حامد،سیلاب،المیہ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

حامد،سیلاب،المیہ

وبا ہو یا قدرتی آفات ہماری قوم ہمیشہ اسکے سامنے سینہ سپر ہوکر سرخرو ہوئی ہے۔مگر کچھ ایسے واقعات بھی ہیں جو بڑے دلخراش ہیں
پنجاب میں حالیہ تباہ کن سیلاب نے ہر طرف تباہی کے مناظر چھوڑے ہیں۔ گھر، کاروبار، اور کھیت سب کچھ پانی میں بہہ گیا۔ اس مشکل گھڑی میں، کچھ ہیرو سامنے آئے جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر سیلاب زدگان کی مدد کا بیڑا اٹھایا۔ انہی میں سے ایک نام حامد کا ہے، ایک نوجوان اور پرجوش رضاکار جو اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ امدادی کاموں میں مصروف تھا۔حامد نے سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مدد کی، انہیں خوراک اور پانی فراہم کیا۔ ایک دن، امدادی سامان تقسیم کرتے ہوئے، ایک بےگھر کتے نے اسے کاٹ لیا۔ کتا شاید خوفزدہ اور بھوکا تھا، اور اس نے اپنے دفاع میں ایسا کیا۔ حامد نے فوراً ویکسین لگوائی، لیکن اس واقعے نے اس پر گہرا نفسیاتی اثر چھوڑا۔ اس میں ریبیز کی علامات پیدا ہو گئیں، جس کی وجہ سے وہ شدید ازیت کا شکار اور خوفزدہ ہو جاتا ہے اور اس کا دل گھبرانے لگتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آفت زدہ علاقوں میں صرف جسمانی نہیں، بلکہ نفسیاتی اور حیاتیاتی خطرات بھی ہوتے ہیں۔اعداد و شمار اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت سیلاب اور قدرتی آفات کے دوران ایسے واقعات عام ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، پاکستان میں ہر سال 50,000 سے زائد افراد کو کتے کاٹتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر دیہی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ (یہ اعداد و شمار تخمینی ہیں) سیلاب کے دوران، بےگھر جانوروں کے جارحانہ رویے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ امدادی کارکنان کو نہ صرف بے رحم موسم اور بیماروں سے نمٹنا ہوتا ہے، بلکہ انہیں جانوروں کے حملوں، سانپ کے کاٹنے، اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں جیسے خطروں کا بھی سامنا ہوتا ہے۔حامد جیسے رضاکاروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ امدادی کاموں میں شامل ہر فرد کو پیشہ ورانہ تربیت دی جائے۔ پاکستا ڈائزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فلاحی کام کرنے والے افراد کے لیے ایک جامع تربیتی کورس متعارف کرائیں۔ اس کورس میں درج ذیل نکات شامل ہونے چاہئیں:

  • خطرات سے آگاہی: انہیں سیلاب زدہ علاقوں میں ممکنہ خطرات، جیسے جانوروں کے حملے، بیماریوں، اور بجلی کے جھٹکوں سے آگاہ کیا جائے۔
  • ابتدائی طبی امداد: کتے کے کاٹنے یا دیگر زخموں کی صورت میں فوری ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی جائے۔
  • نفسیاتی مدد: حادثات کی صورت میں نفسیاتی مدد فراہم کرنے کا طریقہ سکھایا جائے تاکہ وہ اپنے خوف اور صدمے پر قابو پا سکیں۔
  • حفاظتی لباس اور آلات: رضاکاروں کو حفاظتی دستانے، بوٹ، اور دیگر ضروری آلات فراہم کیے جائیں۔
    حامد کا واقعہ محض ایک انفرادی کہانی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی المیہ ہے۔ اس پر ایک سنگین ظلم ہمارے سوشل میڈیا صارفین نے کیا ہے جو ریبیز کی حالت میں مبتلا حامد کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کررہے ہیں۔اللہ پاک حامد کو صحت دیں لیکن سوشل میڈیا صارفین کانیہ یہ غیر اخلاقی رویہ انتہائی قابل مزت ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امدادی کارکنان بھی انسان ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔اگر انکے ساتھ کوئی حادثہ پیش ائے تو اپنی اخلاقی زمہ داریوں کو کبھی نا بھولیں۔حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ پی ڈی ایم اے اس سلسلے میں فلاحی اداروں کے کارکنان کے لئے فوری طور پر تربیتی کیمپ منعقد کرائیں۔مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے تربیتی مواد اور عملی تربیت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح سے سے لازمی قرار دی جائے۔تاکہ پوری قوم متحد ہوکر قدرتی آفات کے لئے تیار ہوسکے۔آخر میں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ حامد کے علاج اور اسکے گھروالوں کے لئے کچھ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *