⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
وقت: وہ سرمایہ جو ضائع ہو رہا ہے
ازقلم اقصٰی منشاد . بازاروں میں ہم روپے، ڈالر اور سونے کے نرخ روز دیکھتے ہیں۔ اخبارات میں معیشت کے اتار چڑھاؤ پر تجزیے ہوتے ہیں۔ حکومتیں زرمبادلہ کے ذخائر کو اپنی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ بناتی ہیں۔ لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ وہ سب سے بڑی کرنسی جو ہر انسان کے ہاتھ میں یکساں طور پر موجود ہے، اس پر کبھی کوئی تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ یہ کرنسی ہے وقت۔
وقت دنیا کی سب سے منصفانہ تقسیم ہے۔ ایک بادشاہ کو بھی دن کے چوبیس گھنٹے ملتے ہیں اور ایک مزدور کو بھی۔ ایک سرمایہ دار بھی انہی لمحوں میں سانس لیتا ہے اور ایک فقیر بھی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ کوئی وقت کو ضائع کرتا ہے اور کوئی اسے سرمایہ بنا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کی معیشت سب سے منفرد اور سب سے اہم ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ دولت صرف وہ ہے جو تجوری میں بند ہو یا بینک میں محفوظ ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل دولت وہ وقت ہے جسے ہم جیتے ہیں۔ روپے کی کمی کو شاید قرض سے پورا کیا جا سکتا ہے، مگر لمحہ گزر جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے واپس نہیں لا سکتی۔ یہی وقت جب کسی کے ہاتھ سے پھسلتا ہے تو وہ غربت کا شکار ہو جاتا ہے، اور یہی وقت جب کسی کے قابو میں آتا ہے تو وہ کامیابی کی معراج کو چھو لیتا ہے۔
ہم روپے کا حساب رکھتے ہیں۔ دن کے آخر میں دکان دار اپنی آمدنی گنتا ہے، تنخواہ دار اپنی سیلری دیکھتا ہے، سرمایہ دار اپنے منافع کا حساب کرتا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی دن کے آخر میں یہ حساب کیا کہ کتنے گھنٹے کہاں خرچ ہوئے؟ کتنے لمحے مثبت سوچ میں لگے اور کتنے لمحے بیکار گفتگو میں ضائع ہوئے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری قومی معیشت بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ وہ قومیں جو وقت کو کرنسی سمجھتی ہیں، وہ آگے بڑھتی ہیں۔ جو قومیں اسے یونہی ضائع کر دیتی ہیں، وہ پسماندگی کا شکار رہتی ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی اصل ترقی صرف ٹیکنالوجی یا وسائل کی بدولت نہیں، بلکہ وقت کی قدر کی بدولت ہے۔ جاپان کی مثال لیجیے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وہ ملک ملبوں کا ڈھیر تھا، لیکن جاپانی قوم نے وقت کو کرنسی بنایا۔ ہر لمحہ محنت میں لگایا، ہر گھنٹہ منصوبہ بندی پر صرف کیا، اور آج وہ دنیا کی سب سے مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔
جرمنی اور چین کی کامیابیوں کی بنیاد بھی یہی ہے۔ وہاں وقت کا ضیاع بدترین جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایک مزدور ہو یا ایک انجینئر، سب کو معلوم ہے کہ لمحے کو سنبھالنا ہی اصل سرمایہ ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں وقت سب سے زیادہ ارزاں شے ہے۔ دفتر کا ملازم گھنٹوں چائے کی پیالیوں میں وقت بہا دیتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ محنت کے بجائے موبائل اسکرینوں پر لمحے ضائع کرتے ہیں۔ گھروں میں افراد ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے فضول مصروفیات میں کھوئے رہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہم معاشی طور پر بھی پیچھے ہیں۔ کیونکہ وقت کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ ہم وہ سرمایہ روزانہ ضائع کر رہے ہیں جس کی بنیاد پر ایک نئی دنیا بنائی جا سکتی تھی۔
جیسے ایک فرد مالی بجٹ بناتا ہے، ویسے ہی وقت کا بجٹ بھی ہونا چاہیے۔ دن کے چوبیس گھنٹے کو اگر ایک کرنسی سمجھا جائے تو ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کون سے لمحے کہاں خرچ ہو رہے ہیں۔ اگر دن کے دس گھنٹے فضولیات میں چلے گئے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کی جیب سے نوٹ گر گئے ہوں۔
وقت کا بجٹ وہی شخص کامیابی سے بنا سکتا ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ لمحہ دراصل سرمایہ ہے۔ اگر ایک طالب علم روز دو گھنٹے محنت کرے تو ایک سال میں سات سو گھنٹے بنتے ہیں، اور یہی وقت اس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اگر ایک ملازم روز ایک گھنٹہ اپنی صلاحیت بڑھانے پر لگائے تو چند سالوں میں وہی وقت اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔
قومی سطح پر بھی وقت کی معیشت براہِ راست مالی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ جب ایک سرکاری ادارہ فائل کو ہفتوں دبا کر رکھتا ہے تو اس تاخیر کی قیمت صرف رشوت یا بدعنوانی نہیں بلکہ قومی خزانہ بھی ادا کرتا ہے۔ جب ایک منصوبہ وقت پر مکمل نہیں ہوتا تو لاگت بڑھ جاتی ہے، وسائل ضائع ہوتے ہیں، اور معیشت بوجھ تلے دب جاتی ہے۔
اگر ہم نے وقت کی معیشت کو درست کر لیا تو قومی معیشت خود بخود بہتر ہو جائے گی۔ کیونکہ وقت ہی وہ سرمایہ ہے جس سے سب کچھ جڑا ہوا ہے۔
وقت کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ یہ سود اور منافع دونوں دیتا ہے۔ اگر آپ نے وقت کو مثبت مصرف میں لگایا تو یہ بڑھ کر لوٹتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے اسے ضائع کیا تو یہ ایسا قرض بن جاتا ہے جو کبھی واپس نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب لوگ اپنے لمحے بچا کر رکھتے ہیں جیسے کوئی تاجر اپنی کرنسی بچاتا ہے
وقت نہ اچھا ہے نہ برا، یہ محض ایک کرنسی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آپ اسے کہاں خرچ کر رہے ہیں۔ اگر آپ نے اسے علم میں لگایا، خدمت میں لگایا، محنت میں لگایا تو یہ مستقبل میں سرمایہ بن جائے گا۔ لیکن اگر آپ نے اسے بیکار گفتگو، حسد یا نفرت میں ضائع کیا تو یہ معیشت کو دیوالیہ کر دے گا۔
وقت کی معیشت وہ سرمایہ ہے جو ہر انسان کو یکساں دیا گیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی اسے محفوظ کرتا ہے اور کوئی اسے ضائع کر دیتا ہے۔ ہماری قومی اور انفرادی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم وقت کو کرنسی نہیں سمجھتے۔
اگر ہم نے لمحوں کی قدر کر لی، اگر ہم نے وقت کا بجٹ بنا لیا، اگر ہم نے وقت کو سرمایہ سمجھ کر استعمال کیا تو ہم وہ معجزے بھی کر سکتے ہیں جو مادی دولت سے ممکن نہیں۔
وقت کی معیشت کا سب سے بڑا اصول یہی ہے:
“وقت کو سنبھال لو، وقت تمہیں سنبھال لے گا۔”
