غزل

من چلا سا من سوچ رہا ہے تیری محفل میں باندھ کے گھنگھرو تجھے رقص سکھایا جائے

دل کا آنگن سُونا پڑا ہے برسوں سےاسکی یادوں کے گلابوں سے مہکایا جائے

سلگ رہی ہیں میری آنکھیں آہستہ آہستہ اب کی بار نشیمن نہیں دل جلایا جائے

نہر کھود ہی لایا ہے فرہاد تیشے سےاسے اب شیریں کے ارمانوں پر چلایا جائے

جی بھر کر ستایا ہے اہل مسند نے شفقتانہیں اب شہر کی گلیوں میں گھمایا جائے

اس پہلے کہ خاک میں مل جائیں شہر والو زندہ لاشوں کو ذرا دھوم سے اٹھایا جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *