سفر گل زمیں کے

سفر گل زمیں کے


قسط نمبر 06
گُزشتہ سے پیوستہ ۰۰۰ہوا کُچھ یوں کہ ہمارا ٹپکن ٹولہ حنا کی مِنی جیپ میں ٹھس ٹھسا کر بیٹھ تو گئے پر بیٹھنے سے پہلے ہی سابقہ شریکِ چہل قدمی کی زبان و لہجہ دوآتشہ سا تھا – جانے سے پہلے ایک لمحہ کے لئے میں نے سوچا ۰۰۰۰ اتنی لاف زنی سُننے سے بہتر ہے نہ ہی جائیں-
پر جب تیار شدہ دوشیزاؤں اور بچوں پر نظر ڈالی تو یہ جذباتی فیصلہ مُلتوی کردیا حالانکہ میں نے حنا اور اُس کے شوہرِ نامدار کو بھی دعوت دی تھی کہ آپ بھی چلو تو حنا نے کہا کہ اس طرح ہانیہ پھر انھی دونوں گلبدن اور زُلیخا کے کندھے پر سوار رہے گی تو لڑکیاں پوری طرح انجوائے نہ کر سکیں گی -ہم دونوں گھر پر ٹھیک ہیں-
یوں مجھے اُس کی بات میں بھی وزن نظر آیا اور عمر بمع فیملی بیرونِ ملک اور رضیہ سلطانہ یعنی رَضو جی میری خدمت پر مامور اور یوں اسی طرح مجھے اچانک یہ خیال بھی بجلی کی سی تیزی سے ذہن میں آیا کہ چند دن پہلے تو یہ مہرالنساء نے ہی تو مجھے کہا تھا کہ ان لڑکیوں کو گھمانا اور کھانا کھلانا چاہ رہی ہوں ، میں بھی دوانی سی ہوں اُس کے آئیڈیا کو خواہ مخواہ اپنا کر سارا بکھیڑا اپنے گَلّے ڈال لیا اور اب گَلے پڑا ڈھول بجانا پڑ رہا تھا –
اوپر سے اب گاڑی چلاتے اتنا بول رہی ہے ۰۰۰۰
اور ہاں میں نے یہ بھی کہا کہ گاڑی چَلانے کا بکھیڑا چھوڑو ان ڈرائیو کرکے دو مِنی گاڑیاں کرلیتے ہیں –
وہ آئیڈیا بھی اس نے ریجیکٹ کردیا کہ نہیں اپنی گاڑی پر جائیں گے –
چلو اب بھگتو بےچاری قیصرہ !میں اپنے غُصے کو اس لئے بھی ضبط کئے بیٹھی رہی کہ جو جوش میں ہے کہیں گاڑی دے نہ مارے –
خیر جیسے کاک پُل عبور کیا ایک دم عمر کے انداز میں
میرے گھٹنے چھُو کر بولی اَمّاں میرا غصّہ نکل گیا اب معاف کردیں اور مڑ کر عبدالمالک سے کہنے لگی : یار عبدالمالک کوئی گانے وانے لگاؤ نا ۰۰۰۰ اور میں ششدر دل میں سوچا اصل اور نقل کا فرق یہ کہ عمر جیسی بن سکتی ہے !
