قصّے مسافرت کے
قسط نمبر3
پُر اسرار چیخ کے نام جو خاموش ماحول میں چونکا گئی
Shenandoah valley
کے“ونٹرگرین کے ” air bnb میں سب سے پہلے تو ہماری فیملی پہنچی لانبے درختوں کے جنگل میں گھرا یہ کشادہ وسیع گھربہت اچھا لگا اور فیملی کا اکٹھے رہنا بھی ایک خوشگوار تجربہ ہوتا ہے-
گُزشتہ سال ٹینسی اسٹیٹ کے مری جیسے پیارے شہر Gatlinburgمیں ائیربی این بی کا تجربہ چونکہ انتہائی دلچسپ اور شاندار رہا،تین اسٹیٹس سے آئے خاندان کے لوگ اکٹھے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ نفیس اور خوبصورت شخصیت کی مالک افروز بھی تھیں جو میری بہن کی پشاور یونیورسٹی کی فرینڈ ضرورہے پر ہمارے گھرانوں کے ایک دوسرے سے مراسم اتنے گہرے ہیں کہ وہ ہم سب کو اپنی ہی لگتی ہیں۔
لگا یوں ایک گھر پورا محلہ بس گیا پورا محلہ لیکن اس سال جولائی میں ٹینیسی سے ڈاکٹر امتیاز میرا بھائی , بھابھی بمع بہو و بیٹے کے، نیویارک سے تیمور بھائی , فرزانہ بہن اور ان بیٹا ارسلان میرا شہزادہ بھانجا اورورجینیا سے میرا بیٹا, بہو و پوتیاں میں اور کینڈا سے مہرالنساء( جو ہمارے پاس پہلے سے آئی ہوئی تھی )اور ٹینسی والوں نے نوگھنٹوں سے بھی زیادہ وقت کاسفر تھا, نیویارک والوں کا بھی سات گھنٹوں سے اوپر کا سفر تھا- ہمارا تقریباْ دوگھنٹوں کا سفر تھا –
وہاں پہنچ کے یہ ہدایت بھی پڑھی کہ رات کو داخلی دروازے اچھے طرح سے چیک کرلیں ایسا نہ ہو کوئی جنگلی جانور یا ریچھ آپ کے گھر میں گھس آئے۔
گھر کے داخلی دروازے کے علاوہ بھی دو اور دروازے تھے ہلکا ساخوف ذہن میں رہتا تھا کہ کہیں واقعی میں ریچھ گھر میں نہ گھس آئے لو جی جب سب سے پہلے ہم پہنچے ذیشان نے آن لائن ملے کوڈسے دروازہ کھولا تو نہایت اسٹائلش پتھروں اور لکڑی کے فنکارانہ انداز سے بنا یہ بڑا سا سجا سجایا گھر سامنے تھا ۔ میں نے ہاتھ لگا کر تسلی کی کہ ہیں پتھر کوئی کاسمیٹک استعمال تو نہیں- فسٹ فلور پر جو بڑا سا ماسٹر بیڈ روم تھا پسند آگیا کہ چلو ہم ماں بیٹی یہیں ٹِک جاتے ہیں، بہو رانی زینب نے چونکادینے والا انکشاف کیا کہ اس فلور پر بیڈ روم ایک ہے باقی تو یہ وسیع لِونگ ایریا اور ڈائنگ روم اور کچن باقی لانڈری ایک آفس ہے ، فرزانہ خالہ کی کمر دُکھتی ہے لہذا آپ اور مہرالنساء سکینڈ فلور کے بیڈروم میں براجمان ہوں اور اسی فلور پر جو دوسرا بیڈروم ہے وہ ڈاکٹر ماموں اور مامی کا اور میں اور ذیشان بمع بچوں کے بیسمینٹ کے بڑے ہال نما بیڈروم میں اور دوسرے میں زرک و رمشہ ، اور ارسلان ؟ میں نے پوچھا تو کہنے لگی کہ وہ تو وہ شاہی میٹریس بیڈ کے سائیڈ پر ڈال دی ہے بڑی دُل دریا ہے وہیں ماں باپ کے ساتھ رہے گا ۔ یہاں ہیڈ منتظمہ زینب اور مہرو اور رمشہ اسسٹنٹ کے روپ میں دوسرا سال ہے ان گھروں کی ہماری انتظامیہ تھی اور زرک نے بھی خوب ہاتھ بٹایا رات کا آخری آئٹم قہوہ بنانا اُسی کے ذمہ تھی۔
ویسے کھانے وغیرہ لگانے میں ذیشان بھی ہمراہ ہوتا تھا- پورا ہاتھ بٹاتا دونوں مُلیر پھوپھیر ڈاکٹر و انجینئر ہونگے اپنے شہروں کے یہاں بس برخورداری نبھانا تھی ۔ وہ تیسرا جوان ارسلان حمزہ وہ تو ورک فرام ہوم پر تھا – آفس کے کام کے ساتھ ساتھ ہمارے ساتھ گپ شپ کرتا لیکن کام میں مصروف رہتادوسرے دو چُھٹی پر تھے ۔ اچھا اب ذرا تیمور بھائی اور فرزانہ و ارسلان کی انٹری کی بابت بتاؤں جیسے یہ لوگ اندر آئے تو کھانوں کے ٹرے یوں یکے بعد دیگرے کچن کے کاؤنٹر جو بھرنے لگے گویا کوئی بڑا کھانا یا بوفے پارٹی ہو ۔
میں تو حیران سی دیکھتی رہ گئی،ذیشان کے مُنہ سے نکلا خالہ خالو ارسلان کا ولیمہ اُٹھا لائے ہیں ۔ وہ تو غنیمت تھا کہ فرج بہت بڑا تھا اور ساتھ میں دُل دریا فریزر ورنہ وہ کھانا ان منتظمہ خواتین سے سنبھلنےوالا نہ تھا-
وہاں اگر ہم سب تیرہ لوگ گھر سے باہر بھی نہ نکلتے اور آپس میں شغل میلہ جاری بھی رکھتے تو بھی وقت خوشگوار گُزرتا موسم اور ماحول ولوگ سب پسندیدہ تھے لیکن ہم سب نے آس پاس کی سڑکوں پر واک کی blue ridge ساتھ ہی حسین مناظر سے لدا پہاڑوں کے سلسلہ جُڑا یہ خاص پوائنٹ تو تصاویر لینے اور لُطف اندوز ہونے کے لئے بنا ہے ۔ اب وہاں دل بھر تصاویر بنائی گئیں-پتہ نہیں اچانک کیسے میری گردن اور کلائی دونوں کا مَسل ایسا کھینچا کہ میں نے اپنی چیخیں ضبط کرلیں پر پھر بھی چہرے پر آجاتا ہے – ڈاکٹر امتیاز نے فوراً ولٹرال جِیل (کریم )سے نرم نرم سامساج کلائی اور گردن پر کر دیا اور ڈاکٹر ذیشان نے گردن اور کمر پر گرم پانی سے ٹکورکردی پین کلر کھلائے گھنٹے تک طبیعت سنبھل گئی – تو سب جو فلم دیکھ رہے تھے – اُن کے ساتھ فلم دیکھی قہوہ پیا
پھر اگلے دن وہاں کی جنگل نما وادی جس میں جگہ جگہ ہرطرح کے درختوں کے جھنڈ تھے اُن کے بیچوں بیچ گھاس کے قطعات ، بار بی کیو کے انتظامات، ہر تھوڑے فاصلے پر پبلک Rest Rooms
پکنک سپاٹس کے ساتھ ساتھ کار پارکنگ کے لئے جگہ بنائی ہوئی تھی- تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پتھر کے بنچ لگے تھے- میں اور میری بھابھی جب چلتے چلتے تھک گئے تو آرام سے ایک بنچ پر بیٹھ گئے باقی قافلے کو آگے جانے دیا، دوبار تو زرک نے چکر لگائے کہ آپ لوگ تھک گئے ہیں تو گاڑی لائیں ہم نے صاف جواب دے دیا بھئی آپ لوگ دریاں کُرسیاں لگا کر بیٹھو بس ہم آجائیں گے وہاں ہم دونوں بیٹھے رَبّ کی قدرت اور خوبصورتیوں کے بہت سے حوالے ڈھونڈتے رہے ۔ ماحول کی خوب صورتی اور حسن کو اپنی روح میں سمیٹتے رہے ۔ شیننڈوا ویلی کے نظاروں کو اپنے اندر اُتارتے ہوئے سوچتی رہی کہ یہ ملک اس طرح کی سیاحتی مقامات سے کمانے کا حقدار ہے اُنھوں نے جو ترتیب و توازن اور سہولتیں ، ضمانتیں اور حفاظتیں فراہمُ کی ہیں ن کا حق بنتا ہے کہ اُن کو اور اُن کی جگہوں کو سراہا جائے ۔ ماہم اور مریم بھی ساتھ تھے – ایک جگہ بیٹھ کر ہم کسوٹی کسوٹی کھیلتے رہے۔ اُٹھ اُٹھ کر واک کرلیتے فرزانہ میری بہن نے تو آٹھ ہزار steps کر لئےتھے میرے تو ابھی بھی صرف تین ہزار ہوئے تھے۰
اب don’t care اور whatever کہنے والی ماہم کا گِلہ بھی نہیں بنتا وہ بھی چُپکے چپکے آتی ہے اور میرا ہاتھ پَکڑ کر اُس پر اپنے ریشم وموراکین جیسے نرم ہاتھ پھیرنے لگتی ہے تو دل میں کلیاں سی کھلنے لگتی ہیں ۔ اگلے دن گھر ہی میں تھے ہم سب بڑوں کا ٹولہ باہر لکڑی کا چبوترہ یا ڈیک پر بچھی آرام دہ کُرسیوں پر بیٹھے تھے باتوں سلسلہ جاری تھا اور جوان پارٹی ہمیں چائے کے ساتھ لوازمات پیش کررہی تھی-
اچانک ایک زور دار نسوانی چیخ فضا میں گونج اٗٹھی ، ہم سب چونک اُٹھے کیا ہوا؟
کا جواب کسی کے پاس نہ تھا اُسی وقت زرک نے اطلاع دی کہ ہم کچن کی کھڑکی کے شیشے سے پولیس وین اور پولیس کو دیکھا جو تفتیش اور تحقیق میں لگی ہے-
میرا ہاکستانی دل و دماغ اُکساتا رہا کہ چل میری بہن باہر چیخ کا ماجرا معلوم کر ، پر کسی نے ہمت نا بندھائی چیخ کی گونج کانوں میں ہی رہ گئی۔
