⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
قلم میں اور میری زندگی
شہر حاصل پور میں موجود المعروف بھٹہ حکیم کے دوا خانے کی دوسری جانب پھلوں سے لدی ہوئی ریھڑی پر اونچی آواز میں صدا لگائے اِک شخص، فضا میں گونجتے ہوئے موذن کے آخری الفاظ اور پھلوں سے لدی ہوئی ریھڑی کے ساتھ ایک خواجہ سراء ہاتھ اٹھائے دعاء مانگ رہا تھا یہ دیکھ کر میں کسی گہرے تجسس میں کھو گیا میری سواری خُدا خُدا کرتے فوارہ چوک کا رُخ کر رہی تھی اور میں بس یہی کہے جا رہا تھا تم خُدا سے کیا مانگ رہے ہو؟ ہاں! تم خدا سے آخر کیا مانگ سکتے ہو؟
اسی کش مکش میں شاہد ٹیلر کی دوکان پر پہنچا جواب میں دس منٹ انتظار کا سنا تو یہ کہتے ہوئے چل پڑا سنی کُرتا لینے آجائے گا گھر پہنچا تو گلی کے بلب کا بٹن دبائیں کھڑکی سے داخل ہونے والی نرم روشنی کا سہارا لیے حرف جوڑنے بیٹھ گیا بیشک جوڑے تو خُدا بناتا ہے اسی لیے حرف کا جوڑا ہم نہیں بنا سکتے۔۔۔،
مصطفی زیدی صاحب اور مبشر رحمان بھٹہ صاحب کے ساتھ لائبریری اور ڈیپارٹمنٹ کے وسط میں موجود کینٹین پر چائے کا آرڈر دیئے بیٹھے تھے۔ مصطفی زیدی صاحب کو میرا تعارف کرواتے ہوئے مبشر رحمان بھٹہ صاحب یہ بھی فرماتے ہیں بینا صاحب آپ کو چاہنے والوں کی فہرست میں آتے ہیں۔ مصطفی زیدی صاحب مسکرائے کُچھ خیالات بیان کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنی زندگی کے بارے میں سوچا کہ آپ کو خُدا نے اس دنیا میں کیوں بیجھا ہے؟ میں جواب میں نہ کا سر ہلائے جی شاید خُدا ہمیں دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم اپنے اندر کی میں کو ختم کر سکتے ہیں یا نہیں کیونکہ خدا اپنے فرائض تو معاف کر دے گا لیکن وہ حقوق العباد معاف نہیں کرے گا اور میرے نزدیک حقوق العباد ہماری میں ختم ہونے پر ہی ادا ہو سکتے ہیں۔ مصطفی زیدی صاحب نازک سی خاموشی کے بعد کہنے لگے میں نے یہ سوال سوچا لیکن جواب نہیں ملا اور اقبال نے ہمیشہ اپنی میں قائم رکھنے کا درس دیا کہتے ہوئے خاموش ہو گئے۔ لیکن میں آج بھی اپنے جواب سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوں۔
اور میں نے آج اُس خواجہ سرا کے اٹھائے ہوئے ہاتھوں کی طرف دیکھتا ہوں تو شُکر کرتا ہوں کہ آج تک اپنے فائدہ مند چیز کو حاصل کرنے کی ضد نہ تھامی سوائے بینا کے نہ جانے وہ فائدہ مند ہے بھی یا نہیں پندرہ سال کی عمر سے آج بائیس کا ہونے کو ہوں مگر اس کی آنکھیں، باتیں اور یادیں ویسی ہی ہیں جیسی سات سال پہلے۔
عائشہ حال کمرہ نمبر 135 کی طرف دیکھتا ہوں تو گونجتے سناٹے سوال کرتے ہیں کہ کیا میں اس پنجرے میں قید ہوں جس کا دروازہ بھی کھلا ہے؟
منیر نیازی کے اشعار “ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں” اور اپنی جلد بازی کے حادثات سے احساس ہوتا ہے کہ محبت ہے ہی اِک حادثہ، جیسے جون کہتا ہے کہ انا للہ وانا۔۔۔،
ارے وہ 9 دسمبر کی سُنسان رات چیختی ہوئی، نہ جانے یہ قسمت کا کونسا کھیل ہے رات بھر اُس سے باتیں کرتے ہوئے گزر گیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ اگر اِک اندھے کو محبت ہوتی ہے تو وہ خوش نصیب ہے بہرا گھونگھا تو مُحبت خود بنا دے گی۔
ایسے میں اگر اپنے شعبہ کے بارے میں بات کروں تو پچھلے دنوں کمپیوٹر لیب میں ناصر صاحب سے مخاطب ہوئے کہاں جناب رات فرکشن کلب کے اجلاس میں نیّر مصطفی صاحب، راشد سعیدی صاحب اور دیگر عظیم ناموں کے درمیان اِک لکھاری نے اپنے ڈرامہ کا جب یہ سین بیان کیا تو آپ کا مضمون یاد آ گیا کہ ایک خوبصورت لڑکی کمرے میں داخل ہوتی ہے ایک ہاتھ میں پستول اور دوسرے ہاتھ میں بندوق لیے ایک خوبصورت لڑکے سے مخاطب ہوئے کہتی ہے میں تمہیں مارنے آئی ہوں اگر مجھے تم پر ترس آگیا تو میں بندوق سے مارو گی اور اگر تمہیں مجھ پر ترس آیا تو میں پستول سے مارو گی۔ ناصر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا عبداللّٰہ صاحب آپ ایسے خیالات بیان کرنے ہی بائیو انفارمیٹکس میں آئے ہیں۔
صبح کے چار بج کر چوالیس منٹ پر ایک خاموش آواز چیختی ہوئی سوال کرتی ہے کہ زندگی کیا ہے؟ ہاں یہ 23 جنوری کی اندھی صبح میں نڈر لڑکی کا خوفناک سٹیٹس تھا۔ خوفناک اس لیے کہ بینا صاحب اُنھیں جواب تو نہیں دینا چاہتے تھے ہاں مگر اس کا یہ سوال مجھے جھنجھوڑتا ہُوا جواب کا طالب تھا میں نے وہی کہاں جو گزرتی شب کشمیر چوک سُوپ کی دکان پر بیٹھے مرزا صاحب کے کان میں کہاں اور مرزا صاحب خوب مسکرائے کہ زندگی بہت خوبصورت ہے اسے خوب جینا چاہیے۔
زندگی مسکراہٹ کا نام ہے اگر ایک اچھا دوست ہاتھ تھامے رکھے اور میری زندگی کی خوبصورتی کا راز میرے دوست بھی ہیں جو مجھے جھکنے نہیں دیتے ہر مشکل میں میرے ساتھ وفا نبانے کی تَگ و دَو میں لگے رہتے ہیں۔
مرزا صاحب وفا نبانے والے میٹھے دل والی شخصیت ہیں اور مجھے بھی یہی ڈر تھا اسی لیےٹیسٹ کروانا لازم تھا۔ اور مرزا صاحب کے پاؤں پر زخم جلد عافیت کا شکار نہ تھا۔ اس سلسلے میں ہم اور سنی صاحب ڈاکٹر عابد کے شفاء خانے جا پہنچے اور حمزہ صاحب سے ٹیسٹ کروانے کا کہاں تو جواب میں میٹھا نہ رکنے کا سن کر خوشی ہوئی کہ ہماری چائے بند نہیں کی گئی۔
چائے دوستی نے بینا کی مُحبت سے بھی زیادہ بدنامی سے نوازا ہے کیونکہ میں چائے سے خوب وفا نباتا ہوں میں اسے رنگ دینے والی کو بھی اپنے ہونٹوں کو سیراب کرنے کا اعزاز دیتا ہوں درحقیقت میں اسے اس کا حق ادا کرتا ہوں۔
میں اکثر والدہ محترمہ سے کہتا ہوں یہ دنیا والے چائے کو بھی نہیں چھوڑتے اس سے بھی بے وفائی کرتے ہیں اسے رنگ دینے والی پتی کو نکال باہر پھینکتے ہیں مگر چائے پھر بھی مٹھاس دیتی ہے۔

ماشاءاللہ