نہیں بن سکتی ۰۰۰۰
اتنا دودھ کے اُبال جیسا غصّہ نکال کر اب گرجنے برسنے کے بعد مُعاملہ ٹھنڈا کرنے کا یہ چَترا انداز مجھے مُتاثر نہیں کرسکتا ۰۰۰۰
جب ڈی ایچ اے پہنچے تو کھانا آرڈر کرنے کے بعد باقاعدہ میرے گھٹنے پکڑ کر میرے دل پر مونگ دلنے لگی –
میں صرف اپنے قافلہ کی سنگت کی وجہ سے اوپرے اوپرے دل سے فیک فیک مُسکرا کی کوشش کرنے لگی ۰۰۰۰
اچھا یہاں تک بھی ٹھیک تھا ،کھانا پینا بھی سب کی مرضی کے مطابق ہوگیا آئس کریم وغیرہ بھی کھلا دی گئی اب کہنے لگی باہر جاکر گھوم پھر لیں –
واک بھی ہوجائے گی – جیسے واککنگ ٹریک پر گئے سرد و یخ جھوم جھوم کر چلتی ہوا سیدھی سَر میں گھسنے لگی , سارے قافلے نے واپس گھر جانے کی ٹھانی میں نے بھی تائید کردی- محترمہ کافی جھنجھلائیں کہ آپ کیسے لوگ ہو ؟
کہا: ایسے جیسے نظر آرہے ہیں – اس سرد ہوا میں واک کرکے نمونیہ اور سر درد تو مول لینے سے رہے-
موڈ پھر خراب کہ ۰۰۰۰ سب نے جلد بازی دکھائی ، پھر وہی ۰۰۰۰ لڑکی بدل گئی –
ِچِخ چِخ شروع ۰۰۰۰ یہ تفریح کے قابل لوگ ہی نہیں۰۰۰ ان میں مینرز کی کمی ۰۰۰۰ میں تو بےزار سی بیٹھ گئی
کہنے لگی ابھی تو ہانیہ کو بھی لانا چاہ رہی تھیں –
کہا :نہیں لائی نا، اب سَر نہ کھانا ۰۰۰۰ چند منٹ پہلے والی معافی تلافی کیا ہوئی ۰۰۰۰
کہنے لگی : معافی گئی بھاڑ میں
میں نے کانوں کو اُنگلیوں سے بند کرکے کہا:آ گئی ہو نا اپنی اوقات پر میرے بچوں اور لڑکیوں کو اب بورکر رہی ہو-
دل کر رہا ہے اس گاڑی سے اُتر جاؤں –
یوں کہ اب ڈی ایچ اے کی مین روڈ پر نکل آئے تھے
اس لڑکی کی آواز پوری گاڑی میں گونج رہی تھی-اچانک گاڑی روک کر بوُلی : اُتریئے ۰۰۰۰
پہلے تو مجھے سمجھ نہ آئی میں نے حیران ہوکر دیکھا ۰۰۰۰ تو کہنے لگی : اُتریئے۰۰۰
میں بھی نیچے اُتئر آئی اور آہستہ آستہ پیدل چلنے والے راستے پر ساتھ ساتھ چلنے لگی ۰۰۰۰
پانچ منٹ کے بعد ہارن بجنے لگا شیشہ نیچے کر کے
آئیں امّاں ۰۰۰۰
سب بچے دادی آئیں پلیز دادی ۰۰۰اتنے میں عبدالمالک بھی اُتر کر آگیا بازو پَکڑ کر آئیں دادی ۰۰۰ اب جب ادھر اُدھر اکا دُکا گاڑی گُزر رہی تھی اور پیدل چلنے والے بھی شاید سردی کی وجہ سے نہ تھے-
تو میں نے سوچا جب اس نے فلمی سچوایشن بنا ہی دی ہے تو دل میں قسم کھا لی کہ میں اب ان ڈرائیو کی گاڑی منگا کر آرام سے جاؤں گی-
یہ مجھے کیا سمجھتی ہے!
کہا: عبدالمالک گاڑی سلیکٹ کرو ایپ کھول چُکی تھی-
یہ ذرا رُعب سے ڈرامہ بند کریں آئیں
کہا: جاؤ ہمیں تنگ مت کرو آجائیں گے !
جب دیکھا یہ پَکی ہوگئی ہے
تو سب سے کہا : گاڑی سے اُترو ابھی اُترو۰۰۰۰سب اُتر کر میرے ساتھ کھڑے ہوگئے –
اب اتنے ہماری گاڑی آگئی میں حیران کہ اب ہم کیسے اس گاڑی میں پورے آئیں گے –
خیر اب میں نے سوچا دوسری گاڑی کرتے ہیں- ڈرائیور کپتان کوئی اچھا ذمہ دار ساتھا کہنے لگا آنٹی سارے آجائیں گے ایک بچی کو آپ گود میں بٹھا لیں –
یوں ملیحہ کو گود میں بٹھا ہم بھی روانہ ہوگئے ،ڈرائیور بھی کُچھ زیادہ اچھا تھا اُلٹا مجھے سمجھانے لگا : آنٹی ! بچوں کو شام کے وقت اکیلا نہیں بھیجنا چاہیئے-
اُسے ہماری باغی حسینہ کے رویہ اور برتاؤ کا پتہ تک نہ تھا ۰۰۰
میں نے بھی ہاں میں ہاں مِلائی ۰۰۰۰ گھر پہنچ گئے –
یہ اٹک گیس اسٹیشن پر گاڑی میں تیل ڈلواتی رہی ۰۰۰۰
رازی خان کے آگے میں نے اس باغی لڑکی کو سخت سست کہا اور یہ کہ اس گھر لڑکیاں بہت ڈھاڈی ہیں وغیرہ وغیرہ
رازی خان : حسبِ عادت بہن کی طرف داری میں تھا- مئری اتنی اچھی قابل بہنا ہے-
میں اُسے گھورکر رہ گئی۰۰۰
آج پھر میرے پاؤں پکڑے بیٹھی ہے میں ہر طرح کی معافئ سے لاکھ منع کیا ۰۰۰۰ میری یوگا ایکسرسائز خراب کر رہی ہو ۰۰۰۰۰ جاؤ
نا ماں مجھے معاف کردیں ۰۰۰۰ میری ایک ہی تو ماں ہے –
نہ کیا تو آپ کیا ۰۰۰ آپ کے کندہ شاہ تک کو نہ چھوڑوں گی ۰۰۰
اب ظاہر ہے پڑدادا کے نام پر ہنسی سی نکل گئی یہ پھر شیرنی بن گئی میں نے لاکھ ہاتھ باندھ کر کہا : کندہ شاہ کو درمیان مت لاؤ ۰۰۰۰ تمُ لوگوں کے تَتّہ میں نے اُنھیں بھی چھوڑا دیا ہے-
اب بانہیں گلے میں کبھی ماتھا چومتی ہے کبھی ہاتھ ۰۰۰۰مجھے پتہ ہے اس نے اب مجھ سے کوئی دُعا کرانی ہوگی ۰۰۰۰ اتنی عاجزی ۰۰۰۰ میری توبہ۰۰۰۰
خود نوشت خاکہ نگاری
کندہ شاہ کی پڑ پوٹی اپنے ہاتھ سے ظُلم کی داستاں لکھتی ہے-
دوستِ دیرنہ شریکِ چہل قدمی پانی پتی
مہرالنساء سے جب سے واک الگ کرلی ، دو ایک ماہ تو گاہے گاہے ٹھونگے مارے ۰۰۰۰
اب چونکہ مستقل واک پارٹنر سے راہیں جُدا کر لی ہیں تو تھک ہار کر صلح جوئی کی طرف لوٹ آئی ہے –
کل جب مجھے نوے نکور ٹاپس گفٹ کئےکہ دیکھیں۰۰۰۰ پسند آئے !
کہا: ٹھیک ہیں پر اتنا زیادہ خرچہ کیوں کرلیا تو ۰۰۰۰
بولی: آپ کی سالگرہ کا تُحفہ ہے
کہا: وہ تو ابھی دور ہے ابھی سے۰۰۰۰
کہنے لگی: بس پسند آگئے لے لئے ، آپ بتائیں آپ کو سچ میں پسند آئے؟
میں نمانی کندہ شاہ کی پڑپوتی ناپسند کرتی ۰۰۰ میری مجال میں تو بس جہاں جہاں سے نذرانے ملتے رہیں عاجزی سے قبول کرلیتی ہوں-
کہنے لگیں: خوش ہیں !
دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے کہ فلاں فلاں سوٹ سے میچ کریں گے ، پر اوپر سے بڑی سَیر نیّت ہوکر دھیمی آواز میں کہا: مہرالنساء بہت شُکریہ ! ضرورت تو نہ تھی پر رکھ لیتی ہوں-
کہنے لگی: اگر پسند نہیں تو کل جیولر کو واپس کر دیتے ہیں-
کہا: بس اتنے پیار سے لائی ہو رکھ ہی لیتی ہوں-
سامنے بھی کون تھی ؟ کندہ شاہ کی پڑ پوتی ، اپنی بات کو کیسے جانے دیتی-
یہ پوسٹ جانے کتنے دنوں سے شروع کر رکھی ہے
بوجہ پوری نہیں ہو پا رہی سب سے بڑھ کر سرائیکی سُستی جو ہم سرائیکیوں کے وجود میں گھل چُکی ہے-
اکیس اکتوبر کو ہانیہ کی دوسری سالگرہ پر ہم سب بہت خوش تھے اور ہمیشہ کی طرح آپس میں مَنا لی گئی-گزشتہ کل کا چوبیس اکتوبر کا دن تھا کتنا کڑا دن تھا-جب مجھے سیمی دوست نے صبح صبح ہی واٹس ایپ پر ارشد شریف صاحب نامور صحافی کی شہادت کی اطلاع دی-
کل کا سارا دن بےحد اُداسی میں گُزرا ، ہم سب اپنے گھر بیٹھے ، ارشد صاحب کی امّاں ، اہلیہ اوربچوں سے جُڑے رہے – میں دن کو کبھی ٹی وی آن نہیں کرتی کہ بس رات کوایک آدھ شو ہی کافی ہو جاتے ہیں-
ارشد صاحب کا شو کو تواتر سے کبھی نہ دیکھا – پر کیا ارشد شریف کو نظر انداز کوئی بھی پاکستانی کر سکتا تھا-
نہیں کرسکتا تھا !
ایسی صاف شفاف ،نکھری نتھری ،ببانگِ دُہل بولتی زندگی سب کی توجہ کھینچ ہی لیتی تھی ، وہ اَہنی ، جاندار و کمیاب و نایاب ومحقق اور تحقیقات کی آخری حد تک جانے والا ارشد شریف جو کینیا کی نیروبی کی کریمینل پولیس کے ہاتھوں ٹارگٹڈ کلنگ کا شکار ہوا-
اے آر وائے والوں نے اپنا نگینہ صحافی تو کھو دیا پر عوام کو لگا ادارہ نہ بھرپور سکیورٹی دے سکا نہ سکیورٹی ادارے۰۰۰۰افسوس بلکہ ازحد افسوس۰۰۰۰
البتہ” بول “ کے ادارے اور کینیا کے معروف صحافی برائن اوبویا نے زیادہ ساتھ نبھایا ۰۰۰۰
ابھی کی خبر کے مطابق ،ارشد شریف صاحب کی میّت اپنی دھرتی تک پہنچنے میں دوحہ سے پاکستان کا سفر طے کر رہی ہے-
رازی بیٹا اپنے آفس جاتے سمّے ماں سے آشیرِ باد لینے حسبِ دستور جب میرے کمرے میں آیا تو آج بھی کل کی طرح ارشد شریف صاحب کی وجہہ سے ٹی وی آن ہے سامنے بادامی صاحب کو دیکھ کر فرمانے لگےکہ اب یہ ان کی صحافتی برادری کی ذمہ داری ہے کہ ان کے قاتلوں کی کھوج کا ہراول دستہ بنے نا!
جب میں نے گھور کر دیکھا اور کہا کہ : یہ اپنے حصّے کا کام کر رہے ہیں-
تم چاہتے ہو سب سیاستدانوں کی بَلّی چڑھ جائیں جو بےحس اور بے کردار ہیں-
جن کی انسانیت عرصۂِ دراز سے مر چکی ہے اور دوسروں کے خون کے پیاسے ہیں-اور مہربانی فرما کر میرے آگے جذبات سے لُتھڑے بیان مت دو۰۰۰۰ معافئ!
کہنے لگا کل ایک دوست بتا رہا تھا ، جب ارشد شریف صاحب کی باتیں اور افسردگی چھائی تھی تو اُن کی دفتر میں ماحول جذباتی اور افسردہ تھا، تو ایک افسر کہنے لگا اپنے چپڑاسی کو : قدوس خان! میں بہت غمزدہ ہوں اور میرا دل چاہ رہا ہے خود کُش جیکٹ پہنا کر ابھی ابھی تمہیں نیروبی کے اُس پولیس اسٹیشن پہنچا دوں جنہوں نے ارشد شریف صاحب کو ٹارگٹ کیا، اور وہیں۰۰۰جاکر سب کو اُڑا کر رکھ دو۰۰۰
بے چارہ عبد القدوس بنوں کا سیدھا سادہ پٹھان ، نے اپنے افسر کی اَصلی کو نیت کو سمجھا بھی یا نہ۰۰۰۰
کہا: کُچھ بھی عبدالقدوس جیکٹ پہنے یا نہ پہنے ،سب معاملات ایک لاٹھی سے نہیں ہانکے جاتے ۰۰۰۰
سلجھانے کے لئے بڑا حوصلہ اور حکمت چاہیئے-
اب کئی سال بیت گئے ارشد شریف شہید انصاف مانگ رہا ہے اُس کا جگمگاتا چہرہ ابھی بھی دل میں گھونسے کی طرح پڑتا ہے
کیا ارشد شریف کو انصاف ملےگا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *