میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی؟

زوہیب رمضان بھٹی:
زندگی میں اختلافات اور تلخ تجربات ہر انسان کے حصے میں آتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسے تجربات ہوئے ہیں جہاں قریبی لوگوں سے مایوسی ہوئی۔

لیکن میں نے کوشش کی کہ ان تجربات کو شکایت بنانے کے بجائے سبق بناؤں۔ انسان اگر ہر تلخ تجربے کو دل پر رکھ لے تو سفر مشکل ہو جاتا ہے۔

میرا اصول ہے کہ لوگوں کو ان کے رویوں سے پہچانیں، مگر اپنے دل کو ان کے رویوں کا قیدی نہ بنائیں۔


رشنا اختر:
شہرت کے ساتھ آنے والی تنقید کو آپ کس طرح لیتے ہیں؟

زوہیب رمضان بھٹی:
تنقید کو سننا چاہیے، لیکن ہر تنقید کو سچ مان لینا بھی دانشمندی نہیں۔

اگر کوئی تنقید دلیل کے ساتھ ہو تو میں اسے ضرور دیکھتا ہوں، کیونکہ کبھی کبھی باہر والا وہ چیز دیکھ لیتا ہے جو تخلیق کار خود نہیں دیکھ پاتا۔

اور اگر تنقید صرف تنقید برائے تنقید ہو تو پھر اسے مسکرا کر گزر جانے میں ہی عافیت ہے۔ آخر ہر تیر کا جواب تیر سے دینا ضروری نہیں، کبھی کبھی ڈھال بھی کافی ہوتی ہے۔


رشنا اختر:
کیا آپ نے کبھی کسی ایسے شخص کو کامیاب ہوتے دیکھا جس کے بارے میں آپ سمجھتے تھے کہ وہ اس کامیابی کا مستحق نہیں؟

زوہیب رمضان بھٹی:
ایسا ضرور ہوتا ہے۔ زندگی ہمیشہ ہماری پسند کے مطابق میرٹ کی فہرست نہیں بناتی۔

کبھی ایسا شخص بھی آگے نکل جاتا ہے جس کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی دوسرا زیادہ مستحق تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ میں نے یہ سیکھا ہے کہ دوسروں کی کامیابی کا فیصلہ کرنے کے بجائے اپنی توانائی اپنے کام پر لگانا بہتر ہے۔

کامیابی کا راستہ دوسروں سے مقابلہ کرنے سے زیادہ اپنے آپ سے مقابلہ کرنے کا نام ہے۔


رشنا اختر:
ادبی دنیا میں دوستی زیادہ ہے یا گروپ بندی؟

زوہیب رمضان بھٹی:
دونوں ہیں۔ جہاں انسان ہوں گے وہاں تعلقات بھی ہوں گے اور گروپس بھی۔

لیکن میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے ایسے لوگ بھی ملے جن سے تعلق صرف ادب یا کسی عہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ خلوص کی وجہ سے قائم ہوا۔

گروپ بندی اگر کام اور مثبت سرگرمی کے لیے ہو تو اچھی ہے، لیکن اگر کسی کو نیچا دکھانے یا میرٹ روکنے کے لیے ہو تو پھر ادب کی روح متاثر ہوتی ہے۔


رشنا اختر:
کیا ادب میں بھی سفارش اور تعلقات میرٹ پر اثرانداز ہوتے ہیں؟

زوہیب رمضان بھٹی:
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ادب بھی معاشرے سے الگ کوئی جزیرہ نہیں۔ اس لیے جہاں سفارش اور تعلقات دوسرے شعبوں میں اثر انداز ہوتے ہیں، وہاں ادب بھی مکمل طور پر اس سے محفوظ نہیں۔

لیکن اچھا کام آخرکار اپنی جگہ بناتا ہے۔ شاید کبھی دیر سے، شاید راستہ مشکل ہو، مگر اصل تخلیق کو ہمیشہ کے لیے نظر انداز کرنا آسان نہیں۔


رشنا اختر:
کیا کبھی کسی بڑے نام کی وجہ سے آپ کی صلاحیت کو نظر انداز کیا گیا؟

زوہیب رمضان بھٹی:
ایسے مواقع زندگی میں آ سکتے ہیں اور میرے ساتھ بھی ایسے تجربات ہوئے ہیں جہاں محسوس ہوا کہ شاید نام یا تعلق کو قابلیت پر ترجیح دی گئی۔

لیکن میں نے اسے اپنے لیے بہانہ نہیں بنایا۔ اگر ایک دروازہ بند ہو تو انسان کو اپنی صلاحیت پر کام جاری رکھنا چاہیے۔

نام ہمیشہ کام سے بڑا نہیں ہوتا، بعض اوقات مسلسل کام ہی نام بنا دیتا ہے۔


رشنا اختر:
آپ کے نزدیک تنقید اور تنقیص میں کیا فرق ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
تنقید کا مقصد اصلاح اور بہتری ہوتا ہے، جبکہ تنقیص کا مقصد کسی کی تحقیر یا حوصلہ شکنی۔

ایک اچھا ناقد آپ کو آپ کی کمزوری دکھاتا ہے تاکہ آپ بہتر ہو سکیں۔ تنقیص کرنے والا صرف یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ آپ اچھے نہیں ہیں۔

مجھے تنقید پسند ہے، لیکن تنقیص سے کوئی ادبی فائدہ نہیں ہوتا۔


رشنا اختر:
اگر آپ کو اپنی گزشتہ زندگی کی صرف ایک غلطی درست کرنے کا موقع ملے تو وہ کیا ہوگی؟

زوہیب رمضان بھٹی:
شاید میں ماضی میں کچھ فیصلے زیادہ جلدی اور کچھ بہت دیر سے نہ کرتا۔

زندگی میں کئی مواقع ایسے آئے جہاں شاید مجھے زیادہ بے خوف ہو کر فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ لیکن دوسری طرف یہی فیصلے اور غلطیاں انسان کو وہ بناتی ہیں جو وہ آج ہے۔

اس لیے اگر ماضی بدلنے کا اختیار مل بھی جائے تو شاید میں بہت کچھ بدلنے کے بجائے صرف اتنا کہوں گا کہ:

“زوہیب، تھوڑا زیادہ خود پر یقین رکھو۔”


رشنا اختر:
اور اگر ماضی کے زوہیب بھٹی سے آج کا زوہیب بھٹی ملاقات کرے تو آپ اسے کیا نصیحت کریں گے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میں اسے کہوں گا:

“خواب بڑے رکھو، لیکن ان کے لیے محنت اس سے بھی بڑی رکھو۔ لوگوں کی رائے کو سنو، مگر اپنی سمت دوسروں کے ہاتھ میں مت دو۔ ہر ناکامی کو اختتام نہ سمجھو اور ہر کامیابی کو منزل نہ سمجھو۔”

اور شاید آخر میں یہ بھی کہوں گا:

“جلدی پریشان مت ہونا، بہت سے جواب وقت خود دے دیتا ہے۔”


رشنا اختر:
عہدے، شہرت اور کامیابیوں سے ہٹ کر اندر سے زوہیب بھٹی کیسا انسان ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
اندر سے شاید بہت سادہ سا انسان ہوں۔ مجھے دکھاوے سے زیادہ خلوص پسند ہے۔

میں لوگوں کے عہدے، شہرت یا حیثیت سے زیادہ ان کے رویے کو اہمیت دیتا ہوں۔ جو شخص اچھے وقت میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہو، وہ میرے لیے زیادہ قیمتی ہے۔

میں خود کو کامل انسان نہیں سمجھتا۔ غلطیاں بھی کرتا ہوں، کبھی جذباتی بھی ہو جاتا ہوں، لیکن کوشش یہی رہتی ہے کہ دل میں کسی کے لیے مستقل نفرت نہ رکھوں۔


رشنا اختر:
آپ کو سب سے زیادہ خوشی کس چیز سے ملتی ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ملتی ہے جب کوئی تخلیقی کام مکمل ہو اور مجھے لگے کہ میں نے اسے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کیا ہے۔

اس کے علاوہ اپنے لوگوں کی کامیابی، کسی نوجوان کا آگے بڑھنا، کسی اچھے کام کا نتیجہ دیکھنا اور ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا جن کے ساتھ رسمی گفتگو کی ضرورت نہ پڑے، بہت خوشی دیتا ہے۔

اور ہاں، کبھی کبھی ایک اچھی چائے اور سکون سے بیٹھنے کا موقع بھی بہت بڑی کامیابی لگتا ہے۔


رشنا اختر:
کون سی بات آپ کو سب سے زیادہ دکھ پہنچاتی ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
بے حسی اور ناقدری۔

خاص طور پر جب کوئی شخص خلوص سے کسی کے لیے کچھ کرے اور سامنے والا اس خلوص کو کمزوری سمجھ لے۔

مجھے جھوٹ، دھوکا اور کسی کی محنت یا صلاحیت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنا بھی بہت دکھ دیتا ہے۔


رشنا اختر:
آپ کے نزدیک زندگی میں کامیابی کی اصل تعریف کیا ہے؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میرے نزدیک کامیابی صرف عہدہ، شہرت یا پیسہ نہیں۔

اگر انسان اپنے اصولوں کے ساتھ زندگی گزارے، اپنے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرے، اپنے کام سے مطمئن ہو اور رات کو اپنے ضمیر کے سامنے شرمندہ نہ ہو تو یہ کامیابی ہے۔

اور اگر آپ کی کامیابی کے سفر میں کچھ لوگ آپ کی وجہ سے آگے بڑھ جائیں تو پھر شاید آپ کی کامیابی کی قدر اور بھی بڑھ جاتی ہے۔


رشنا اختر:
کیا آپ نے زندگی میں کوئی ایسا خواب دیکھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا؟

زوہیب رمضان بھٹی:
خواب کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ایک پورا ہوتا ہے تو دوسرا سامنے آ جاتا ہے۔

میرا ایک بڑا خواب یہ ہے کہ ایسا تخلیقی اور ادبی کام کروں جو صرف میرے نام تک محدود نہ رہے بلکہ لوگوں کے لیے یاد رکھنے کے قابل ہو۔

میں چاہتا ہوں کہ میڈیا، ادب اور تخلیق کے اپنے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے ایسے کام کیے جائیں جو پاکستان کی کہانی، ہمارے لوگوں اور ہماری صلاحیتوں کو بہتر انداز میں دنیا کے سامنے لے کر جائیں۔


رشنا اختر:
آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو مرنے کے بعد کس حوالے سے یاد رکھیں؟

زوہیب رمضان بھٹی:
میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے کسی بڑے عہدے یا کسی خاص کامیابی کی فہرست سے زیادہ ایک اچھے انسان اور تخلیق کار کے طور پر یاد رکھیں۔

اگر کوئی یہ کہہ دے کہ “زوہیب بھٹی نے اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کیا، کچھ اچھا لکھا، کچھ اچھا بنایا اور جہاں ممکن ہوا لوگوں کے کام آیا” تو میرے لیے اس سے بڑی یادگار کوئی نہیں۔

نام تو ایک دن مٹ جاتا ہے، لیکن انسان کا رویہ اور اس کا کیا ہوا اچھا کام لوگوں کی یاد میں کچھ دیر زیادہ رہ سکتا ہے۔


🌟 ریپڈ فائر

رشنا اختر:
کتاب یا فلم؟

زوہیب رمضان بھٹی:
فلم — کیونکہ اس میں کہانی دیکھنے، سننے اور محسوس کرنے کو ملتی ہے۔ البتہ اچھی کتاب ہو تو فلم کو بھی مقابلہ دینا پڑتا ہے۔

رشنا اختر:
شاعری یا نثر؟

زوہیب رمضان بھٹی:
نثر — کیونکہ اس میں تفصیل سے دنیا بنانے کی آزادی زیادہ ملتی ہے۔ لیکن شاعری چند لفظوں میں وہ کام کر دیتی ہے جس کے لیے نثر کو کئی صفحات چاہیے ہوتے ہیں۔

رشنا اختر:
قلم یا کیمرہ؟

زوہیب رمضان بھٹی:
قلم — کیونکہ کیمرہ وہی دکھاتا ہے جو آپ اسے دکھانا چاہتے ہیں، لیکن قلم کبھی کبھی وہ بھی کہہ دیتا ہے جو آپ چھپا رہے ہوتے ہیں۔

رشنا اختر:
شہرت یا اطمینان؟

زوہیب رمضان بھٹی:
اطمینان — شہرت اچھی چیز ہے، لیکن اگر رات کو انسان اپنے آپ سے خوش نہیں تو دن کی ساری شہرت بے معنی ہو جاتی ہے۔


زوہیب رمضان بھٹی سے ہونے والی یہ گفتگو کئی اہم پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان کے خیالات اور تجربات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ کامیابی کسی ایک لمحے کا نام نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد، سیکھنے اور اپنے مقصد پر یقین رکھنے کا نتیجہ ہے۔

ہر انسان کا سفر مختلف ہوتا ہے، مگر اپنے تجربات سے سیکھنے اور دوسروں کے لیے راستہ آسان بنانے والے لوگ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔

انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی جانب سے زوہیب رمضان بھٹی کا شکریہ کہ انہوں نے اپنے خیالات اور تجربات ہمارے قارئین کے ساتھ شیئر کیے۔

امید ہے یہ تحریری گفتگو قارئین کے لیے دلچسپی کے ساتھ ساتھ فکر، حوصلے اور آگے بڑھنے کی تحریک کا باعث بھی بنے گی۔

“قلم اور لفظ کا سفر جاری رہے، کیونکہ ایک اچھا خیال جب لفظوں کا روپ دھارتا ہے تو وہ صرف ایک شخص تک محدود نہیں رہتا، بلکہ کئی دلوں اور ذہنوں تک اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔”

تحریر و گفتگو: رشنا اختر
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *